دعا اور محنت - محمد عامر خاکوانی

ایک بار لاہور کے مشہور صوفی بزرگ جناب سرفراز شاہ صاحب (میرے لیے ویسے وہ مرشد کا درجہ رکھتے ہیں) کا انٹرویو کیا۔ اس میں ایک سوال دعاؤں، وظیفوں کے حوالے سے بھی کیا گیا۔ شاہ صاحب نے اس سوال کا تفصیلی جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں دعاؤں اور وظائف پر ضرورت سے کچھ زیادہ زور دیا جانے لگا ہے، جس سے بےعملی پھیل رہی ہے۔ شاہ صاحب کے مطابق دعا کا درجہ دوسرے نمبر پر آتا ہے، پہلے نمبر پر محنت ہے۔ اس کی وضاحت انہوں نے سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے دی۔ کہنے لگے کہ غزوہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر بتا دیا کہ کیا طریقہ اپنانا چاہیے۔ مسلمانوں کو خطرہ لاحق ہوا تو انھوں نے مشرکین مکہ کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج تیار کی۔ بے سروسامانی کے باوجود جو کچھ اہتمام ہوسکا، کیا اور دلیری سے مقابلہ کے لیے نکلے۔ میدان جنگ میں بروقت پہنچ کر مشاورت کے بعد تکنیکی، سٹریٹیجکلی زیادہ بہتر پوزیشن پر قبضہ کر لیا، رات کو دشمن کے شب خون حملہ کے پیش نظر پہرے دار تعینات کیے اور پھر جب تمام مادی اسباب بروئے کار لائے جا سکے، جو کچھ ممکن تھا، وہ کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو مصلیٰ بچھایا اور شب بھر اللہ سے دعا مانگتے رہے۔ جو دعائیں مانگیں، ان کی تفصیل احادیث میں موجود ہے، وہ بڑی دلگداز اور دل کی انتہائی گہرائیوں سے مانگی گئی تھیں، ایسی جو دل کو چھو لیں۔

ہمارے لیے بھی یہی طریقہ اور اسلوب ہے۔ ہمارے بس میں جو کچھ ہے، وہ کر ڈالیں، اپنی تمام بہترین کوششوں کے بعد پھر اللہ کے آگے سرنڈر کر دیں اور رب تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم جو کچھ کر سکتے تھے، کر لیا، اب آپ ہی اسے قبول کریں، ہماری مدد کریں اور ہمارے حق میں اس معاملے کو بہترین طریقے سے حل کر دیں (نمٹا دیں)۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہوجائیں۔ یہ یقین رکھتے ہوئے کہ اس میں ہمارے لیے بہتری ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا اور صلہ رحمی - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

اس لیے یہ یاد رکھیں کہ جب یہ خاکسار یعنی عامر خاکوانی دعا کی بات کرتا ہے تو ایسا قطعی نہیں کہ محنت کو نظرانداز کرنے یا اسے ثانوی حیثیت دینے کی بات ہو رہی ہے یا صرف دعاؤں پر تکیہ کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ اپنی محنت اور کوشش کو سب کچھ نہ سمجھا جائے اور رب تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھتے ہوئے نصرت خداوندی مانگی جائے۔ اس یقین کے ساتھ کہ وہ ہمارے لیے بہتری فرمائے گا۔

دعاؤں کے نام پر چڑنے والے لوگ کئی قسم کے ہوسکتے ہیں، کچھ ایسے بھی ہوں گے جنھیں بے عملی پھیلنے اور صرف دعاؤں، وظیفوں سے کام کرنے کے ٹرینڈ میں اضافے کا خدشہ ہوگا، مگر بہرحال ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو سرے سے دعا قبول کرنے والی ہستی کا ہی منکر ہے۔ یہ حلقہ مادیت پسندی کے جنون میں اپنے خالق سے بھی انکار کر چکا ہے۔ ایسے لوگ دعا، قبولیت، رب تعالیٰ کی مدد اور دیگر تمام مابعدالطبعیاتی کاموں کے نام سے کسمسانے لگتے ہیں۔ بسا اوقات خوف فساد خلق سے یہ اعلانیہ اپنے عقیدے کا اظہار نہیں کر سکتے، اس لیے مختلف زاویوں سے دیگر اعتراضات داغ کر دلی سکون پاتے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ یہ صرف ایک خاص حلقے کی بات ہو رہی ہے، جو فکری طور پر رچرڈ ڈاکنس کے پیروکار ہیں اور ماڈرن کیپیٹلسٹ ایتھیسٹ بن چکے ہیں۔ ضروری نہیں کہ اس حوالے سے مختلف سوچ رکھنے والا ہر شخص وہی انتہائی رائے رکھتا ہو۔ ان کے علاوہ مذہب اور مذہبی علامتوں سے بیزار اور زندگی کو ایک خاص سیکولر عینک سے دیکھنے والے بھی یہ سوچ رکھتے ہیں۔

میرے جیسے لوگ جب خاص طور سے دعا کا ذکر کرتے اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں یا اپنی فتح اور کامیابی کو رب تعالیٰ کی خاص رحمت سے جوڑتے ہیں تو ہمارا مقصد بھی اس کامیابی کا کریڈٹ خود لینے سے گریز کرتے ہوئے اسے اپنے خالق حقیقی کی مہربانی سے جوڑنا ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے اپنے آپ کو ہٹانا، نیچے کرنا اور اپنے مالک ، آقا، خالق کو عظیم اور برتر ٹھیرانا ہے۔ جب انضمام الحق یا سرفراز احمد اپنی ہر فاتحانہ تقریرمیں سب سے پہلے اللہ برتر و عظیم کا شکر ادا کرتے ہیں تو دراصل یہ شکر ادا کرنے کا طریقہ ہے۔ جو اسے سراہتے ہیں ، وہ دراصل اسی خیال اور تصورکو پسند کر رہے ہوتے ہیں اور اس پر تنقید کرنے والے اس خیال اور تصور کو ناپسند۔

یہ بھی پڑھیں:   لائن کٹ چکی تھی - اسری غوری

فیس بک پر چلنے والے مختلف تھریڈ اتنے بھی سادہ اور عام نہیں ہیں، یہ مختلف خیالات اور سوچ کے غماز ہیں۔ یار لوگ اپنی سوچ کے مطابق سٹیٹس لکھتے اور کمنٹس کرتے ہیں اور ہم بھی سوچ سمجھ کر ان کی تائید یا تردید میں لکھتے ہیں۔ یہ سب سوچ کی مختلف لہریں ہیں، پڑھنے والوں کے لیے آسانی ہے کہ وہ جو مرضی رائے قائم کریں۔

ٹیگز

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں