لاؤڈ سپیکر سیکشن – حیات محمد کلامی

ٹریفک کی کان پھاڑ دینے والی آوازیں اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا تشویشناک مسئلہ لاؤڈ سپیکر بن چکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ٹریفک کے شور کو کان میں انگلی ٹھونس کر برداشت کیا جا سکتا ہے لاؤڈ سپیکر کے شورپر اسمبلیوں میں بھی آخر کیوں کر شور مچایا جاتا ہے؟ سیدھا سا جواب ہے اس وطن عزیز میں جس چیز کو متنازع بنانا ہو، اس میں تھوڑا بہت مذہبی عنصر شامل کیا جائے، ورنہ لاؤڈ سپیکر تو کھیلوں کے میدان اور شادیوں میں بھی گونجتا ہے۔

ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں لاؤڈ سپیکر پر پابندی سیکشن کی خبر سنتے ہی ‘لاحول ولاقوۃ’ کی آوازیں بلند ہونے لگی تھیں اور مشرف کے خلاف مولوی حضرات اپنی بساط کے مطابق مسجدوں میں فتوے بانٹتے رہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرف پر اب تک قتل اور غداری کے کئی مقدمات تو درج ہیں مگر لاؤڈ سپیکر مقدمہ ابھی تک کسی کی جانب سے درج نہیں ہوا اور نہ اس پر عدالت میں کسی قسم کا کیس زیر سماعت ہے۔

دو سال قبل ایک اسلامی جمہوریہ کے مختلف صوبوں میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ منظور ہوا۔ سندھ ساؤنڈ سسٹم ایکٹ، پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ وغیرہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے پولیس نے کراچی اور مختلف شہروں سے نہ صرف غیر ضروری لاؤڈسپیکرز اتارے، بلکہ کئی خطیبوں کو گرفتار بھی کیا۔اسلام آباد کی دو سو مساجد سے چار سو سے زیادہ لاؤڈ سپیکرز بھی اتارے گئے۔ مگر خیبر پختونخوا میں اس ایکٹ کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رکھا گیا۔ کیا خیبر پختونخوا ایک الگ اسلامی جمہوریہ ہے؟

حال ہی میں بھی نیشنل ایکشن پلان کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی سطح پر اس قسم کے ضابطہ اخلاق ترتیب دیے گئے۔ اذان اور جمعہ کے خطبے کے علاوہ لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی لگادی گئی مگر کئی مذہبی تنظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس ایکٹ کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال اس ایکٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے ایک رہنما نے بتایا تھا کہ ہم نے ایکٹ نہیں پڑھا مگر ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔

علماء کرام کا اختلاف صرف اس وجہ سے سامنے آتا ہے کہ رمضان المبارک کا چاند کچھ علماء کو چمکتا دمکتا نظر آتا ہے جبکہ کچھ علماء کو مطلع صاف نظر آتا ہے۔ جو مولوی نسوار لگاتا ہے وہ اسے حلال اور جو نسوار نہیں لگاتے وہ اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ جس مولوی کو ہماری طرح رت جگے کی عادت پڑی ہو، وہ لاؤڈ سپیکر کو مقدس ساؤنڈ سسٹم سمجھتا ہے اور جن کو گھوڑے بیچ کر سونے کی عادت ہو وہ رات کو لاؤڈ سپیکر کے استعمال کو قطاََ حرام قرار دیتے ہیں۔بس ” کل کر بات یہ ہے کہ” وطن عزیز جو ہر طرف سے مسائل میں جکڑا ہوا ہے اور منافرت اور اشتعال انگیزی جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے، اس کو ہوا “میں نا مانوں” کی پالیسی دے رہی ہے۔ویسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں “علماء کونسل ” نامی ایک ادارہ بھی ہے، مگر تفریق ہے کہ مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے؟

بہرحال، رات ڈھل چکی ہے، مجھے بھی نیند نے گھیر لیا ہے، اس لئے لاؤڈ سپیکر اور خراٹے میرے نزدیک قطعاً و صریحاً حرام ہیں۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam