عرب قطر تنازع اور سکیورٹی گارڈ امریکہ - میاں عتیق الرحمٰن

دولت کی فراوانی چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے منڈلانے کی جگہ ہوتی ہے۔ اس کی حفاظت کے لیے تگڑا بندوبست درکار ہوتا ہےورنہ اسے بڑی آسانی سے لوٹا جا سکتا ہے۔ خلیج عرب کے تمام عرب ممالک مسلم اکثریت پر مشتمل ہیں۔ تیل وگیس کی فراوانی نے انہیں دولت کا ڈھیر بنایا ہوا ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض کی ذمہ داری امریکہ نے اپنے سر لی ہوئی ہے۔ جدید وقدیم اسلحہ رکھنے والی ایک بااثر سکیورٹی کمپنی کا رول بخوبی نبھا رہا ہے۔ بدلے میں اچھی خاصی "تنخواہ" حاصل کر لیتا ہے جو ہزاروں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ اربوں اور کھربوں میں ہوتی ہے۔جب کبھی تنخواہ اس کی منشاء کے مطابق اور وقت پر نہ ملے تو وہ دھونس دھمکی سے بھی کام لے لیتا ہے اور اقتدار کے بھوکے کچھ مقامی لیڈروں کو لالچ کی گولی کھلا کر اپنے ساتھ ملا کر انقلاب بھی برپا کر لیتا ہے۔ اس کی اس خوبی کی وجہ سے ہر کوئی اسے وقت پر اور اس کی ڈیمانڈ کے مطابق تنخواہ دے دیتا ہے۔

دولت کا انبار رکھنے والی خلیج کی تمام عرب ریاستوں نے بھی اسے سکیورٹی گارڈ رکھا ہوا ہے، دنیا میں تھوڑی جگہ پر بہت زیادد دولت اسی جگہ واقع ہے، اس لئے یہاں سے وہ اچھی خاصی تنخواہ حاصل کرتا ہے۔ خلیج کی سب سے بڑی ریاست سعودی عرب ہے۔ ارد گرد کے اکثر ممالک نے اسے بڑا بنایا ہوا ہے۔ اس کے کچھ سالوں سے اپنے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ تعلقات مثالی نہیں تھے،جس کی وجہ سے گارڈ کو تنخواہ اس کی منشاء کے مطابق نہیں مل رہی تھی۔ جس پر اس نے اپنے نائیکوں کے سامنے کچھ باغیانہ طرز کا احتجاج کیا، جس میں انقلاب کی آنکھیں دکھانے، دہشت گردی کی دھمکی سےناک منہ چڑھانے اور بالآخر سکیورٹی گارڈ کی نوکری سے مستعفی ہونے کی دھمکی سمیت کئی طرح کی کیفیتیں ظاہر کیں۔ جس سے پرانا تعلق ہو اسے ایسے ہی چھوڑا بھی نہیں جاتا،اور جو اپنے نائیکوں کے مزاج اور کیفیت خوف کی سطح کو خوب سمجھنے والا ہو،اسے تو بالکل بھی نہیں چھوڑنا چاہیے، یہی سمجھداری ہوتی ہے۔

گارڈ کی ناراضگی اور ناک منہ چڑھانے میں، دبے لفظوں اس کے اپنے گھر میں ہونے والے کچھ واقعات کے بارے میں احتجاج اور بالجبر اپنے نائیک کو مورد الزام ٹھہرانے کا رونا دھونا تھا،جس پر نائیک کچھ پریشان ہوا اور بالآخر سکیورٹی گارڈ کا یہ انداز سمجھ گیا، جس پر اسے خوش کرنے کا منصوبہ بنایا اورروکی ہوئی ساری تنخواہ کے ساتھ اگلے لمبے عرصے کی ایڈوانس تنخواہ دینے کا اعلان کردیا۔ یہ موقع غنیمت جانتے ہوئے اس نے بڑے بھائی کی طرح امیرکبیر چھوٹے بھائیوں سے بھی ساری مراعات یکمشت نکلوانا چاہیں،جس کے لیے غور وفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ جیسے بڑے بھائی سے تھوڑا ناک منہ چڑھا کر اتنا کچھ ایک دم نکلوالیا ہے،اسی طرح چھوٹوں کو بھی وہی انداز دکھایا جائے تاکہ ان سے بھی کافی سارا ایڈوانس حاصل کر لیا جائے۔ اس کے لیے اس کی نظر سعودی عرب کے چھوٹے بھائی قطر کی جیب پر تھی،کیونکہ یہ تھا اگرچہ چھوٹا مگر امیر سب سے زیادہ تھا اور اپنے باقی بھائیوں سے کچھ زیادہ بنتی بھی نہیں تھی۔ اس لئے سکیورٹی کمپنی کا منتخب مالک ٹرمپ جب سعودی عرب سے بڑی رقم لے جا رہا تھا،تب اس نے جاتے ہوئے انہیں یہ کہہ دیا کہ قطر تمہارے ساتھ ٹھیک نہیں کر رہا،اگرچہ ہے وہ تمہارا بھائی ہے مگر وہ تمہیں برباد کرے گا۔

چالاک چوکیدار نے ترپ کا پتہ کھیل دیا۔ بڑا سوچ میں پڑھ گیا اور لازمی ہے کہ سوچ کے نتیجے میں چھوٹے کے بہت سے کارنامے بڑے کی آنکھوں میں گھومنے لگے ہوں گے۔ 2011ء میں عرب میں ایک تحریک چلی تھی،عرب بہار، اس کے دوران ’’ چھوڑ دو!‘‘ (ارحل) کے نعرے کو مقبول عام بنانے،اس کے ذریعے حکومتوں کے اتھل پتھل کے لئےخونی انقلاب کو بنیادیں فراہم کرنے،اور عوامی ترجمانی کے نام پر روپے پیسے دینے اور میڈیا کی سپورٹ مہیا کرنے، یمنی حوثیوں،سعودی باغیوں، کویتی انتہا پسند وں اور دسیوں مشترکہ فساد پسند وں اور کچھ مختلف فیہ دہشت گردوں کو پناہ دینے ایسے چھوٹے کے کارناموں کو ایک عالم جانتا ہے اور ان کے نقصان دہ اور پرخاش نتائج سامنے آنے میں کوئی زیادہ سال بھی نہیں لگے۔ حوثیوں کو پانچ جنگوں میں ختم ہونے سے بچانے، بڑے بھائی کے دشمنوں کے ساتھ روابط بڑھانے، اپنے سکیورٹی گارڈ امریکہ کے بظاہر مخالفین سے راہ ورسم بڑھانے، خطے کے ہر فساد پسند سے مضبوط اورامداد دینے والا تعلق قائم کرنےکو آزادانہ خارجہ پالیسی کا قابل فخر نتیجہ تو چھوٹا خود ہی بتاتا ہے۔

عرب بہار کے انقلاب کے متاثرین کی چیخیں آج بھی اس وقت کے اخبارات نکال کر سنی جا سکتی ہیں۔ لاکھوں لوگ اس عرب بہار کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔یہ جل تھل ایک چھوٹے سے ملک تیونس سے شروع ہوکر بڑے بڑے عرب ملکوں تک پھیل گئی تھی،لیبیا ئی سینہ عین حالت نزع میں بھی قطری ہاتھ پر بول اٹھا تھا کہ جو ہاتھ لیبیائی سینے کو سخت کھرونچ رہے ہیں، قطری ہاتھ انہیں ہی سہلا نے میں مگن ہیں۔ لیبیا اور تیونس کے نعرہ ارحل کے خون آلود اثرات کے کچھ عرصہ بعد پاکستان میں بھی اسی کی مترجم اصطلاح 'گونواز گو' ایجاد ہوئی اور بالکل عرب بہار کے خونی اور کفن شدہ حالات یہاں بھی پیدا کرنے کی منظم کوششیں ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کرتے رہو کام نوجوانوں پر! - وقاص احمد

بہر کیف یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چھوٹے نے بھی 1994ء سے اپنا سکیورٹی گارڈ امریکہ کو رکھا ہوا ہے، مگر ساتھ ہی اس نے ہر اس بندے،تنظیم اور ملک سے روابط بڑھائے ہیں جو اپنے ہی سکیورٹی گارڈ کے ساتھ نفرت اور دشمنی کا تعلق رکھتا ہے۔ اسامہ بن لادن کو اپنے قومی چینل کی کوریج، حزب اللہ اور داعش کی مالی امداد، طالبان کا دفتر، اور ایران وحماس سے تعاون نے اس شبہ کو جنم دیا کہ سکیورٹی گارڈ امریکہ اپنے دشمنوں کو بھی اپنے مفادات کی خاطر استعمال کر لیتا ہے اور چھوٹا اپنے گارڈ کے ایلچی کا رول کرتے ہوئے خطے کے باقی ممالک کے ساتھ ڈبل گیم کی کر رہا ہے۔ اگر تو ان سب سے تعلق واقعتاً جرات، بہادری، مسلم ہمدردی اورآزادانہ خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے تو لائق تحسین مگرتاریخی حقائق اور گارڈ کا اپنا ماضی اس کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف جاتے ہیں،یہی چیز کٹھ پتلی بنا کر اسے سخت مشکوک بنا دیتی ہے، لیکن اس بات کے غلط اور درست ہونے کا تعین وقت کرے گا،ابھی کوئی حتمی بات شاید ممکن نہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ سکیورٹی گارڈ امریکہ اپنے دشمنوں کے ساتھ کسی دشمن کے درکنار، دوست کے بھی رواسم برداشت نہیں کرتا۔ شمالی کوریا کی حالیہ مثال سامنے ہے، جب روس کے ساتھ دشمنی کا سخت دور چل رہا تھا، تب اس نے یوگو سلاویہ کو ختم کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائی تھی،منٹوں میں ایک بڑی طاقت کے سارے جہاز اور جنگی سامان کو تباہ وبرباد کر دیا تھا۔ 1990 ء چین یوگوسلاویہ کا بہت بڑا اور سرگرم حامی تھا، چینی حکام نے امریکی حملے پر شدید اعتراضات اٹھائے تو امریکی فوج نے یوگوسلاویہ میں کئی منزلہ عمارت کے درمیان میں واقع چینی سفارتخانے پر بھی میزائل برسا کر عملے کے ارکان سمیت کئی لوگوں کو مار دیا تھا اور بعد میں معذرت کرتے ہوئے اسے فرینڈلی فائر قرار دےیدیا تھا۔

صدر فیدل کاسترو نے 1962 میں روس کو اپنے ملک میں ایٹمی میزائل نصب کرنے اجازت دیدی تھی،جس کی پاداش میں امریکہ نے اس پر درجنوں حملے کروائے تھے مگر خوش قسمتی کہ وہ ہر بار بچ جاتے۔ بالآخر جب فیدل کاسترو نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کروادی کہ وہ روس سے معاہدہ نہیں کرے گا تو ان کی جان بخشی ہوئی تھی،مگر قطر میں اس کی 20 ہزار فوج ہونے کے باوجود اس پر ذرہ برابر اثر انداز نہ ہونا اس بات کو یقینی بنا دیتا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔اسی طرح امریکہ بہادر کا یہی فراخدلانہ رویہ ایران کے ساتھ بھی ہےکہ اس کی سخت دشمنی کے باوجود اس کے ساتھ برداشت کا رویہ اور خطے کے تمام امریکہ گردی کا شکار ممالک میں اس کا امریکہ کے پیچھے پیچھے آدھمکنا اور اپنی حمایت یافتہ حکومت بنوادینا ساز باز، دھوکہ دہی اور خطے میں تناؤ کی کیفیت برقرار رکھنے کی ہی کوشش ہوتی ہے۔اس بے چینی کی کیفیت کو دولت سے پر خطے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے اور اپنا اسلحہ بیچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ایسے میں کوئی آلہ کار یا ایلچی کا کردار ادا کرتے ہوئے ہمسایوں کو نقصان پہنچائے تو اس سے بچاؤ کے لیے کچھ نہ کچھ کیا جانا توضروری ہے۔

مضبوط قرائن اگرچہ ثبوت نہیں ہوتے مگر ثبوت کے قریب تر ضرور ہوتے ہیں،جب کردار کے مشکوک ہونے کے قرائن پکے ہوں تو صفائی دینے اور کردار کی سچائی ثابت کرنے کے لیے ثبوت درکار ہوتے ہیں ورنہ قرائن کی بنیاد شک سے یقین میں بدل جاتی ہے،قطر نے ایک ہی وقت سعودی قیادت میں فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تو دوسری جانب ایران سے روابط بڑھائے اور یمن میں سعودی دشمن اور ایرانی نواز حوثی باغیوں کو بھی خوش رکھا، یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان ہونے والی صعدہ کی چھ مشہور جنگوں میں ہر بارحوثی ختم ہونے کو تھے مگر سابق امیر قطر صلح صفائی کے نام پر درمیان میں آتے، اور باغیوں اور حکومت دونوں کو مراعات اور پیسے کا لالچ دیکر حوثیوں کو محفوظ راستہ دلواتے اور منظم ہونے کا وقت دلا دیتے۔ صعدہ صوبے کے شمال میں مطرہ کے پہاڑی علاقے میں حوثی باغیوں کا آخری ٹھکانہ باقی رہ گیا تھا کہ جب قطر کی ثالثی کے نتیجے میں حوثیوں کودوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔ موجودہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی بھی اس وقت مطرۃ ہی کے مقام پر روپوش تھے، اس کا والد بدرالدین الحوثی اور چچا عبدالکریم الحوثی عارضی طور پر دوحہ میں مقیم تھے۔ قطر نے باغیوں اور فوج کےدرمیان سمجھوتہ کے نام پر دونوں کو مالی مدد بھی فراہم کی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے منصوبے بھی شروع کرکے انہیں دوبارہ منظم اور مضبوط ہوکیا۔ قطر حقیقی معنوں میں ہربار مشکل میں گھرے حوثیوں کو ثالثی میں پڑ ھ کر بچالیتا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد انہیں دوبارہ منظم ہونے کے لیے خود اور ایران سمیت دوسری قوتوں سے وافر خوراک دلواتا، ایسے اقدامات اور ان کے نتائج باقی عرب اور بالخصوص سعودی عرب کے لیے مسلسل خطر ناک ہوتے جا رہے تھے۔جس کا کوئی نہ کوئی سد باب ضروری تھا،جس کے لیے پہلے سعودیہ نے عاصفۃ الحزم شروع کیا اور پھر اسلامی اتحاد تشکیل دیا اور بالآخر پشتی بانوں پر بھی سختی کے اقدامات کئے تاکہ وہ اپنے ضرر رساں اقدامات سے باز رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آل سعود کے لیے بصیرت کی دعا - یاسر محمود آرائیں

خونی انقلاب کے اثرات کا شکار خلیج کی اکثر ریاستیں بے چین اور خوف کا شکار ہیں،سب کو اپنے بقا کی فکر لاحق ہے مگر خطے میں قطر وہ واحد ملک ہے جو گذشتہ تیس سال میں صرف دو مرتبہ دہشت گردی کانشانہ بنا ہے۔ 2005ء میں دوحہ میں برطانوی اسکول پر حملہ اور 2004ءمیں چیچن حزب اختلاف کے رہ نما سلیم خان یندر بائیوف کا دوحہ کی شاہراہ پر قتل کے علاوہ کوئی قابل ذکرواقعہ نہیں ہے۔اپنے ہاں امن کو برقرار رکھنا ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے مگر اس کے ہمسایہ ممالک اس کے کردار کے پیش نظر اس شک میں مبتلا ہیں کہ قطر نے اپنا امن ہماری قیمت پر حاصل کیا ہے،اور اس کے اس اقدام نے اسے تو محفوظ بنادیا لیکن ہمیں غیر محفوظ اور دہشت زدہ کر دیا ہے۔یہ دعویٰ کہاں تک سچ ہے فی الوقت تو اس پر کوئی ٹھوس دلیل نہیں البتہ قطری حکومت کا اپنے ہاں امن برقرار رکھنا لائق تحسین ہے لیکن اگر یہی امن ہمسایوں یا دیگر بھائیوں کی قیمت پر کیاجاتا ہے تو نہایت قابل مذمت اور نہایت افسوسناک امر ہے۔

قطر سعودی تناؤ کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صدر صدام امریکہ کے بہت اچھے دوست تھے اور انہیں ایک با اختیارآمر بنانے میں امریکہ نے بڑا کردار ادا کیا تھا،لیکن پھر اس نے صدام کو ابھار کر کویت پر چڑھائی کروادی اور سعودیہ کی دعوت پر کویت کی طرف سے خود ہی عراق پر چڑھ دوڑا، یوں امیر عربوں کو اپنے اسلحہ کی منڈی بنا لیا اور ان کا مستقل سکیورٹی گارڈ بن بیٹھا،لیکن 2003ء میں صدر صدام کا اقتدار ختم ہوا، امریکی فوج کو سعودیہ سے جانا پڑا،اب وہ پہلے جیسی اجرت بھی باقی نہ رہی تھی۔پہلے جیسی صورتحال پیدا کرنے کے لیے قطر وسعودیہ میں آگ سلگانے کی چال چلی گئی لیکن آفرین ہے قطر وسعودیہ دونوں پر کہ اس حوالے سے سمجھدار نکلے، پابندیاں لگائی گئیں اور سہی بھی جارہی ہیں لیکن عراق کویت ایسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی گئی۔

جہاں تک خلیجی ریاستوں کے سفارتی تعلقات کے خاتمے کا تعلق ہے تو وہ بائیکاٹ صرف بائیکاٹ ہے محاصرہ نہیں۔ کیونکہ بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قطری حکام کو صرف اپنی راہداریوں کو استعمال کرنے سے روکا ہے۔ ان کے ہاں دوحہ کے حکام عرب حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے بہت کچھ کرتے رہے ہیں، یہ اس کے مقابلے میں صرف سمجھانے کا ایک مہذب او ر تادیبی طریقہ ہے۔یہ بائیکاٹ قطر پر مالی، اخلاقی اور سیاسی اثرات مرتب کر ے گا اور اسے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی اور اپنے کردار میں شفافیت پیدا کرنے پر مجبور کرے گا،اور اس سے قطر کو بھی فائدہ پہنچے گا اور دوسرے بردار ممالک بھی مطمئن ہونگے،فی الوقت، اس بائیکاٹ سے قطر متاثر ہو رہا ہے، قطر ائیرویز متاثر ہو رہی ہے۔اس کے طیاروں کو منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے مسافت بہت بڑھ گئی ہے، صرف سعودی عرب کے لیے قطر ائیر ویز کی 1200 پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ان پروازوں کے ذریعے ہر ماہ اڑھائی لاکھ سعودی عرب کے مسافر سفر کرتے تھے، جبکہ سعودی عرب کی فضائی کمپنی کی قطر کے لیے ہرماہ پروازوں کی تعداد صرف 120 تھی۔اس سے صرف سعودی عرب کو قطری فلائٹوں سے ہی بڑے خسارہ ہوتا تھا، جس کہ وہ اب باہر نکلے گا اور اسی طرح دوحہ کے خلاف عائدسخت زمینی، فضائی اور سمندری پابندیوں کا جی سی سی کی مجموعی معیشت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا، تاہم ان سے قطر کی معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔ 2016ء کے دوران خلیجی ملکوں کے ساتھ قطر کا تجارتی حجم 11ارب ڈالرز تھا۔ یہ حجم قطر کی عرب ملکوں سے تجارت کا 86 فیصد جبکہ عالمی ٹریڈ کا 12 فیصد حصہ بنتا ہے۔قطر کی متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین کے ساتھ مجموعی تجارت کا حجم 85 فیصد ہے جبکہ سلطنت آف عمان اور کویت کے ساتھ دوحہ کی تجارت کا حجم 15 فیصد ہے۔ قطر کے برآمدی شعبہ کو ان پابندیوں سے سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ قطر کی عرب دنیا کے ساتھ برآمدی تجارت کا حجم 80 فیصد جبکہ صرف تین جی سی سی رکن ملکوں کے ساتھ 86 فیصد ہے جبکہ کویت اور عمان کے ساتھ دوحہ کی برآمدی تجارت کا حجم صرف 14 فیصد ہے۔اس کے مقابلے میں قطر کو سعودی عرب اور دیگر خلیج ملکوں سے سوائے خوراک اور زمینی راستے کہ کچھ بھی امپورٹ نہیں کرنا پڑتا جس سے یہ سارا خسارہ ان کے حصے اور قطر کے منافع میں جاتاہے،جس صاف ظاہر ہے کہ سعودی عرب اور دیر ملکوں نے قطر پر لگائی گئی پابندیاں انہیں قطر سے تجارتی خسارے سے بچائیں گی اور اس کی لائف لائن کو دباؤ میں لاکر مسئلہ کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے مفید اور کار آمد ہونگی۔خلیج کے معاملے کا جلد اور مستقل حل خطے کے لیے پائیدار امن، استحکام اور باہمی اعتماد کی فضا کو پروان چڑھائے گا،جس سے ساری دنیا کے لیے خیر ہوگی اور قطر بھی اس خیر میں شامل ہوگا۔