کسان تحریک: کھیتیاں، میدان، خاموشی اور غروب آفتاب! ڈاکٹر سلیم خان

چاند پہ بیٹھی بڑھیا نانی صدیوں سے چرکھا کات رہی ہیں اور اس کا ناخلف بیٹا چندا ماما سوت کو بیچ کر کھا رہا ہے۔ ہمارے کسانوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ برسوں سے فصل اگا رہے ہیں اور ان کی محنت ومشقت پر سیاستداں اپنے اقتدار کی روٹیاں سینکنے میں مست ہیں ۔ سیاستدانوں کو جب ضرورت ہوتی ہے تو وہ ان کو نت نئے وعدے کرکے ووٹ لے لیتے ہیں مگر جب کسان ان وعدوں کی یاددہانی کرنے کے لئے سڑکوں پر اترتے ہیں تو ان کو گولیاں سے بھون دیا جاتا ہے اور پھر پوچھا جاتاگولیاں کس نے چلائیں ؟

جبکہ صوبے کا وزیرداخلہ اعتراف کرچکا ہے کہ گولیاں پولس نے چلائی تھیں ۔ کسانوں کا قاتل وزیراعلیٰ ستیہ گرہ کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ خود مہلوکین کی مزاج پرسی کے لیے جانے کے بجائے پسماندگان کو اپنے پنڈال میں بلا کر ٹیلویژن کیمرے کے سامنے مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے، حالانکہ سرکاری گولیوں سے ہونے والی موت کے لیے وزیراعلیٰ خود ذمہ دار ہے۔ یہ ہے مندسور سے اٹھنے والی کسان تحریک کی دکھ بھری داستان کا خلاصہ جس میں اپنا حق مانگنے کے لیے نکلنے والے6 کسانوں کو سرمایہ داری نے لقمۂ اجل بنالیا۔ بقول جوش ملیح آبادی؎ ایک دل اور یہ ہجوم سوگواری ہائے ہائے یہ ستم اے سنگ دل سرمایہ داری ہائے ہائے ظلم اور اتنا کوئی حد بھی ہے اس طوفان کی بوٹیاں ہیں تیرے جبڑوں میں غریب انسان کی وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ نے بھوک ہڑتال یہ کہہ کر شروع کی کہ جب تک امن بحال نہیں ہوجاتا یہ جاری رہے گی حالانکہ جب اس ناٹک کا آغاز ہوا تشدد کے واقعات بند ہوچکے تھے۔ شیوراج چوہان کو خوف رہا ہوگا کہ کہیں اس کا بہانہ بناکر مودی جی ان کی چھٹی نہ کردیں اور اپنے منظور نظر وجئے ورگیہ کو مدھیہ پردیش کا وزیراعلیٰ نہ بنادیں اس لیے یہ ستیہ گرہ کسانوں کے تحفظ کی خاطر نہیں بلکہ اپنی کرسی بچانے کے لیے تھی۔ اس طرح کا ڈرامہ وہ اس سے قبل دوبار کرچکے ہیں لیکن اس وقت ان کا نشانہ مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی ۔ اس بار چونکہ مرکز میں خود ان کی اپنی جماعت برسراقتدار ہے اس لیے مقامی کانگریسیوں کو شیطان اور حیوان قرار دے کر ان پر سارا الزام تھوپ دیا گیا۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ اگر بی جے پی احتجاج کرے تو وہ بھگوان ہے اور حزب اختلاف یہی کرے تووہ شیطان ہے۔ اگر کانگریس گولی چلوائے تو وہ حیوان اور بی جے پی اس کے احکامات صادر کرے تو وہ مہربان۔ عوام کو سوچنا چاہیے کہ آخر یہ منافقت کا کھیل کب تک چلے گا ؟ چوہان کے 28 گھنٹوں کی بھوک ہڑتال کا کسانوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا مگرپارٹی اندر ان کے سارے مخالفین نے سپرڈال دی اور کرسی پر منڈلانے والا خطرہ ٹل گیا۔ وزیراعلیٰ شیوراج چوہان خود کو کسان کا بیٹا کہتے ہیں اس لیے کہ خود سیاست کی کھیتی کرتے ہیں ۔ 2011 میں جب اروند کیجریوال دہلی میں مہنگی بجلی اور پانی کےخلاف کانگریس سے برسرِ پیکار تھے اچانک شیوراج چوہان کو بھی جوش آگیا۔ اس وقت کسانوں کے مسائل کو لے کرچوہان پر کانگریس کا اچھا خاصہ دباو تھا ایسے میں وزیراعلیٰ نے کسانوں کی خستہ حالی کا الزام مرکز کی حکومت پر منڈھ دیا اور اسی دسہرہ میدان پر ستیہ گرہ کا اعلان کردیا جس پر وہ اس بار بیٹھے تھے۔ بھوک ہڑتا ل پر بیٹھنے کے چند منٹوں کے اندر کانگریس کی مرکزی حکومت نے مدد کی یقین دہانی کروادی اور وہ ستیہ گرہ ختم ہوگئی۔ قومی انتخاب سے ٹھیک ایک ماہ قبل 2014 میں چوہان نےمرکزی حکومت پرمدھیہ پردیش کے ساتھ امتیازی سلوک کاا لزام لگا کر دوسری بھوک ہڑتال کی ۔ اس کے جواب میں مرکز نے500 کروڈ کی امداد دے دی مگر اس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ نے لے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی 29 میں سے 27 نشستوں پر کامیاب ہوگئی ۔ وزیراعلیٰ چوہان کو اس بار مرکزی حکومت کی یاد نہیں آئی جبکہ بی جے پی کے وزیرخزانہ نے کسانوں کے قرض معافی سے اپنا پلہّ جھاڑ لیا ہے۔ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ جو ریاستی حکومتیں قرض معافی کا اعلان کررہی ہیں وہ اس کے لیے سرمایہ کا بندو بست خود کریں جبکہ قرض معافی کا اعلان خود بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ کررہے ہیں ۔ یہ کسانوں کی ہمدردی میں ٹسوے بنانے والی سرکار کا حال ؟ اس سفاکی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسانوں کا پیٹ کاٹ کر ان کا قرض معاف کیا جائیگا اور وہ خودکشی کے بجائے بھکمری کا شکار ہوگا۔ چوہان کا حال یہ ہے کہ بڑی مشکل سے وہ خود11 دنوں کے بعد مندسور جانے کی ہمت جٹا پائے اور جب پہنچے بھی تو مرنے والے گھنشیام کے باپ نے صاف کہہ دیا ہمیں امداد یا نوکری کا جھانسہ مت دو بلکہ مجرم کو سزا دو۔ گھنشیام کی بیوی بولی آپ سی ایم ہوکر گولی چلانے کا حکم دیتے ہیں ؟ یہ سن کر چوہان کی زبان گنگ ہوگئی ۔ مضمون: کیا تین طلاق پر پابندی سے نا انصافی ختم ہو جایے گی؟ اس دوران چوہان خود تو بھوپال میں نوٹنکی کرتے رہے مگر دوسرے رہنماوں کو مندسور کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ 8 جون کو راہل گاندھی کے راستے میں کئی رکاوٹیں پیدا کیں اور بالآخر انہیں گرفتار کرلیا۔ مدھیہ پردیش کے کانگریسی رکن پارلیمان جیوترمیہ سندھیا کو جب روکا گیا تو انہوں نے سوال کیا ملک کے ایک عام شہری کو دوسرے کی تعزیت کرنے کی تک اجازت نہیں ہے؟ سندھیا نے اب بھوپال میں احتجاجاً 72 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہاردک پٹیل نے مندسور جانے کے لیے راجستھا ن کاراستہ چنا مگر انہیں بھی روک دیا گیا پٹیل نے کہا میں دہشت گرد نہیں بلکہ اس ملک کا شہری ہوں جسے ہر جگہ جانے کی آزادی ہے۔ شیوراج چوہان کومعلوم ہونا چاہیے کہ یہ مسائل پکڑ دھکڑ سے حل نہیں ہوتے ۔ کسانوں پر گولی چلانے کا معاملہ تو انہوں نے کسی طرح رفع دفع کردیا لیکن اس ایک ہفتے کے اندر ریاست میں ۵ کسان خودکشی کرچکے ہیں ۔ اب اس کا الزام کس شیطان یا حیوان پر لگائیں گے سچ تو یہ ہے اس شیطانیت اورحیوانیت کے لئے ان کی صوبائی حکومت اوربے حس مرکز ی حکومت ذمہ دار ہے۔ کسانوں کے احتجاج کو شتر مرغ کی مانند اکسانے اور بھڑکانے سے منسوب کرنے کے بجائے اس کی بنیادی وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ نوٹ بندی کی حماقت بھی ہے ۔ وزیراعظم نے روروکر 50 دن کا وقت مانگا تھا جو 29 دسمبر کو پورا گیا۔ اب تو اس کو 200 سے زیادہ دن ہوچکے ہیں لیکن بنکوں میں اب بھی 30 فیصد نوٹ کم ہیں اور اے ٹی ایم مشینوں میں ضرورت کے مقابلے 65 فیصد رقم مہیا ہے ۔ حکومت یہ کہہ کر نئے نوٹ نہیں چھاپ رہی کہ اب لوگوں نے نقدی کے بجائے چیک کا استعمال شروع کردیا ہے لیکن وہ نہیں جانتی کہ اس کے سبب عام کسان کن مصائب میں گرفتار ہوگیا ہے۔ وہ جب اناج بیوپاری کو فروخت کرتا ہے تو اسے نقد قیمت کے بجائے چیک پکڑا دیا جاتا ہے جسے پاس ہونے میں 20 دن لگ جاتے ہیں ۔ بیس دن کے بعد روپئے تو اس کے کھاتے میں آجاتے ہیں لیکن بنک کے پاس کسان کو ادائیگی کے لیے نوٹ نہیں ہوتے اس لیے کہ بنک والوں کی ترجیحات میں کسان نہیں بلکہ سرمایہ دار شامل ہیں ۔کسان نے چونکہ 2 فیصد ماہانہ کے سود پر مہاجن سے قرض لے رکھا ہوتا ہے اس لیے تاخیر کے سبب 2 فیصد کا خسارہ ہوجاتا ہے۔وہ اگر شادی بیاہ یا موت و بیماری کے سبب نقد پر اصرار کرے تو بیوپاری 2 فیصد کم کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مندسور میں کسانوں نے بیوپاریوں کے گوداموں کو پھونک دیا ۔ حکومت کی ناعاقبت اندیشی نےکسانوں اور بیوپاریوں کی صدیوں پرانے اعتماد کو ڈھا دیا ۔ قرضوں کی معافی اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ 2008 میں منموہن سرکار نے 70 ہزار کروڈزراعتی قرض معاف کردیا تھا لیکن اب پھر وہ کئی لاکھ کروڈ تک پہنچ چکا ہے سوال یہ ہے کہ آخر کسان اچھی فصل کے باوجود قرض لینے پر کیوں مجبور ہوتا ہے؟ یہی قرض بالآخر اس کو خودکشی کی گہری کھائی میں ڈھکیل دیتا ہے۔ اس سال اچھی بارش کے باوجود ابھی تک مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ میں 400 کسان خودکشی کرچکے ہیں ۔ حکومتِ مہاراشٹر پر فی الحال حزب اختلاف کے علاوہ اپنی حلیف شیوسینا کا دباو ہے ۔ اس لیے کسانوں کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے اول تو اس نے غریب کسانوں کا قرض معاف کردیا جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے پر 35000 ہزار کروڈ کا اضافی دباو پڑتا تھا لیکن بات نہیں بنی تو سارےزراعتی قرضوں کی معافی پر راضی ہوگئی جس کے نتیجے میں 14ء1 لاکھ کروڈ کا روپئے کی رقم آخر کہاں سے آئیگی؟ مہاراشٹر کا بجٹ ویسے ہی 11ء45 کروڈ خسارے میں ہے اور مرکزی حکومت نے ہاتھ کھینچ لیے ہیں ۔ معروف صحافی کمار کیتکر کا خیال ہے کہ اس کے نتیجے میں ریاست کے اندر وہ معاشی بحران پیدا ہوگا کہ اس کے بعد بی جے پی 100 نشستوں پر بھی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ مضمون: جوانوں کی شہادت پر بدلی زبان: کیا حکومت کو دباؤ میں آنا چاہئے؟ یہ سارا مسئلہ دراصل وزیراعظم نریندر مودی کا پیدا کردہ ہے۔ اترپردیش کے کسانوں کو لبھانے کی خاطر انہوں نے اعلان کیا کہ اترپردیش میں ان کی سرکار اقتدار میں آتے ہی کسانوں کا قرض معاف کردے گی اور ادیتیہ ناتھ کی حکومت نے مختلف شرائط کے ساتھ اپنا وعدہ تو پورا کردیا لیکن اس سے ملک بھر کے کسانوں نے یہی مطالبہ شروع کردیا اور بھرپور فصل کے باوجودکثیر تعداد میں کسان اس امید میں قرض نہیں لوٹا رہے ہیں کہ مبادہ یہ معاف ہی ہوجائے۔ کسانوں کی حالت اس قدر سنگین ہے کہ خود آرایس ایس کی بھارتیہ کسان سنگھ بھی اپنی حکومت کے خلاف میدان میں اترنے کے لیے مجبور گئی ہے۔ ملک کے عام کسانوں اور خاص طور پر مدھیہ پردیش کےمسائل مندرجہ ذیل ہیں : حکومت کے خزانے میں کسانوں کی فصل خریدنے کے لیے خاطر خواہ رقم نہیں ہے۔ کسانوں کو موسم باراں کے پیش نظر بیج اور کھاد خریدنے کےلیے فوری رقم درکار ہے لیکن حکومتی انتظامیہ اناج خریدنے میں ناکام رہا ہے۔ اپنی فصل کی کم ازکم طے شدہ قیمت بازار سے انہیں مل نہیں پارہی ہے۔ منڈی میں کم بھاو پراناج بیچنے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس سال ملک کےاندر ارہر کی خوب پیداوار ہوئی اس کے باوجود حکومت نے اس کی بڑی مقداردرآمد کرکے بازاربھاو خراب کردیا۔ مونگ دال کو تیسری فصل قرار دے کر اس کو تجارتی نرخ کے زمرے میں ڈال دیا جس سے کسان استحصال کا شکار ہوگئے۔ بی جے پی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ نافذ کرے گی جس کے مطابق فصل کی لاگت پر ۵۰ فیصد کے منافع کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن وہ اس سے مکر گئی۔ حکومت نے کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا خواب بھی دکھلایا تھا جبکہ اس کی تعبیر الٹ گئی ۔حالیہ احتجاج وتشدد ان اسباب کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی ،مایوسی اور غم و غصہ کا اظہار ہے۔ کسانوں کے مسائل کی جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے حکومت کبھی دہشت گردی کا بہانہ بناکر انکاونٹر میں لگ جاتی ہے تو کبھی گائے کی آگ بھڑکا کر فرقہ پرستی پھیلاتی ہے۔ کسان رہنماوں کا خیال ہے حکومت کی عدم دلچسپی نے کسانوں کو بھکاری بنادیا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اس پیشے میں لانا نہیں چاہتے۔ کسانوں کی اولاد جب تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر شہر میں ملازمت کے لیے جاتی ہے تو ان کو ملازمت نہیں ملتی ۔ مودی جی نےہر سال دوکروڈ نئی نوکریوں کے مواقع کا جھانسا دیا تھا مگراس میدان میں وہ بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس مایوس کن صورتحال سے پریشان نوجوان احتجاج پر اتر آیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت ڈرامہ بازی بند کرے اور عوام کی فلاح بہبود کی جانب توجہ دے ورنہ ٹیلیویژن کے یہ ہیرو دیکھتے دیکھتے زیرو ہوجائیں گے۔ فی الحال ملک کی دگرگوں صورتحال کا بیان کسی شاعر نے کیا خوب کیا ہے؎

اقبال ! ترے دیس کا کیا حال سناوں

دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاوں

ملتا ہے کہاں خوشہءگندم کہ جلاوں

شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا

کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاوں

اقبال ! ترے دیس کا کیا حال سناوں