کھیل اور جمہوریت- خورشید ندیم

مذہب، سیاست،ریاست، ہرشے کو کھیل بنا دیا گیا اور کھیل کو جنگ۔نتیجہ ایک ہے:ایک مضطرب اور پرہیجان معاشرہ۔
میڈیا ہر میچ کو ایسے پیش کرتا ہے جیسے ممالک کے مابین ایک بڑاجنگی معرکہ برپا ہونے کو ہے۔لفظوں کاانتخاب جنگی لغت سے کیا جاتا ہے۔معرکہ ،ہتھیار،وار۔۔۔ آ دمی حیرت سے سوچتا ہے کہ کھیل انسان کی نفسیاتی تشکیل کا ایک ہنر ہے۔یہ صبر سکھاتا ہے۔یہ ہار کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کر تا ہے۔یہ ان حقائق کو قبول کرنے کی اہلیت پیدا کرتاہے جو کسی کی خواہشات کے بر خلاف بھی ہوسکتے ہیں۔ اب مگر یہ ہیجان کا نام ہے، بے صبری کی دعوت ہے۔دوسرے کو چیر پھاڑ دینے کی بات ہے۔
کھیل اب سفارت کاری کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔اس سے اقوام کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا تا ہے۔کشیدگی کو کم کرنا ہو تو کھیل کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔کھلاڑی فنکاروں کی طرح امن کے سفیر شمار ہوتے ہیں۔یہ کہا جاتا ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔بھارت کی فلمیں اور اداکار پاکستان میں اپنی فنی مہارت کی وجہ سے پسند کیے جاتے ہیں۔اسی طرح ایک دور میںپاکستان کے کرکٹربھارت میں بہت مقبول تھے جیسے عمران خان۔ان کی مقبولیت کا سبب ان کا فنی کمال تھا۔اگر کوئی بھارتی عمران کو پسند کرتا تھا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کی حب الوطنی کمزور تھی۔یہ ان کی بطور کھلاڑی عظمت کا اعتراف تھا۔آج پاکستان اور بھارت کی حدتک معاملہ یہ نہیں رہا ۔ کر کٹ اب جنگ ہے۔
ایسا کیوں ہوا؟اس کی سب سے بڑی وجہ سرمایہ دارانہ معیشت ہے۔ کھیل اب سرمایہ دارانہ نظامِِ معیشت کا ایک حربہ ہے۔یہ نفع کمانے کا ایک ہتھیار ہے۔اب میڈیا کے ذریعے ایک ہیجان بر پا کیا جا تا ہے۔ پاکستان اوربھارت میں ایک بڑی مارکیٹ کو متحرک کیا جاتا ہے۔طوفان تھمتا ہے تو منافع سرمایہ دار کے کھاتے میں جا تا ہے اورنفرتیں پاکستان بھارت کے عوام کے حصے میں آتی ہیں۔یہ سرمایہ دار کا کمال ہے کہ کھیل جوصبر اور حوصلہ پیدا کرتا ہے،اس نے اسے بے صبری اور ہیجان کا ذریعہ بنا دیا۔وہ یہ کام مذہب کے ساتھ بھی کر چکا ہے۔ تزکیہ نفس کا عمل اب جنسِ بازار ہے۔نفع کمانے کا ذریعہ۔
کچھ لوگ یہ کام شعوری سطح پر کر رہے ہیں۔ہم بہت کچھ غیر شعوری سطح پر بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ان کے کچھ ایسے نتائج سامنے آتے ہیں جو لوگوں کے حاشیئہ خیال میں بھی نہیں ہوتے۔اس کی ایک مثال ہمارے اہلِ مذہب و سیاست ہیں۔وہ اپنے مخالفین کے لیے جو لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں ،ان کا نتیجہ انتہا پسندی کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو سکتا۔آج ہی میں نے طاہر القادری صاحب کا بیان پڑھا کہ حکمران درندے ہیں۔یہی قادری صاحب انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف فتویٰ دے چکے۔مسلکی انتہا پسندی کے خلاف کتاب لکھ چکے۔پرامن بقائے باہمی کا ایک فارمولا دے چکے۔یہی قادری صاحب جب سیاسی معاملات میں کلام کر تے ہیں تو ان کے لب ولہجہ انتہا پسندی کا ایک نمو نہ ہوتا ہے۔
میرا حسن ِظن ہے کہ یہ غیر شعوری سطح پر ہوا ہوگا۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو بات مذہبی اختلاف کے دائرے میں مذموم ہے وہ سیاسی دائرے میں محمود کیسے ہوگئی؟اگر انتہا پسندی سیاست میں درآئے تو اس کے نتائج بھی اتنے ہی خطرناک ہوسکتے ہیں جتنے مذہبی انتہا پسندی کے۔ اسی طرح ایک بیان دانیال عزیز صاحب کا ہے۔انہوں نے بھی مخالفین کی زبان کھینچنے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے نتائج بھی وہی ہو سکتے ہیں جو قادری صاحب کے بیان کے ہیں۔
انسانی شخصیا ت اورسماج کی تشکیل میں جمہوریت اور کھیل، دونوں کاکردار ایک جیساہے۔ جمہوریت بھی اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ یہ سیاسی تنازعات کے پرامن حل کا نام ہے۔کھیل کی طرح یہ بھی ہار کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہوئی کہ کھیل کے میدان سے سیاست کی وادیوں کا رخ کرنے والے سپورٹس مین سپرٹ اور صبرکے بجائے کھیل سے ہیجان لے کر آئے اور انہوں نے سیاسی ماحول پوری طرح ہیجان خیز بنا دیا۔
اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ بہت سے لوگ یہی کام اپنے قلم اور زبان سے بھی کر رہے ہیں۔میرا خیال ہے وہ بھی غیر شعوری طور پرایک انتہا پسندانہ سوچ کے فروغ میں اپنا کردارا دا کر رہے ہیں۔انہیں شاید اندازہ نہیں کہ ان کو سننے ا ور پڑھنے والے ان سے کیا سیکھ رہے ہیں۔میڈیا نے دلیل کے بجائے تاثر کو فروغ دیا ہے۔میرے کالم پر جو ردِ عمل آتا ہے ان میں سے ایک طبقہ اس پرتعجب کا اظہار کرتا ہے کہ جب نوازشریف کی کرپشن اور عمران خان کی دیانت واخلاص اتنی بدیہی باتیں ہیں تو میں ان کا انکار کیسے کرتا ہوں۔میرے نزدیک حیرت کا یہ اظہارکسی بد نیتی پر مبنی نہیں ہے۔یہ دراصل اس سادہ خیالی کی عطا ہے کہ سماج اور انسانوں کا معاملہ اتنا سادہ اور واضح ہے کہ حق و باطل دو اور دو چار کی طرح نمایاں ہوگئے ہیں۔اہلِ خیر اور اہلِ شر کے مابین ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے۔اب وہی اس کا انکار کر سکتا ہے جس کی اخلاقی حس مردہ ہو چکی۔
دور ِ جدید میں جن ماہرینِ سماج نے انتہا پسندی کا علمی سطح پر مطالعہ کیا ہے،انہوں نے انتہا پسند تنظیموں کے اسلوب ِکلام کو اپنی تحقیقی کا موضوع بنا یا ہے۔انہوں نے بتا یا ہے کہ انتہا پسند کیسے زبان استعمال کرتے ہیں اور کیسے وہ لوگوں میں اپنے لیے نرم گوشہ اور اپیل پیدا کرتے ہیں۔کیسے وہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ کام مذہبی واعظ اور ذاکر ایک عرصہ سے کرتے آئے ہیں۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فضائل کی زبان کیا ہے ا ور مصائب کی کیا۔ اسے لیکن ایک سائنس انتہاپسندی جماعتوں نے بنایا ہے۔
انقلابی جماعتیں بھی ایسا کرتی رہی ہیں۔ان کی بات اس لیے قابلِ تفہیم ہیں کہ ہر انقلابی جماعت خون بہانے کو انقلاب کی بنیادی ضرورت سمجھتی ہے۔خوب بہانے کے لیے لوگوں میں ہیجان پیداکرنا ضروری ہوتا ہے۔جمہوری کلچر میں یہ زبان بدل جانی چاہیے تھی۔افسوس کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہو سکا۔بظاہر پڑے لکھے لوگ سیاسی معاملات پر جس لب و لہجے میں کلام کر تے ہیں وہ صرف انتہا پسندی پیدا کرتی ہے۔وہ اس بات کو نظر اندازکرتے ہیں کہ اس کی ایک قیمت ہے جو معاشرے کو ادا کر نا پڑتی ہے۔اگر مذہب، سیاست، صحافت، ہر جگہ لوگ ہیجان پیدا کرنے والے ہوں اور سماج کو مذہب اور سیاست کی بنیاد پراولیا اور شیاطین میں تقسیم کریں تو اس کا نتیجہ انتہا پسندی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔
مجھے پاکستانی معاشرہ مشکل میں دکھائی دے رہا ہے۔ہر کوئی ہیجان پیدا کر رہا ہے۔بڑی جماعتوں نے اپنی ترجمانی شعلہ نواؤں کو سونپ دی ہے۔اہلِ مذہب کا حال بھی یہی ہے ۔اب کھیل کوبھی ہیجان پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔یوں جمہوریت اور کھیل جو انسانی سماج کو پرامن، صابر، حوصلہ مند اور معتدل بنانے کے لیے استعمال ہونے چاہئیں تھے، ہمارے ہاں ایک انتہا پسند معاشرے کی تشکیل میں کام آ رہے ہیں۔جو شعوری طور پر ایسا کر رہے ہیں ان کا رویہ تو قابلِ فہم ہے لیکن جو غیر شعوری طور پر اس کام میں حصہ دار ہیں،انہیں درخواست کی جا سکتی ہے وہ اپنے طرزِ عمل کے نتائج و عواقب پر ضرور غور فرمائیں۔