کیا کہنے‘ کیا کہنے! ھارون الرشید

اللہ کا شکر ہے کہ عوامی دبائو پر پاکستانی ٹیم بچ نکلی۔ ورنہ قومی کرکٹ شہر یار خان اور نجم سیٹھی کو سونپ دی گئی تھی کہ بے شک اسے تباہ کر دیں۔
کلاسرا کے قصے کو میں اٹھا سکتا ہوں؛ اگرچہ ایسی سنسنی خیزتفصیلات ہیں کہ ضبط کرنا مشکل ہے۔ ایک پوری فلم اس پہ بن سکتی ہے۔ بیچ میں وہی جے آئی ٹی آن پڑی ہے۔ بھاڑے کے ٹٹو واویلا کر رہے ہیں کہ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی وہ رکاوٹ بن گئی ہے۔
لشکر کے لشکر شریف خاندان نے پال رکھے ہیں۔ہر اس چیز پہ انہوں نے شور مچایا‘ جس پر مچا سکتے تھے۔ حسین نواز کی تصویر کا شائع ہونا کون سا بڑا المیہ تھاکہ آسمان سر پہ اٹھا لیا؟۔ نہال ہاشمی نے کہا کہ احتساب کرنے والوں پہ زمین تنگ کردی جائے گی۔ ان کی اولادوں پر بھی۔پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسی دھمکی کبھی کسی عدالت کو نہیں دی گئی۔بیرسٹر نہال کے الفاظ اپنے ہو سکتے ہیں مگر کیا وہ اپنے طور پر حملہ آور ہوئے؟۔ ایک پیشہ ور خوشامدی کتنا جری ہو سکتا ہے کہ وکیل ہونے کے باوجود عدالت سے ٹکرائے؟۔ محترمہ تہمینہ دولتانہ اس پر شاد تھیں۔ٹیلی ویژن کیمرے کے سامنے فرمایا''وہ میرے بھائی ہیں‘‘۔نہال ہاشمی کے اس جملے پہ غور کیجئے ''وہ نوازشریف کا بیٹا ہے۔‘‘گویا کہ آسمان سے اترا ہے۔گویا کہ شریف خاندان برہمن ہے اورباقی سب شودر۔ وہی تمیز ِ بندہ و آقا کی نفسیات جو غلامی کے مہ و سال میں پیدا ہوتی ہے۔ادنیٰ ذہن جس سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔اسی لیے اقبالؔ نے یہ کہا تھا۔
تھا جو ناخوب ‘ بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتاہے قوموں کا ضمیر
مشاہد اللہ خان ذاتی وفاداری پہ یقین رکھنے والے آدمی ہیں۔ ذہین مگر انہی میں سے ایک‘ لیڈر جن کے لیے ملک اور قوم سے بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ذاتی فائدہ وہ پہنچا سکتا ہے۔ ناموری اسی کے طفیل ہے۔ لاشعور کی وسعتوں میں یہ خیال گہرا بہت ہوتا ہے کہ اس کے بغیر ہماری حیثیت کیا ہوگی۔ دانیال عزیز اور طلال چوہدری کا ذکر ہی کیا۔ ایک سوال البتہ ہے‘ اپنی وکالت کے لیے جو لیڈر ایسے لوگوں کا انتخاب کرے‘ اس کا معیار اخلاق کیا ہے؟۔ کیا امید اس سے وابستہ کی جا سکتی ہے؟۔
دوسرا اعتراض طارق شفیع نے کیا کہ بدتمیزی ان کے ساتھ کی گئی۔ کیا واقعی؟ اگر ایسا ہوا تو ویڈیو پر شہادت موجود ہوگی۔ عدالت موجود ہے کہ فیصلہ کرے۔ کوچہ و بازار میں واویلا کیا اورگریہ و ماتم کیا ؟
بلال رسول کا جرم یہ ہے کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما کے عزیز ہیں۔ یہ رہنما کون ہیں؟ شریف خاندان کے ایک بہت بڑے محسن‘ میاں محمد اظہر‘ پنجاب کے سابق گورنر۔ معزز لوگوں میں سے معزز ترین ۔ 1970ء کے عشرے میں شریف خاندان کا کاروبار لٹاتو بڑے میاں صاحب کی مددکو وہ لپکے۔ 48 برس سے میں اسی شہر لاہور میں رہتا ہوں۔ جب نہیں رہتا تو ہفتے کے آخری دن یہاں گزارتا ہوں۔ بدسلوکی اور دشمنی میں حد سے تجاوز تو دور کی بات ہے‘ آج تک بدذوقی کے ارتکاب کا الزام بھی ان پر لگانہیں۔
اپنے لائق سربراہ آفتاب سلطان کی قیادت میں‘ جے آئی ٹی ارکان کے کوائف انٹیلی جنس بیورو جمع کرتا رہا۔ دوسرے تمام ذرائع بھی شریف خاندان نے برتے ہوں گے۔ ان میں سے کسی کا کوئی چھوٹا موٹا سکینڈل بھی ان کے ہاتھ لگتا تو کیا وہ معاف کر دیتے؟ چیخ چیخ کر ساری دنیا کو کیا خبر نہ کرتے ۔شریف خاندان نے کیا کبھی کسی مخالف کو معاف کیا ہے؟ محترمہ نصرت بھٹو‘ محترمہ بے نظیر بھٹو اور عمران خان کی کردارکشی کہ ہمیشہ وہ درپے رہے۔ کپتان کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایسی بدزبانی کا ارتکاب ان کے ترجمان فرمایا کرتے ہیں۔ کیا عمران خان ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے؟ نصف درجن کہانیاں تو مجھے معلوم ہیں۔ کوئی بھی شخص مگر اس طرح کی چیزوں کا چرچاکیسے کر سکتا ہے۔ اگر رتی برابر حیا بھی اس میں پائی جاتی ہو‘ اگر اقدار پہ ذرا سا یقین بھی وہ رکھتا ہو۔ یہ شریف خاندان ہے‘
جوwhatsaap کے استعمال کو بھی جرم بنا کر پیش کر سکتا ہے۔ جن کے لوگ ارشاد فرما سکتے ہیں کہ45 سالہ ''بچے‘‘ کو دو گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ جس خاندان کے پسندیدہ ترین اخبار نویسوں میں سے ایک‘ یہ رقم فرما سکتا ہے کہ 90 فیصد اخبار نویس بے غیرت ہیں۔ یعنی ان دس فیصد کے سوا تمام کے تمام بے غیرت‘ شریف خاندان کے جو حتمی طور پہ وفادار ہیں۔ پھر بے غیرتی کی ایسی تشریح آنجناب نے نقل کی‘ پرلے درجے کا بازاری آدمی ہی جس کی تائید اور تحسین کر سکتا ہے۔ کتنی ہی بار اس کی نشاندہی یہ ناچیز کر چکا۔ ان صاحب کو توفیق نہیں کہ معذرت کرلیں‘ معافی مانگ لیں۔ تمام انسان خطاکار ہیں۔ بہترین وہ ہیں اپنی غلطی جو تسلیم کرتے اور توبہ کر لیتے ہیں۔ بدترین وہ ہیں‘ جو ڈٹے رہتے ہیں۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے: بے شرم اپنی مرضی کرے۔
شریف خاندان اور ان کے حواریوں کا ہدف فقط جے آئی ٹی ہرگز نہیں۔ ایک منصوبے کے تحت وہ بروئے کار ہیں۔ بتدریج اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ جیسا اورجتنا بھی موقعہ انہیں ملا‘سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی متنازعہ بنانے کی پوری کوشش وہ کریں گے۔یہ ایک میڈیا گروپ کی مدد سے فی الحقیقت ابھی سے کر رہے ہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر‘ عسکری قیادت کو بھی۔ حسین نواز نے جب یہ کہا کہ حسین شہید سہروردی کے عہد سے ‘ انہی کا‘ سیاستدانوں کا احتساب ہوتا آیا ہے تو اس سے ان کی مراد کیا تھی؟ اس سے قطع نظر کہ کون یہ بات کہہ رہا ہے‘ سامنے کا سوال یہ ہے کہ شریف حکومت کو احتساب کا ایک موثر نظام تشکیل دینے سے روکاکس نے ہے؟
الیکشن 2013ء سے قبل‘ چیخ چیخ کر خادم پنجاب دو اعلان کیا کرتے تھے۔ ایک تو یہ کہ اتنے دنوں میں‘ لوڈشیڈنگ اگر میں ختم نہ کر دوں تو میرا نام شہبازشریف نہیں۔ دوسرے یہ کہ زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹ کا مال وہ برآمدکریں گے۔ لاڑکانہ‘ لاہور اور اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔ پھر کیا ہوا؟ پھر اعلانیہ معافی انہوں نے مانگی۔ ایک بار نہیں کئی مرتبہ۔ آصف علی زرداری تو دور کی بات ہے‘ کھلے عام لوٹ مارکرنے والے رحمن ملک کو کٹہرے میں وہ کھڑا نہیں کر سکتے۔ کرائے کے دانشور‘ جن کے حوالے سے آج کل زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔حضور!کس کی عنایت سے رحمن ملک کھلا پھرتا ہے؟
تاثر دیتے ہیں کہ جمہویت پر ان کی جان نچھاور ہے۔ غور فرمائیے‘ جمہوریت اور میاں محمد نوازشریف۔ 1999ء میں‘ جنرل پرویزمشرف کے ہاتھوں برطرفی تک‘ ہر سال 17 اگست کو جو اعلان کیا کرتے کہ جنرل محمد ضیاء الحق کا مشن وہ مکمل کرکے رہیں گے۔ جنرل جیلانی کی گود میں پروان چڑھے۔ انہی کے بل پر وزیراعلیٰ اور پھر وزیراعظم ہوئے۔ آئی ایس آئی نے ایک عشرے تک جن کے سر پہ چھتری تانے رکھی۔ جنرل پرویزمشرف نے اگر انہیں اٹھا نہ پھینکا ہوتا تو کیا پھر بھی فوجی اقتدار کے وہ مخالف ہوتے؟ فوج اگر ان سے تعاون کرتی؟ اگر وہ پنجاب پولیس بننے پر آمادہ ہو جاتی؟۔
شریف خاندان عجیب ہے اپنی دولت ملک سے باہر بھیج دی اور قوم کو قرضوں میں جکڑ دیا۔ترقیاتی منصوبے عوام نہیں بلکہ خاندان کی سیاسی ترجیحات کے مطابق بنتے ہیں۔مظفرآباد میں کھڑے ہو کر میاں صاحب نے فرمایا :اتنے مظالم بھارت نے اہل کشمیر پر نہیں کیے جتنے پاکستانی فوج نے ۔کل بھوشن یادیو کا نام تک وہ نہیں لیتے۔ ہندوستانی تاجروں سے ذاتی تعلقات وہ رکھتے ہیں؛ حتیٰ کہ اپنی شوگر مل میں کاریگر وہاں سے بلوائے۔
شریف خاندان کے حواری بھی عجیب ہیں کہ رتی برابر اعتراض انہیں بے مثال کارناموں پر نہیں۔ قصیدے لکھتے چلے جاتے ہیں‘ گن گائے جاتے ہیں۔ کیا کہنے‘ کیا کہنے۔
اللہ کا شکر ہے کہ عوامی دبائو پر پاکستانی ٹیم بچ نکلی۔ ورنہ قومی کرکٹ شہر یار خان اور نجم سیٹھی کو سونپ دی گئی تھی کہ بے شک اسے تباہ کر دیں۔