منکرین حدیث کے دجل کا جواب - سید وجاہت

منکرین حدیث ایک بچکانہ اعتراض کرتے ہیں کہ کتب حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے دو تین سو سال بعد تصنیف کی گئیں، اسی لئے اس کا اعتبار نہیں اور نجات کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے۔اس بے تکے سوال کا کئی مرتبہ کئی طریقے سے جواب دیا جاچکا ہے لیکن کیونکہ ہدایت رب تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کسی کو لاکھ منطقی انداز میں، دلائل کے انبار لگاکر بھی ہدایت قبول کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔

دراصل منکرین حدیث کا یہ اعتراض جہالت پر مبنی ہے۔ یہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ صرف کتابت حدیث ہی ایک واحد ذریعہ تھا حفاظت حدیث کا۔ یعنی کتابت میں تاخیر ہوئی تو ذخیرہ حدیث ناقابل اعتبار ہوگیا۔ لیکن اگر غور و فکر کیا جائے تو عقل کہتی ہے کہ صرف کتابت ہی حفاظت کا ذریعہ نہیں، ضروری نہیں کہ کسی چیز کی حفاظت کے لئے لامحالہ اسے لکھا ہی جائے۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ السلام کی حفاظت تین طریقوں سے کی گئی ہے:تعامل و توارث ، روایت اور کتابت ۔

صحابہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کہتے سنا وہ اپنالیا، جو کرتے دیکھا اس کی نقل کی اور رسول ان کے قول و فعل کو اپنے اوپر لازم کرلیا۔ پھر جو سنت کا رنگ صحابہ پر چڑھا، وہی تابعین نے اخذ کیا اور اسی طرح یہ سلسلہ ہم تک پہنچا ہے، یہ تھی تعامل اور توارث کی مثال۔

اب جہاں تک روایت کی بات ہے، تو عام صحابہ کا معمول تھا کہ وہ رسول اللہ علیہ وسلم کی بات کو محفوظ رکھتے اور اسے آگے بیان کرتے۔ عرب میں اس دور میں عموماً لکھنے پڑھنے کا زیادہ رواج نہ تھا بلکہ انہیں اپنے حافظے پر اعتماد تھا۔ ہزار ہزار اشعار اہل عرب کے بچوں کو تک یاد ہوا کرتے تھے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سرور کائنات امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو صحابہ نے نظر انداز کردیا ہو اور اسے یاد رکھنے اور بیان کرنے کا اہتمام نہ کیا ہو؟ جو قوم اپنے آباواجداد حتیٰ کہ گھوڑوں اور جانوروں کے نسب زبانی یاد رکھا کرتے تھے، عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ ایسے قوی حافظے والی قوم نے فخر رسل صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو یاد رکھنے کا اہتمام نہ کیا ہوگا؟ بلکہ بالکل کیا تھا اور یقیناً کیا تھا بلکہ بعض صحابہ نے تو اپنی زندگی کا مقصد ہی روایت حدیث کو بنالیا تھا۔ وہ اپنے شاگرد، تلامیذہ یعنی تابعین کے سامنے احادیث روایت کرتے اور اس طرح یہ روایت کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔

اب حفاظت حدیث کا جو تیسرا ذریعہ ہے وہ ہے کتابت حدیث، یعنی احادیث کو لکھ کر محفوظ کرنے کا اہتمام۔ منکرین حدیث یہ دجل کرتے ہیں کہ کیونکہ احادیث بہت بعد میں لکھی گئی ہے، اس لئے وہ ناقابل اعتبار ہے۔ درحقیقت اگر صحابہ کی سوانح کا ہی مطالعہ کرلیا جائے تو یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوجائے گی کہ بہت سے صحابہ نے حضور علیہ السلام کی زندگی میں ہی اپنے طور پر احادیث لکھنے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے باقاعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث لکھنے کی اجازت حاصل کی تھی۔ اسی طرح حضرت انس بن مالک بھی احادیث لکھنے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ البتہ دور صحابہ میں عام معمول لکھنے کا نہیں تھا کیونکہ اس دور میں قرآن کا نزول ہورہا تھا، اگر قرآن کی طرح احادیث بھی اسی وقت لکھی جاتیں تو ممکن تھا کہ قرآن و حدیث آپس میں خلط ملط ہوجاتے۔ اسی وجہ سے ابتدائی دور میں قرآن تو لکھا جاتا تھا لیکن احادیث لکھنے کا عام معمول نہ تھا، لیکن اُس دور میں بھی کتابت حدیث کا سرے سے انکار کرنا یہ ممکن ہی نہیں۔ بہت سے صحابہ نے احادیث لکھنے کا اہتمام کیا تھا جس کو تاریخ ناقابل انکار شہادتوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ پھر جب کچھ وقت گزر گیا اور قرآن کے حفاظ و قراء کی جماعتیں تیار ہوگئیں اور قرآن کو کتابی شکل میں بھی محفوظ کرلیا گیا تو اس دور کے بعد پھر کتابت حدیث کا سلسلہ جو کہ تعامل اور روایت حدیث کا ہی تسلسل تھا اس مبارک سلسلے کا آغاز ہوا۔ دیکھا جائے تو یہ سارے مراحل بتدریج طے ہوتے رہے ہیں، حفاظت حدیث کا ہر طریقہ دوسرے طریقے کے ساتھ مربوط ہے، ایسے میں یہ اعتراض انتہائی لغو ہوگا کہ اگر ہم حفاظت حدیث کو صرف کتابت حدیث میں منحصر سمجھیں۔