بے روزگاری کا عفریت اور نوجوانانِ ملت – وقاص الحق

مجھے افسوس ہے، صد،بیحد افسوس ہے کہ اس ملک کے نوجوان منتشر ہیں۔ وہ ملک کی آبادی کا 60 فیصد یا شاید اس سے بھی زیادہ حصہ ہیں، مستقبل کے معمار اور خوشحالی کا زینہ جیسی خوش نما باتیں بھی ان کے لیے کی جاتی ہیں لیکن درحقیقت ایک نوجوان کو معلوم ہی نہیں کہ وہ زینہ کہاں ہے؟ اور معماری کیسے کی جاتی ہے؟

ہم تو ایسے ہیں کہ کسی نے ہمیں مرغِ چمن قرار دیا تو علی الصبح اٹھ کر بانگ دینا شروع کردی۔ کسی نے بلبل جیسی شگفتہ آواز کی تعریف کردی تو مہدی حسن بننے کی تمنا کرنے لگے اور کسی نے کوّا قرار دیا تو آس پاس کے بلبلوں سے دب کر رہنے لگے۔ ہم نے سب سیکھ لیا، بس غیرت و حمیت سے جینا نہ سیکھ سکے۔ اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا نہ سیکھ سکے۔

کچھ سال پہلے الیکشن کا دور دورہ تھا۔ ایک صاحب ہمارے گاؤں بھی ووٹ مانگنے آئے۔ ایک نوجوان لہک لہک کر صاحب ثروت و جمال کے سیاسی وعدوں کی نہ صرف قصیدہ گوئی کررہا تھا بلکہ ساتھ ساتھ اٹھ اٹھ کر گلا پھاڑ نعرے بھی لگا رہا تھا۔ میں نے قریب جاکر کان میں سرگوشی کرکے پوچھ لیا کہ "آپ اتنے پرجوش کاہے کو ہیں؟" جواب ملا، "اجی سنتے نہیں، وہ سڑکیں بنانے کی بات کررہے ہیں۔ کسی شہر کی نہیں ہمارے گاؤں کی" میں نے حیرانگی سے پوچھا "تو سڑک کا ہمیں فائدہ کیا ہوگا؟" ذرا رعونت سے جواب ملا "عقل کے گھوڑے دوڑاؤ تو سمجھ آجائے گی۔ ہماری فصلیں،ہماری اجناس آسانی سے شہروں کی منڈیوں تک پہنچ جایا کریں گی۔"میں نے متاثر ہو کر ایک اور سوال داغا، "جان من!تم تو ایک غریب بڑھئی کے بیٹے ہو، جو وڈیروں کی منجیاں،کرسیاں بنا کر سال بعد چند ٹوپے گندم کے لیتا ہے، تمہیں اس سڑک سے کیا فائدہ ہووے گا؟" تو اس نوجوان سے کچھ دیر تو جواب نا بن پایا۔

شاید جواب سوچ رہا تھا لیکن تب تک کھانا کھلنے کی آواز نے اس کی سوچنے کی صلاحیت کو جامد جبکہ ٹانگوں اور بازوؤں میں شدید ارتعاش پیدا کردیا۔ تب سمجھ آیا کہ چند لقمے غذا کے بدلے نہ صرف ہم نے اپنی سوچ بیچ ڈالی ہے بلکہ ہم اصل حقائق سے ہٹ کر وہ باتیں سوچنے لگے ہیں جس کا مجموعی طور پر ہمیں بہت کم فائدہ ملتا ہے۔

اس ملک کے نوجوانوں کی اکثریت بےروزگار ہے۔ نئی نسل کے لیے سرکاری و نجی اداروں میں نوکریاں مفقود ہوتی چلی جارہی ہیں۔ جو کرسیوں پہ بیٹھے ہیں وہ ایسے چمٹ کر بیٹھے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے، اب تو کرسی کو قبر میں بھی ساتھ لے جائیں گے۔ اس لیے ہماری نوجوان نسل میں وڈیروں اور صاحب اختیار کی جی حضوری کا جذبہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا جارہا ہے اور یہ سب صاحب لوگ اس سے برملا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بابے کچھ نہیں کرنے دیں گے - زبیر منصوری

کئی ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوں جو کسی نجی کمپنی کے ایک صاحب کا سودا سلف اور گھر کا چھوٹا بڑا کام بغیر کوئی ریزگاری وصول کیے بخوشی نمٹا دیتے ہیں۔ اس فریب میں کہ شاید صاحب کسی چھوٹی موٹی کمپنی میں چپڑاسی یا ڈرائیور ہی رکھوا دیں۔

اس سوچ اور صورتحال سے سیاسی لوگ سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دبے لفظوں میں نوجوانوں کے کاندھے پہ تھپکی دے کر حوصلہ دے دیتے ہیں کہ کوئی مسئلہ ہو تو سمجھو میرا ہاتھ تمہارے کاندھے پر ہے اور نوجوان بس وہی ایک تھپکی کا لمس سالوں تک اس فریب میں مبتلا رہ کر محسوس کرتا رہتا ہے کہ شاید بےروزگاری کے کسی موڑ پر نوکری کے حصول میں ان کا ہاتھ کام آجائے۔ ان کا کاندھا تو شاذ و نادر کام ہی آتا ہے، ہاں احساس محرومی ضرور بڑھ جاتا ہے۔

میرا ایک بچپن کا ہم جماعت لڑکا آج بھی مجھے بہت محبت و الفت سے ملتا ہے لیکن پیشہ اس نے چوری و ڈاکہ زنی کا اختیار کیا ہوا ہے۔ ایک دن مجھے ملا تو باتوں باتوں میں پوچھ لیا "یار!یہ چوری کی طرف تم کیوں راغب ہوئے؟" جواب ملا "والد صاحب سیاسیوں کے بڑے چہیتے تھے اور وہ سیاسی رہنما والد صاحب کو ہمیشہ ٹہوکا لگاتے رہتے تھے کہ بیٹے کو بس آٹھ جماعتیں پڑھا دو باقی نوکری لگوانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ ہم نے جیسے تیسے کرکے آٹھ سے آگے بڑھ کر دس جماعتیں پڑھ لیں، لیکن وعدے ہی کیا جو وفا ہو سکیں؟ ایک دن والد صاحب نوکری کی بات کرنے ایک سیاسی لیڈر کے ڈیرے پر جارہے تھے۔ شدید گرمی کے دن تھے، فالج کا حملہ ہوا،وہیں سڑک پہ گر گئے اور نجانے کتنی دیر پڑے رہے۔ جب قریب سے گزرتے راہ گیر اٹھا کر گھر لائے تب تک جسم کا ایک حصہ شدید تپش کی وجہ سے جل چکا تھا۔ ہسپتالوں کے چکر لگائے۔ ان سیاسی رہنماؤں کو بھی ٹیلی فون کھڑکائے کہ ہسپتالوں میں اچھے علاج کی سفارش کردیں لیکن ہربار سیکرٹری صاحب فون اٹھاتے اور صاحب مصروف ہیں کہہ کر فون بند کردیتے۔ یوں والد صاحب وفات پاگئے۔ جنازے پر کئی سیاسی صاحبان تشریف لائے۔ گلے سے لگا کر تسلی بھی دیتے رہے اور بیٹا! بیٹا! کہہ کر وہی وعدے کرتے رہے جو والد صاحب کی حیات میں کرتے آئے تھے۔ بس اس دن ان کی تسلیوں سے نہ طبیعت مچلی اور نہ ہی دل میں کوئی امید ابھری۔ پہلی چوری ایک رکن صوبائی اسمبلی کے منشی کے گھر کی،پکڑا گیا تو اس کے سیاسی مخالف نے چھڑوا لیا۔ بس وہیں سے ایسی لت پڑی کہ اب تک نہیں چھوٹ رہی.یہ جو آج بےخوف ہوکر گاؤں کی گلیوں،کھلیانوں میں گھومتا ہوں نا؟ یہ سب انہی سیاسیوں کی دادرسی کے طفیل ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   ستاروں پہ کمند ڈال اے نوجوان - خواجہ مظہر صدیقی

یہ ایک واقعہ نوجوانوں کے شدید کرب اور بے روزگاری سے پیدا ہونے والی معاشرتی برائیوں کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے، وگرنہ تو منشیات کے استعمال سے لے کر سماجی برائیوں اور قتل و غارت گری جیسے واقعات کی بڑی وجہ نوجوانوں کی کثیر تعداد کا بے روزگار ہونا ہی ہے۔

بزرگ کہتے تھے کہ ویلا(فارغ) بندہ شیطان اور ویلا دماغ شیطان کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ جو سیاسی جماعتیں پلوں،انڈر پاسز،بائی پاسز، سڑکوں، موٹروے اور بجلی کے جھوٹے وعدوں پر عوام الناس سے کروڑوں ووٹ اینٹھ سکتی ہوں بھلا ان سے نوجوانوں کو معاشرے کے فعال افراد بنانے اور ان کی بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کی ترکیبیں کہاں ہوپائیں گی؟

اگر حالیہ حکومت نے وزیر اعظم یوتھ ٹریننگ نامی سکیم شروع کی ہے تو وہ اقدام بھی صرف جامعات کے فارغ التحصیل طالبعلموں تک محدود ہے۔ یعنی میٹرک یا ایف اے پاس کسی نوجوان کی تعلیمی اہمیت اب صفر کے برابر ہوچکی ہے۔ دوسرا مزدور کی کم ازکم تنخواہ پندرہ ہزار مقرر کرنے والے جب ایک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ڈگری ہولڈر طالب علم کو اس مزدور سے بھی کم 12000 ماہوار دیں گے۔ پھر بھی اصلاح کے بجائے نوجوانوں میں شدید قسم کا احساس محرومی پیدا ہوگا۔

اب وقت کی ضرورت ہے کہ نوجوان اپنے حقوق کے لیے خود آواز بلند کریں۔ سیاسی مصلحتوں اور وڈیروں کی جی حضوری والی پالیسی سے منہ موڑ کر سڑکوں پہ اس عزم کے ساتھ نکلیں کہ جب تک ہمارا ایک بھی نوجوان بے روزگار رہے گا ہم واپس گھروں میں نہیں جائیں گے۔ کسی کی ڈولتی سیاسی ناؤ کو ہمارے وجودوں نے بہت سہارے دے لیے، ہم نے ایک دوسرے کے جسموں پر بھی بہت ڈنڈے چلا لیے، پولیس والوں کے بہت ڈنڈے بھی کھا لیے، اب وقت ہے کہ صرف اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے کے بجائے دوسروں کی کمر پہ بھی تعمیری تھپکی دے ڈالیں۔ بانہوں میں بانہیں اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھیں، کھینچا تانی سے نہیں، اپنے ہاتھوں اور سوچ سے ایک دوسرے کا سہارا بننے کا کام لیں۔ حکومت کے پاس نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے کئی طریقے، کئی بہانے، کئی قوانین ہوتے ہیں۔ حکومتیں نا صرف خود روزگار کے مواقع پیدا کرسکتی ہیں بلکہ کسی قانون سازی کے تحت نجی اداروں اور کمپنیوں کو بھی نوجوانوں کی ایک خاص تعداد کو اپنے ملازمین کا لازمی حصہ بنانے پہ مجبور کرسکتی ہیں۔

بس نوجوانوں کو آواز بلند کرنا ہوگی، اپنی طاقت کو دھینگا مشتی، اکھاڑوں، گلیوں،محلوں،بازاروں اور درس گاہوں میں کشتی لڑنے کے بجائے اس راستے پہ کھپانا ہوگا۔ تبھی بے روزگاری کی عفریت دم توڑے گا۔ تبھی سیاسی جماعتوں کے منشور میں اول درجہ اس بے روزگاری کے مسئلے کو حاصل ہوپائے گا جو ایک سونامی کی مانند اس ملک کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو غرق کرتا چلاجارہا ہے۔