غامدی مکتب فکر، صحتمندانہ مقابلہ کیسے ممکن؟ - محمد طیب سکھیرا

پچھلے کچھ عرصے سے جناب غامدی اور ان کے مخالفین سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں اورغامدی مکتب فکر کی روزمرہ امور میں ہر نئی گنجائش کے بعد باہمی مخاصمت و مخالفت تمام حدود کو پامال کرتی نظر آتی ہے۔ جانبین سے گالم گلوچ کا ایک ایسا بازار گرم ہوتا ہے کہ الامان والحفیظ !

آئیے اس ساری صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ غامدی صاحب کی فکر کیا ہے اوراس کا صحت مندانہ مقابلہ کیونکر ممکن ہے:

1۔ سب سے پہلے تو اس بات کو اچھے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غامدی صاحب عقلی طور پر کسی مخاصمے یا کسی فقہی غلط فہمی کا شکار نہیں ہیں بلکہ وہ انتہائی فطین شخص ہیں کیونکہ ذہین آدمی ہی اذہان کو جھنجھوڑتا ہے اور دین میں نئی و انفرادی سوچ کا علمبردار بنا کرتا ہے۔ وہ تفرد اختیار کرتا ہے کہ دین کی بنیادی نصوص سے دور اور عقل کی بالادستی کے قائل لوگوں کو اس کی باتیں بھلی لگتی ہیں اس لئے خوب یاد رکھیں ذہین آدمی کا مقابلہ مخالفت برائے مخالفت سے نہیں بلکہ اسی کے انداز و عقلی دلائل سے ہی ممکن ہے۔

2۔اس بارے میں بھی کوئی ابہام نہ ہونا چاہیے کہ غامدی صاحب کوئی مفکر جدید ہیں کہ جن کے افکار و خیالات کے آگے بند نہیں باندھا جاسکتا

یا ان کے دلائل کا کوئی جواب نہیں ہے۔ خوب سمجھ لیجئے کہ ہر دور میں ایسے جدید مفکرین آتے رہے ہیں، جن کی عقول اور دلائل لوگوں کو بھلے معلوم ہوتے تھے لیکن جمہور علماء امت نبوی اسلوب و دلائل کے ساتھ ہر دور میں بڑے بڑے فتن کے افکار و دلائل کا صرف مقابلہ ہی نہیں فرماتے رہے بلکہ ان کی سوچ کے مقابل دین کی سوچ و حکمت بالغہ سے بھی امت کو روشناس کرواتے رہے ہیں اور ان کے اسلوب و دلائل عوام الناس کے دینی اطمینان کے ساتھ ساتھ گمراہ کن نظریات کا بھرپور قلع قمع بھی کرتے تھے اس لئے دھیرج رہیے کیونکہ یہ کوئی ایسی بھی جدید سوچ نہیں ہے جس کا وقوع پہلے نہ ہوا ہو اور اس کا مقابلہ نہ کیا جاسکے۔

3۔۔دور جتنا بھی جدید آجائے، ابلاغ کیسے ہی عام کیوں نہ ہوجائیں، "نبوی مزاج دعوت " تبدیل نہیں ہوا کرتا بلکہ وہ ہر دور کے لیے یکساں تاثیر رکھتا ہے۔ اس لیے آج کے اس دور میں بھی اسی نبوی مزاج دعوت کو اپنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے اکابر کا خاصہ تھی اور اب ( معذرت کے ساتھ ) وہ نبوی شائستگی و انداز غامدی صاحب آپ سے مستعار لے چکے ہیں ۔ وہ ہر گفت و شنید میں غامدی صاحب کے مزاج کا خاصہ بن چکا ہے۔ آپ یقیناً غامدی افکار و نظریات کے مقابل جمہور امت کے حقیقی افکار و نظریات کے امین ہوں گے اور منصوص دلائل بھی یقینا آپ کے پاس ہوں گے لیکن جب تک وہ نبوی مزاج آپ واپس نہیں اپنا لیتے آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ یاد رکھیے بھونڈے پن اور طنزیہ مزاج سے آپ کے دلائل کا اثر رائیگاں چلا جاتا ہے اور بعض نادان تو گالم گلوچ تک چلے جاتے ہی۔ یاد رکھیں کہ آپ کی گالی آپ کی جنجھلاہٹ کی غماز ہوتی ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ آپ دلیل کی جنگ لڑنے سے عاجز آچکے ہیں۔

4۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی بات سنیں اور آپ کا مخالف بھی آپ کی دلیل کا قائل ہو تو کسی بھی بدترین سے بدترین مخالف کو بھی کبھی گالی مت دیں کیونکہ کسی بھی مذہب و معاشرے میں گالی کی جگہ نہیں ہوا کرتی۔ قرآن پاک نے تو بدترین مخالفین کے بتوں تک کو گالی دینے سے منع فرمایا

اور آپ جیتے جاگتے انسانوں کو اس سے معاف نہیں رکھ سکتے؟ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ گالی آپ کے موقف کو تقویت دے گی تو آپ کی سوچ پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

5۔ کسی بھی گفتگو یا تحریر میں طنزیہ انداز مت اپنائیں کیونکہ اگر آپ کے پیش نظر فریق مخالف کی اصلاح یا ہدایت ہے تو اس مقصد کے حصول میں طنزیہ انداز قطعاً موثر نہیں بلکہ آپ کی طنزیہ گفتگو یا تحریر اسے اس کے سابقہ موقف پر جمے رہنے اور ضد و مخالفت کا جواز فراہم کرے گی اور باوجود تسلیم دلائل وہ حق کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوگا اور آپ کی ضد و مخالفت سے باز نہ آئے گا۔ میرے محبوب استاذ حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک جدید فکر کے مقابل مجھے والد صاحب کی طرف سے جواب لکھنے کا حکم ملا ۔ میں نوجوان تھا جذبات بھی خوب تھے، اس لیے جوابی دلائل کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں کچھ طنزیہ بات بھی جواب کا حصہ بنتی گئیں۔ جواب لکھ کر والد صاحب کے پاس لایا تو والد صاحب نے جواب پڑھ کر فرمایا کہ اگر آپ فریق مخالف کو خاموش اور لاجواب کرنا چاہتے ہیں تو بہت خوب جواب ہے لیکن اگر آپ کے پیش نظر یہ بات ہے کہ فریق مخالف بھی آپ کی بات کا قائل ہو اور آپ کے دلائل سے حق کو قبول کرنے پر آمادہ ہو تو پھر آپ کا جواب مناسب نہیں ہے کیونکہ آپ کا طنز اسے سابق موقف پر ڈٹے رہنے کا جواز فراہم کرے گا۔ اس پر حضرت استاذ محترم دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مجھے والد صاحب کی بات سمجھ آگئی اور میں نے ان طنزیہ الفاظ کو حذف کردیا یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جسے سمجھنے کی ہمیں ضرورت ہے کہ آپ کا طنز باہمی گفت و شنید میں کبھی آپ کا معاون نہیں ہوسکتا۔

6۔ داعی کا انداز اپنائیں ۔ کامیاب تاجر اور کامیاب داعی میں ایک نکتہ مشترک ہوا کرتا ہے کہ وہ گاہک کو اس کی پسند کا مال پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور کسی بھی قیمت پر اپنے گاہک کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیتا بلکہ کسی بھی طریقے سے اسے لبھا کر، کھلا پلا کر کچھ نہ کچھ سودا لینے پر مجبور کردیتا ہے۔ آپ چونکہ داعی ہیں اس لیے آپ کو چاہیے جدید دعوتی اسلوب کو اپنائیں، لوگوں کو سینے سے لگائیں۔ یاد رکھیں ذہین آدمی کبھی مطمئن ہوکر نہیں بیٹھتا بلکہ کوئی نہ کوئی نیا خلجان اسے متاثر کرتا رہتا ہے۔ اس لیے اپنے دودھ سے پلے ہؤوں سے سختی سے پیش نہ آئیں، اعتراض پر انہیں ڈانٹ نہ پلائیں اور اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو بات کا موقع دیں۔ ان کی پوری بات سنیں، ان کے ذہنی خلجان کو دور کریں، ان کے ہر قسم کے اعتراض کو اپنے دلائل کی ڈھال مہیا کریں، انہیں پیار سے اپنے ساتھ جوڑے رکھیں ، جیسے مرغی غیر معمولی حالات میں اپنے چوزوں کو اپنے پروں تلے محفوظ رکھتی ہے، اس دور فتن میں ویسا ہی غیر معمولی تحفظ اپنے تلامذہ و معتقدین کو فراہم کریں۔ وگرنہ پہلے ہی ہمارے استغناء و بے جا مخالفت اور دھتکارنے کی پالیسی کی وجہ سے نہ جانے کتنے " عبقری " غامدی دامن پناہ میں جاچکے ہیں اور ہم اسے اغیار کی کارستانی ثابت کرنے پر مصر ہیں ۔

7۔ لوگوں کے ذہنوں میں " منصوصات " کی اہمیت بٹھائیں۔ ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ مناظرانہ و مسلکی مخالفت نے ہماری منصوصات کی حدود و حرمت کو شدید پامال کیا ہے اور یہ حال ہے کہ آج ہمارا کوچوان بھی یہ کہتا ہے کہ " حدیث صحیح " کے علاوہ کوئی حدیث " صحیح " نہیں ہے۔ خدارا! لوگوں کے ذہنوں میں منصوصات کا احترام اجاگر کریں اور انہیں بتائیں کہ " موضوع " کے علاوہ تمام احادیث " صحیح " (اردو) ہوتی ہیں۔ انہیں عقل کی حدود اور منصوصات کی اہمیت بتائیں، یہ بھی بتائیں کہ یہ منصوصات 1400 سال سے ہمارے دین کی متفقہ بنیادیں ہیں، انہیں نظر انداز کیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا تو اس کے کیا نقصانات ہوں گے؟ یہ بات عقلی انداز سے انہیں سمجھائیں

8۔ " کلمواالناس علی قدر عقولہم " کی ہدایت نبوی پر عمل پیرا ہوں ۔ آپ منبر سے ایسی اصطلاحات سے مزین بیان کرتے ہیں ، جو لوگوں کے کانوں کے اوپر سے گزرجاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے لیے اپنی گفتگو کو آسان و سہل کیا جائے تاکہ لوگ آپ کے مدعا کو احسن انداز سے سمجھ سکیں اور ہمیں چاہیے کہ لوگوں کی عقلوں کی بقدر ان سے بات کریں، لوگوں کے پسندیدہ موضوعات پر مدلل بات کریں اور ان کی عقلوں کے مطابق مثالوں سے اپنی بات کو مزین کریں کیونکہ آپ دوسری جماعت کے طالب علم کو میٹرک کی ریاضی کا کوئی اصول کتنے بھی آسان الفاظ میں بتائیں، آپ انہیں نہیں سمجھاسکتے۔ اس لیے کہ تیسری جماعت کے بچے اور میٹرک کے بچے کی عقل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ وہ سات سال بعد والی چھلانگ ایک دم کیسے لگاسکے گا؟ اسی طرح آپ گھر کی ٹنکی پر بیٹھ کر سڑک پر کھڑے آدمی کو کبھی مطمئن نہیں کرسکتے ، اس کے لیے آپ کو لازماً نیچے اترنا ہوگا اور اس کے مقابل کھڑے ہوکر اس کی فہم کے مطابق بات کرنی ہوگی ، تبھی اسے مطمئن کرپائیں گے ۔ اس لیے اپنے مقتدیوں و ماننے والوں کی عقل اور مزاج و مذاق کو پرکھ کر اس کے مطابق بات کرنا ہی نبوی مزاج ہے۔

9۔ " انزلوالناس منازلہم " کے نبوی اسلوب کو اپنائیں اور مقتدر اور معاشرے میں قابل احترام طبقات کو وہی عزت دیں جو معاشرہ ان کو دے رہا ہے تاکہ وہ آپ سے انسیت محسوس کریں اور ان کے اذہان کو ان کی مروجہ زبان و انداز ہی سے مطمئن کریں۔ اس کے لیے عصر حاضر کا جدید دعوتی اسلوب اپنائیں تاکہ آپ ان طبقات میں ایسا رسوخ حاصل کرسکیں جو آپ کے دعوتی امور میں معین ہو۔

10۔ غامدی صاحب کے پرانے اور جدید موقف میں کھلا تضاد پایا جاتا ہے، اس لیے ان کے نئے موقف کے ساتھ ساتھ ان کی کتب میں موجود پرانے موقف سے آگاہی بھی از حد ضروری ہے تاکہ ان سے دوران گفتگو ان کے پرانے موقف کا حوالہ دیا جاسکے اور ان میں موجود تضادات کو واضح کیا جائے کہ ایک ہی آدمی فلاں وقت میں فلاں نص سے استدلال کررہا ہے اور اب وہ اس نص کو درخور اعتناء ہی نہیں سمجھ رہا ۔ تو آخر یہ بعد المشرقین کیوں ہے؟

11۔ غامدی مکتب فکر کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے ان کے لیے بروقت گنجائشیں مہیا کرتے ہیں یعنی ان کی گنجائش لوگوں کی ڈیمانڈ کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لیے لوگ ان کی بات کو جلد قبول کرتے ہیں۔ کیا ہم اس کا توڑ نہیں کرسکتے؟ کیا ہم اجتہادی امور میں لوگوں کی اجتماعی ضروریات کے مطابق بروقت اقدامات نہیں اٹھاسکتے؟ آپ ہی بتائیے جب وباء و بلا میں مستند حکماء اپنے مطب بند کرلیں گے یا استغناء اختیار کرلیں گے تو لوگ نیم حکماء کے پاس بھی نہ جائیں گے تو کیا کریں گے؟ کیا زخم کا علاج بروقت ضروری ہے یا جب وہ ناسور بن جائے تب اسے آلات جراحی کی نذر کرنا دانشمندی ہے؟ مشفق و مربی استاذ محترم مفتی محمود اشرف صاحب دامت برکاتہم سے اکثر سنا کہ "لوگوں کو جواز کی آخری حد بتاؤ ورنہ وہ حرام صریح میں مبتلا ہوجائیں گے۔" لوگ اپنے دینی معاملات میں یقیناً ہمارے پاس آتے ہیں لیکن ہمارے پس و پیش کو دیکھ کر وہ نیم حکیموں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، ہمیں اس جمود کو توڑنا ہوگا۔

خدارا ! معاشرے کی نبض کو تھامیے، لوگوں کی مشکلات کا مداوا کیجئے۔ یقین کیجئے اب ہمارا پچاس سال پہلے کا احترام کا ماحول نہیں رہا کہ لوگ منبر و محراب میں آکر آپ سے سوال کریں گے اور آپ کچھ بھی کہہ دیں آنکھ بند کئے یقین کرلیں گے بلکہ ابلاغی تیزرفتاری کے اس دور میں ہم سب کھلے میدان میں ہیں ۔ اس لیے جو حکیم بروقت زخموں پر مرہم رکھے گا اور جو داعی اچھی مارکیٹنگ کرکے بہتر اور بروقت مال بیچے گا، وہ اس زمانے کا مجدد کہلائے گا۔