رؤف کلاسرا جواب دو - ڈاکٹر طاہر ملک

ان دنوں سوشل میڈیا پر بڑی شدومد سے معروف صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے. پانامہ انکوائری میں جے آئی ٹی کے روبرو شریف خاندان رقم دولتِ کے ذرائع کا حساب دے رہا ہے، نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے، سورج کا پارہ چڑھ رہا ہے، گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی حکمرانوں کا پارہ بھی چڑھ رہا ہے. جو جو صحافی حکمرانوں سے سوالات طلب کرے گا، عوام میں شعور بیدار کرے گا، وہ حکمران دشمن کہلائے گا.

اس وقت حکومت کے نزدیک دو طرح کے صحافی پائے جاتے ہیں، حکمران دوست اور حکمران دشمن. یہ صحافی حضرات حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں، ترقی کا پہیہ روکنا چاہتے ہیں، جیسا کہ وزیراعظم کی دختر نیک اختر صحافی عمر چیمہ کو پانامہ لیکس سیکنڈل بے نقاب کرنے پر پاکستان کے خلاف سازش کرنے والا قرار دے چکی ہیں. ایسی مہم میں ہمیشہ کارکن صحافی ہی حکومتی اشاروں پر اور سیٹھ میڈیا مالکان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں. سیٹھ میڈیا مالکان ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتا ہے، جب سارا سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا جے آئی ٹی ارکان کو متنازعہ بنانے پر تلا ہوا ہے، رؤف کلاسرا نہ صرف اس مہم کو بے نقاب کر رہے ہیں بلکہ جے آئی ٹی ارکان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے. اب کلاسرا کو یہ کون سمجھائے کہ پنجاب حکومت کی پیپلزپارٹی دور میں جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنے سے متعلق جھوٹی خفیہ رپورٹ پر ناول لکھ کر اس سازش کو بےنقاب کرنے کی کیا ضرورت تھی، اور پھر پاکستان کے سیاسی کرداروں کے لیے گاڈ فادر کی اصطلاح متعارف کرنے کی کیا ضرورت تھی. بات صرف یہاں تک نہ رکی بلکہ کلاسرا نے ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول کا اردو ترجمہ کرکے اردو قارئین سے متعارف کروا دیا.

یہ بھی پڑھیں:   ن لیگ کی اصل مشکل - محمد عامر خاکوانی

جب دلائل کمزور ہو جائیں تو پھر ذاتی کردار کشی کا عمل شروع کیا جاتا ہے، چنانچہ ایسی ہی مہم شروع کر دی گئی اور کلاسرا کو کیا ضرورت تھی کہ بیوی کے کینسر کے علاج کے لیے گھر بنانے کے لیے رکھا گیا پلاٹ فروخت کرکے علاج کے لیے رقم کا بندوبست کرتا، وہ بھابھی فہمیدہ مرزا کی طرح لاکھوں روپے کا علاج سرکاری خرچ پر کروا سکتی تھیں، یا کلاسرا سرکاری خرچ پر علاج کی حکومتی پیش کش کو نہ ٹھکراتے. نواز شریف جب اپوزیشن میں لندن میں مقیم تھے تو اتفاق سے کلاسرا بھی تعلیم اور صحافت کی غرض سے لندن میں تھے. پرویزرشید اور نادر چودھری کے ساتھ شب و روز گزرتے، پرویز رشید عالی ظرف صحافی کی جنرل مشرف کے دور میں نوازشریف کے بارے میں گھٹیا اور اخلاق سے گری ہوئی خبریں اپنے پرس میں رکھتے اور پاکستان میں گرتے ہوئے صحافت کے معیار پر گریہ کرتے. آج وہ صحافی صالح اور حکمران دوست ہیں اور کلاسرا حکمران دشمن.

چودھری نثار جنرل مشرف کے مارشل لا میں چپ کا روزہ توڑنے کے بعد کلاسرا کو دیے گئے انٹرویو میں ہی نمودار ہوئے اور نواز شریف کی جانب سے کلاسرا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خطوط بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیکن کلاسرا
اپنے بھی خفا مجھ سے ھیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ھلاھل کو کہہ نہ سکا قند
کے مصداق صحافت کرتے ہیں، اسی لیے تحریک انصاف جو کل تک کلاسرا کے گیت گاتی نہ تھکتی تھی، آج کل ان پر تبری کر رہی ہے کیونکہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے کرپشن زدہ سیاستدانوں کو تبدیلی کی دعویدار جماعت نے گلے سے لگایا تو کلاسرا کے قلم نے انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا. ان کے رہنما اصول ان کے بھائی ڈاکٹر نعیم کلاسرا نے مرتب کیے اور وہ ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق کے قائل تھے. اب جبکہ نعیم کلاسرا دنیا میں نہیں رہے، رؤف کلاسرا کو چاہیے کہ ان اعلیٰ اصولوں کو بھی دفن کر دے اور حکومت کی حمایت کر کے کسی ادارے کا سربراہ بن جائے. وفاقی دارالحکومت میں آزاد اور غیر جانبدار صحافی کی حیثیت سے صحافت کرتے رہنا گویا نابینا شہر میں آئینے بیچنا، یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے.