آزادی کشمیر سے گریزاں بھارت - عبداللہ قمر

اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور کرنے، عالمی منظرنامے پر پاکستان کے کردار کو متنازع بنانے کے لیے سازشیں ترتیب دینا مودی سرکار کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ بھارتی وزراء اور انڈین میڈیا کے پاکستان مخالف بیانات کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو اخذ ہوتا ہے کہ دہلی سرکار کا سب سے بڑا ہدف اور ریشہ دوانیوں کا دور پاکستان کے گرد گھومتا ہے۔حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے بیان دیا کہ پاکستان دہشت گردی کوجو پشت فراہم کر رہا ہے وہ صرف بھارت اور عالمی دنیا کے لئے ہی نہیں بلکہ انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ان کے علاوہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی (جن کو دنیا 'گجرات کے قصائی' کے نام سے جانتی ہے) اوڑی میں کشمیری مجاہدین کے حملے بعد بھارتی عوام سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب ہم پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیں گے جس میں مزید اضافہ سشما سوراج نے کیا کہ اس پر عملدرآمد کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس قسم کے بیانات کا سلسلہ یہاں ہی ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ بھارت کا ہر وزیر اس معاملے میں سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے۔ بھارت کے سپورٹس منسٹر نے حال ہی میں پاکستان اورانڈیا کے درمیان کے کرکٹ میچ کے متعلق بات کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ کھیل اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں ہو سکتی، جب تلک پاکستان "کراس بارڈر ٹیررازم" اور کشمیرمیں مداخلت بند نہیں کر دیتا تب تک پاکستان کے ساتھ باہمی کرکٹ سیریز کے کو ئی امکان نہیں اور قومی مزاج بھی اس کی حمایت نہیں کرتا۔فی الوقت اس بات کا فیصلہ مطلوب نہیں کہ بھارت کے ساتھ کرکٹ کا میدان سجنا چاہیے یا نہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بھارتی وزراء نے یہ بیانات آخر کس مد میں دیے۔ اس قسم کی بے بنیاد باتیں صرف وزراء کی جانب سے سامنے نہیں آئیں بلکہ بھارتی تجزیہ نگاروں اور میڈیا سے منسلک دوسرے تیسرے لوگ بھی اسی قسم کی بحثوں میں مصروف ہیں۔ کسی نے دبے دبے الفاظ میں بات کی تو کسی نے سیدھی بات کہ ڈالی لیکن تمام باتوں کا مفہوم یہ تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں پروکسی کا استعمال کر رہا ہے۔

مذکورہ بالا تمام بیانات اور بھارتی میڈیا پر کشمیر کو لے کے پاکستان کے خلاف بننے والا ماحول سوچے سمجھے منصوبے اور پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔ پچھلے سال جولائی سے لے کر اب تک کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جس سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔ اسے چھپانے کے لیے بھارت کچھ حیلے تو کر چکا اور کچھ ابھی جاری ہیں۔ اس تمام پروپیگنڈے کا سب بڑا اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ8 جولائی 2016کو جب بھارتی فورسز نے کشمیری نوجوان بطلِ حریت برہان مظفر وانی کو ساتھیوں سمیت شہید کیا تو لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان کے جنازے کے لیے نکلے اس کے بعد کرفیو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بھارت کی درندہ صفت فوج کا ظلم پھر بڑھنے لگا مگر سلام ہے کشمیری قوم کو کہ ان کے حوصلے ڈگمگائے نہیں۔ وہ قربانیاں دیتے چلے گئے۔ ایک کے بعد دوسری شہادت اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔تحریک آزادی کشمیر کی اس تحریک نے ایک نیا موڑ لیا کہ خواتین جو کہ پہلے دکھ منایا کرتی تھیں، انہوں نے شہادتوں پر نوحہ اورشکوے کرنے کی بجائے دشمن کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے طلبا و طالبات جو سکول / کالج جانے سے گھبراتے تھے اب وہ اپنے بستوں اور ہاتھوں میں پتھر لیے اپنی تعلیم کو آزادی کی راہ میں قربان کر کے سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکی پالیسی برائے جنوبی ایشیاء اور کشمیر پر قبضے کا بھارتی کھیل - نعمان بخاری

الغرض تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا ہر کشمیری قربانی کی بنیاد پراس تحریکِ آزادی کا حصہ بن گیا۔ کسان اپنی زراعت قربان کر کے اس حصہ بنے، تاجروں نے اپنی تجارت قربان کی اور طلبا اپنی تعلیم قربان کر کے اس تحریک میں شامل ہوئے۔ جب کشمیر میں یہ صورتحال پیدا ہو گئی کہ ہر شخص سنگباز بن گیا اور بھارتی فوج کو کرفیو نافذ کرنے کے باوجود شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو بھارتی فوج نے ظلم و ستم میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ کر دیا۔ بدنامِ زمانہ پیلٹ گن کے ذریعے معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنایاگیا۔ ہزاروں لوگ بینائی سے محروم ہو گئے۔اسپتالوں کو چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ علاج و معالجہ کی سہولت بھی جاتی رہی۔شاید ہی اس سے قبل اس چرحِ نیلی فام نے اس قدر ظلم و بربریت دیکھی۔ جب سوشل میڈیا پر بیرونی ممالک سے بھارت کے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھنے لگی تو بھارت جیسے ہٹ دھرم اور چانکیہ کی آڈیالوجی پر یقین رکھنے والے ملک کے لیے ایک تشویشناک بات تھی۔جب یہ تمام صورتحال بنی تو بھارت نے دنیا بھر میں پروپیگنڈہ کیا کہ یہ کوئی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ یہ پاکستان کی لانچ کردہ پراکسی ہے۔ یہ بات صرف بیانات یا میڈیا تک ہی محدود نہیں بلکہ اب تو یہ نکتہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں بھی شامل ہے کہ بیرونی ممالک خصوصاً مغربی ممالک کے سامنے یہ بات رکھی جائے اور ان کو باور کروایا جائے کہ یہ ظلم و ستم نہیں بلکہ پراکسی وار ہے تاکہ جو حمایت کشمیریوں کو حاصل ہوئی ہے اسے روکا جا سکے۔ لیکن بھارت کو اس کام میں مکمل طور پر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے جس میں کشمیری لوگوں کا لہو شامل ہے۔ برہان وانی سے لے کر سبزار احمد بھٹ تک نوجوان کشمیری تھے اور تعلیم یافتہ بھی تھے۔

اس پروپیگنڈے کے مقصد کا دوسرا رخ بلاواسطہ پاکستان سے منسلک ہے اور اس کا تعلق کلبھوشن یادیو سے ہے۔بھارت نے پوری دنیا میں واویلا کیا کہ پاکستان کشمیر میں پراکسی کا استعمال کر رہا ہے۔ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے یہ بات حیرت انگیز ہو گی کہ بھارت جس نے جو کہ پچھلے کئی برسوں سے پاکستان کے خلاف پراکسی کا استعمال کر رہا ہے پاکستان کو کمزور کرنے اور توڑنے تک کے منصوبے بنا چکا ہے وہ پاکستان پر الزام لگائے۔

یہ بھی پڑھیں:   یوم دفاع پاکستان - عبد العزیز غوری

بھارت نے پاکستان کے اندر بلوچستان اور کراچی میں مکمل پلاننگ سے ساتھ پراکسی وار لانچ کی اور پاکستان میں تخریب کاری، شورش اور بغاوت کھڑی کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کے باعث کوئی خاطر خواہ کامیابی بھارت کے حصے میں نہ آئی۔ بلکہ شکست و ذلت کا سامنا کرنا پڑا تاآنکہ ایک بھاتی حاضر سروس جاسوس پاک فوج نے پکڑ لیا۔مختصراً گزشتہ دنوں جب افواجِ پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ نے اس بات کا اعلان کیا کہ کلبھوشن یادیو کو تختہ دار پہ لٹکانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو بھارت کے اندر ایک شور کھڑا ہوا کہ جس میں دہلی سرکار پر دباؤ ڈالا گیا کہ کلبھوشن کو بچایا جائے اور انڈین میڈیا پرکلبھوشن کو قوم کا بیٹا گردانا جانے لگا۔ بھارت یہ معاملہ"انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس" میں لے گیا اور پاکستان نے کلبھوشن کے تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت عدالت کو فراہم کیے۔ تب یہ بات کھل کر پوری دنیا کے سامنے آ گئی کہ بھارت کس طرح دبے پاؤں خاموشی کے ساتھ پاکستان کو توڑنے میں مصروف ہے۔ اس تمام واقعے کے بعد بھارت کی خوب جگ ہنسائی ہوئی اور بھارت کو ایک دفعہ پھر سے سخت الفاظ میں مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔اس سب کے باوجود بھارت ڈھٹائی کے ساتھ پر وپیگنڈہ میں مصروف ہے کہ اقوامِ عالم کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کی جائے کہ صرف بھارت نے بہت سے کلبھوشنوں بھیج کر پاکستان میں تخریب کاری کی کوششیں نہیں کہ بلکہ پاکستان بھی کشمیر میں پراکسی کا استعمال کر رہا ہے حالانکہ اس بات میں رتی برابر بھی سچائی موجود نہیں۔ کشمیر کی تحریک مکمل طور پر کشمیریوں کی مقامی تحریک ہے۔ حریت راہنما کشمیری ہیں، شہید ہونے والے لوگ کشمیری ہیں، سنگباز کشمیری ہیں اور طلبا و طالبات کشمیری ہیں تو یہ تحریک ایک پراکسی کیونکر ہو سکتی ہے۔

بھارت کشمیریوں کی جدوجہد اور آزادی کی اس تحریک کو دنیا کے سامنے منفی انداز میں پیش کر رہا ہے اور کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم اور اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو چھپانے پاکستان کے خلاف جھوٹا پرپیگنڈہ کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان، سفارت خانے اور اور میڈیا اپنی ذمہ داری ادا کریں اور دنیا کے سامنے بھارت کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں تاکہ بھارتی سازشوں کا بروقت سدِّ باب ہو سکے۔مسئلہ کشمیر اور بھارتی پروپیگنڈہ پر پاکستانی میڈیا کی غفلت نامناسب تو ہے ہی کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد ازاں یہ ناقابلِ تلافی ہو جائیں۔