رؤف کلاسرا تمھارے جیسا نہیں - احمد اعجاز

مَیں نے جب لیہ چھوڑا، موسم خوشگوار تھا، مگر میرے لیے خزاں کی مانندتھا۔ بےروزگاری اور مسلسل بے روزگاری نے مجھے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ اسلام آباد کا رُخ کیا۔ منشا یاد کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ کوئی آسرا نہیں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک روزنامے میں میگزین سیکشن میں جگہ خالی ہے۔ میں وہاں پہنچ گیا۔ معلوم پڑا کہ ایڈیٹر صاحب شام کو آئیں گے۔ شام تک انتظار کھینچا مگر وہ نہ آئے۔ رات کو ایک ہوٹل میں پڑ رہا، صبح پھر پہنچ گیا۔ پھر معلوم پڑا کہ شام کو آئیں گے۔ پھر انتظار کھینچا، مگر رات اُسی ہوٹل میں ٹھہرنا پڑگیا۔ سورج کی آنکھ کھلی تو مَیں انتظار کھینچنے پہنچ گیا۔ ایک بار پھر معلوم ہوا کہ ایڈیٹر صاحب شام کو پہنچیں گے۔

آدھا دِن گزرا تھا کہ لیہ سے پروفیسر نواز صدیقی صاحب کا فون آ گیا۔ اُن کو صورتِ حال بتائی، بولے، دھکے کھاتے پھر رہے ہو رؤف سے ملو۔ اُس کو اپنا مسئلہ بتاؤ۔ رؤف کلاسرا صاحب اُن کے شاگر دتھے، مجھے یہ صدیقی صاحب نے بتا رکھا تھا، لیکن رابطہ نہ کیا۔ خیر ایک دِن ایڈیٹر صاحب آفس آ ہی گئے اور میری نوکری لگ گئی۔ وہاں بہت محنت سے کام کیا۔ دوست احباب کہتے تھے کہ رؤف کلاسرا سے ملو، کسی اچھی جگہ لگوا دیں گے۔ (واضح رہے کہ لیہ کے دوست، اسلام آباد کے نہیں) لیکن کبھی رابطہ نہ کیا۔ دُنیا اخبار آچکا تھا اور رؤف کلاسرا صاحب وہاں تھے۔ ایک دِن زبیر قریشی نے کہا کہ چلیں آپ کو اُن سے ملواتے ہیں۔ اُنہی دِنوں میری کتاب (شناخت کا بحران، پاکستانی سماج کا عمرانی مطالعہ) چھپ چکی تھی۔ مَیں یہ کتاب اُن کو دینا چاہتا تھا۔ یہ سوچ کر ملنے پہنچ گیا۔ دُنیا آفس پہنچا تو زبیر قریشی ابھی نہیں پہنچے تھے۔ بتایا، کلاسرا صاحب سے ملنا ہے۔ یہ صبح کا وقت تھا اور زور کی سردی تھی۔ جواب ملا، وہ کہیں جارہے ہیں، کوئی پیغام ہے تودے دیں۔ کہا، کتاب دینی ہے۔ اُن کی طرف سے پیغام آیا کہ بھیج دیں۔ مَیں آفس کے کمرے میں پہنچا تو گرم جوشی سے ملے۔ ڈیڑھ گھنٹہ تقریباًملاقات رہی۔ لیہ اور کتابوں کی باتیں ہوئیں۔ چھوڑنے نیچے تک آئے۔ یہ نہ بتایا کہ فلاں اخبار میں مزدوری کرتا ہوں۔ اُنہوں نے اپنا نمبر دیا، لیکن کبھی اُن کوکال نہ کی۔ ایک ہی ملاقات سے سرشار ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم کے تاجر - پروفیسر محمد عمران ملک

پھر مَیں دُنیا اخبار میں جا پہنچا۔ قبل ازیں کہا گیا کہ اُن سے رابطہ کریں، ملازمت آسانی سے ہوجائے گی، لیکن ایسا نہیں کیا۔ میر ٹ پر جاب ہوئی، عامر خاکوانی صاحب نے شفقت فرمائی۔ دُنیا اخبار میں لکھنا شروع کر دیا۔ خوب مزدوری کی۔ اس دوران رؤف کلاسرا صاحب سے کوئی ملاقات نہ ہوئی۔ ایک بار 92 نیوز میں آفتاب میکن، رؤف صاحب سے ملنے جا رہے تھے، مجھے بھی لے گئے۔ تیس چالیس منٹ ملاقات رہی۔ اُنہوں نے مجھے پہچانا بھی تھا کہ نہیں؟ معلوم نہیں۔ مَیں دُنیا سے روزنامہ 92 نیوز آ گیا۔ ہمارا دفتر ایک ہو گیا۔ کئی بار اُن کو دفتر آتے جاتے دیکھا لیکن کبھی کوئی بات چیت نہ ہوئی۔

میری کتاب (عدم رواداری، تعلیم اور سماج) چھپی، مَیں نے شفیق لغاری (جو اُن کی ٹیم کا حصہ ہیں) کو دی کہ کلاسرا صاحب تک پہنچا دیں۔ مَیں نے اُن کی ساری کتابیں اور تقریباً کالم پڑھے ہیں۔ اگر وہ آج مؤرخہ اَٹھارہ جون بروز اتوار کا کالم نہ لکھتے تو مَیں یہ تحریر بھی شاید نہ لکھتا۔

اب ذرا توقف کریں!!
وہ بستی جیسل (لیہ) کے رہنے والے ہیں۔ ایک شدید گرم دِن کی بات ہے۔ مَیں لیہ سے کوٹ سلطان اپنی بہن کے گھر جا رہا تھا۔ ایک چھپر ہوٹل پر رُکا، جہاں صرف ہوٹل والا بیٹھا ہوا تھا۔ ساتھ ہی نلکا تھا۔ مَیں نے نلکے سے ٹھنڈا پانی نکالا اور خوب پیا۔ پھر چھپر کے نیچے آن کھڑا ہوا۔ سامنے اینٹوں کا بھٹہ دھواں اُگل رہا تھا، اور چھپر ہوٹل کے ساتھ ایک سڑک بستی جیسل کو جا رہی تھی۔ یہ وہی سڑک تھی جو رؤف کلاسرا صاحب کے گھر کو جاتی تھی۔ ’’وہ اسی سڑک کے ذریعے جو کہ اُس زمانے میں کچے راستے کی شکل میں تھی، مرکزی شاہراہ تک آتے ہوں گے، یہاں سے ویگن میں بیٹھ یا پیچھے لٹک کر گورنمنٹ کالج لیہ پہنچتے ہوں گے۔ وہاں شکسپئیر کو پڑھ کر زندگی کا ادراک پاتے ہوں گے، واپسی پر پھر کسی ویگن کے پیچھے لٹک کر یہاں تک پہنچتے ہوں گے اور پھر یہاں سے کئی کلومیٹر پیدل سفر کرکے گھر پہنچتے ہوں گے‘‘ میں نے وہاں کھڑے کھڑے سوچا. ہوٹل والا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ پوچھا، رؤف کلاسرا کو جانتے ہو؟ بولا۔ کون نہیں جانتا؟ پوچھا کبھی تمہارے کام بھی آیا ہے؟ وہ بولا، حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے، سچ بولتا اور لکھتا ہے، یہ اس علاقے کی خدمت نہیں تو کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم کے تاجر - پروفیسر محمد عمران ملک

مَیں نے رؤف کلاسرا سے کبھی اپنے کیرئیر کے لیے مدد کیوں نہ لی؟ کیونکہ جانتا تھا کہ وہ کئی دریا اور جنگل عبور کر کے اپنی منزل تک پہنچے ہیں۔ اُنہوں نے اَدب پڑھا ہے۔ زندگی کو بھگتا ہے اور پھر زندگی کو پا کر جس حظ و مسرت سے ہم کنار ہوئے ہیں، اُسی لذت و مسرت سے وہ مجھے بھی ہم کنار ہونے کا مشور ہ دیں گے۔

جن لوگوں نے اُن کے خلاف بد تہذیبی شروع کی ہے، وہ نرے احمق ہیں۔ دُشمن کو بھی اس کی خبر ہے کہ وہ زندگی سے ہم کنار ہو چکے ہیں۔ زندگی سے ہم کنار ہونے کے بعد پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ گھر الاٹ کرانا، بھائیوں کو نوکریاں دلانا؟ حاشا و کلا

آج اُن کا کالم پڑھ کر احساس ہوا کہ وہ خدانخواستہ شکستہ احساس ہیں۔
جناب رؤف کلاسرا صاحب!
آپ اپنے موضوعات کی طرف جائیے۔ یہ منصب آپ کا نہیں۔ البتہ اُن کا ضرور ہے جن کی پیدائش اور پرورش اندرونی و بیرونی گملوں میں ہوئی ہے۔

Comments

احمد اعجاز

احمد اعجاز

احمد اعجاز معروف صحافی، انٹرویوز اور افسانہ نگار ہیں۔ روزنامہ اوصاف، روزنامہ دنیا کے میگزین سیکشن سے وابستہ رہے، آج کل روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز میگزین سیکشن سے منسلک ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’کہانی مجھے تلاش کرتی ہے‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ سماجی ایشوز پر وہ لکھتے رہے ہیں، شناخت کا بحران ان کی ایک اہم کتاب ہے۔ آج کل وہ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کے ادارتی صفحے کے لئے ’’کہانی کی کہانی‘‘ کے نام سے روزانہ ایک مختصرکہانی لکھ رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں