سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے فضائل - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے فضائل کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جتنی احادیث عمدہ اسناد کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں وارد ہوئی ہیں، اتنی احادیث کسی اور صحابی کی شان میں وارد نہیں ہوئی ہیں۔

علی کے معنی بلندی کے ہیں۔ آپ علم، حلم، کردار،گفتار، شجاعت، عدالت، صداقت میں وہ مقام رکھتے ہیں کہ ہر بلندی پستی معلوم ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ شریف میں ہوئی۔ سب سے پہلے نگاہیں رسول اللہ ﷺ کے دیدار کے لیے کھولیں۔ نبی کریم ﷺ نے خود آپ کی پرورش فرمائی۔ نبی کریم ﷺ کے چچا ابوطالب کے بیٹے ہیں اور حسنین کریمین کے والد ہیں۔ آپ سب پہلے مسلمان ہوئے، سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ ابو طالب کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ بالخصوص نبی کریم ﷺ کی توجہ کا مرکز رہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدۃ نساء العالمین فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کا نکاح جب آپ سے کیا تو فرمایا میں نے تمہارا نکاح ایسے شخص سے کیا جو میری امت میں اسلام کے لحاظ سے سب پر مقدم، علم کے لحاظ سے سب سے زیادہ اور بردباری کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہے. ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر لٹایا۔ اخوت میں نبی کریم ﷺ نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ تمام غزوات میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہے۔ آپ نے خود ارشاد فرمایا: میں اللہ کا بندہ ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کا بھائی ہوں اور میں صدیق اکبر ہوں۔
اقبال نے فرمایا تھا:
مسلم اول شہ مرداں علی
عشق را سرمایہ ایماں علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )
...................................................

فضائل علی رضی اللہ عنہ بزبان مصطفیٰ ﷺ
٭ میں جس کا مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔
٭ اے اللہ جو اس سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے بغض رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔
٭ غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا: کل میں پرچم اس کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کرتے ہیں۔ جبریل اس کے دائیں طرف اور میکائیل اس کے بائیں طرف قتال کریں گے۔ پھر پرچم آپ رضی اللہ عنہ کا عطا ہوا۔
٭ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔
٭ اے علی! تم بخشے ہوئے ہو۔
٭ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے، دونوں جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ اکٹھے حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے ۔
٭ میری امت کا سب سے بڑا قاضی علی ہے۔
٭ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔
٭ علی سے محبت نہیں کرے گا مگر وہ جو مؤمن ہو اور بغض نہیں کرے گا مگر وہ جو منافق ہو.
٭ آپ رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم ﷺ کی دعا سے سورج کو واپس پلٹایا گیا ۔
...................................................

٭ امیر المؤمنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
عورتیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما جیسا جننے سے عاجز ہیں۔
اے علی میں ایسی قوم سے پناہ مانگتا ہوں جس میں اے ابو الحسن آپ نہ ہون ۔
٭ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں میں سب سے بڑھ کر سنت کے عالم ہیں ۔
٭ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھ سے جو چاہو سوال کرو سوائے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے۔
...................................................
آپ رضی اللہ عنہ کی محبت میں دو غیر معتدل رویے ہیں :
1۔ آپ سے محبت کا اظہار نہ کرنا اور فضائل و مناقب بیان نہ کرنا
2۔ آپ کی محبت میں غلو کرنا اور حد سے تجاوز کرنا
ہمیں اہل بیت سے بھی محبت رکھنی ہے، یہ ایمان کا حصہ ہے، اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی.
اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت عطا فرمائے۔ آمین

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں