ستر سال بعد وہی دن دبارہ آ رہا ہے– سید عبدالوہاب شیرازی

رواں سال رمضان المبارک میں ستائیس رمضان المبارک کو وہی دن دبارہ آرہا ہے جو آج سے ستر سال قبل آیا تھا۔ یعنی 14 اگست 1947ء کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اس وقت رمضان المبارک کا مہینہ تھا، اور ستائیس ویں کی رات تھی اور اگلا دن یعنی ستائیسویں کا دن جمعہ کا دن تھا۔ اس سال پھر وہی مہینہ، وہی مبارک رات، وہی مبارک دن دبارہ آرہا ہے۔ کیا آپ اس گھڑی کا تصور کرسکتے ہیں جس گھڑی میں یہ ملک بنا تھا؟ 27 رمضان المبارک، لیلة القدر، جمعہ کی رات اور وہ بھی رات کے بارہ بجے! کیا ایسے میں ملک بنا کرتے ہیں۔

پاکستان اس خطہ میں وقوع پذیر ہے جس طرف سے نبی اکرم ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آئی تھی (اطیب ریح فی ارض الہند۔ الحاکم مستدرک)۔ اور پھر اس پاکستان کو بنانے میں چھ لاکھ انسان قربان ہوئے، ہزاروں عورتوں کی عزتیں پامال ہوئیں، ہزاروں بچے ذبح ہوگئے، ہزاروں علماء کو سولیوں پر لٹکا دیا گیا، توپوں کے آگے باندھ کر اڑا دیا گیا، بڑی بڑی تحریکیں چلیں، 1857ء کی جنگ آزادی ہوئی، تحریک شہیدین چلی، سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے ہندوستان سے چل کر بالاکوٹ کے پہاڑوں میں لاشے کٹوا دیے۔ تحریک استخلاص وطن چلائی گئی۔ تحریک ریشمی رومال چلی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہ اللہ نے مالٹا کے جزائر میں چار سال تک تنہائی کی جیل کاٹی۔ پھر علامہ اقبال نے تصور پاکستان دیا، اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بہت بڑی تحریک آزادی چلی جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ اس نظریے پر یہ تحریک چلی کہ ہمیں ایک الگ وطن چاہیے جہاں ہم اللہ کے دین کو نافذ کر کے اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا: ہمیں پاکستان اس لیے مطلوب ہے کہ عہد حاضر میں اسلام کے اصولِ حریت واخوت ومساوات کا ایک عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔ ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اے اللہ ہمیں انگریز اور ہندوؤں کی دوہری غلامی سے نجات دے، اس لیے کہ ہم پر انگریز کی غلامی کے ساتھ ہندو کی غلامی بھی تھی۔ ہم ہندو کی معاشی غلامی میں مبتلا تھے، ہندو بنیا ایک گاوں میں بیٹھا ہوتا تھا اور وہ سود پر پیسہ دے کر مسلمانوں کی زمینیں ہتھیا لیتا تھا۔ ہندوستان میں پورا کاروبار، پوری صنعت ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی۔ بہت سے دانشور جب پاکستان کی برکات بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پورے انار کلی بازار میں مسلمانوں کی صرف ایک دکان تھی، جبکہ آبادی میں مسلمان زیادہ تھے۔ اس سے بڑی غلامی انگریز کی تھی۔ انگریز عسکری سیاسی اور ریاستی لحاظ سے ہمیں غلام بنائے ہوئے تھے۔ ہم ہندوؤں کے سماجی غلام تھے، ہم ہندوؤں کے رسوم و رواج اور تہوار مناتے تھے تو ہم نے اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعائیں مانگی تھیں۔ چنانچہ اللہ نے وعدہ پورا کیا اور ہمیں 27 رمضان المبارک جمعہ کی شب ایک آزاد ملک عطا کیا۔ پھر کیا ہوا کہ ہم اللہ سے کیے ہوئے سارے وعدے بھول گئے، ہم اپنی دنیا کی زندگی میں مست ہوگئے؟

یہ بھی پڑھیں:   نصف صدی کی کہانی، ہارون الرشید کی زبانی! -اہم انٹرویو

سورہ توبہ کی آیات 75 تا 77 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور ان میں ایک قسم ان کی ہے جنہوں نے اللہ سے ایک عہد کیا تھا کہ اگر اللہ ہمیں اپنے فضل سے نوازے دے گا تو ہم خوب صدقہ اور خیرات کریں گے اور نیک لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا، وہ اپنے عہد سے پھر گئے اور اللہ سے اعراض کیا تو اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری پیدا کردی۔

یعنی جب کوئی قوم اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اللہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیتا ہے، آج پاکستانی قوم کے ساتھ یہی کچھ ہوگیا ہے، ساری قوم کے دلوں میں نفاق پڑ چکا ہے۔

ہمارے ہاں دو قسم کے نفاق پیدا ہوچکے ہیں جن میں سب سے اہم قومی نفاق ہے۔ پہلے ہم ہندوؤں کے مقابلے میں ایک قوم تھے اور ہم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر تحریک آزادی چلائی تھی، لیکن آج ہم نفاقِ باہمی کا شکار ہو کر قومیتوں میں تقسیم ہوچکے ہیںہم پنجابی، پٹھان، بلوچی او رسندھی بن چکے ہیں۔ دوسرا کردار کا نفاق ہے یعنی جھوٹ، وعدہ خلافی اور خیانت۔ یہ تینوں چیزیں مجموعی لحاظ سے بھی اور انفرادی لحاظ سے بھی آج ہر پاکستانی میں موجود ہیں۔ حتی کہ ہمارے رہنما بھی جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں اور خائن بھی ہیں۔ اور ہمارا ریڑھی والا بھی جھوٹ بولتا، وعدہ خلافی کرتا اور خائن ہے۔

سورة السجدة آیت 21 میں ارشاد ہے: ہم انہیں مزہ چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔

چنانچہ اللہ نے بیس بائیس سال بعد ہم پر عذاب کا کوڑا برسایا اور ملک دو ٹکڑے ہوگیا، لیکن ہم پھر بھی نہ سدھرے اور نافرمانی اور وعدہ خلافی کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اللہ وقتا فوقتا سیلاب، زلزلہ، بدامنی، مہنگائی کی صورت میں ہم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے کہ ہم واپس پلٹیں اور اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔ اگر ہم اسی روش پر چلتے رہے تو پھر ان چھوٹے عذابوں کے بعد بڑا عذاب بھی آئے گا اور ہماری داستان نہیں ہوگی داستانوں میں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مرتبہ ستائیس رمضان کو اسی دن جب یہ پاکستان بنا تھا ہم اپنے عہد کو تازہ کریں، سب سے پہلے اس مبارک رات جو لیلة القدر بھی ہوسکتی ہے ہم توبہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں کہ ستر سال بیت گئے ہم وعدہ پورا نہیں کرسکے اس پر ہمیں معاف فرما۔ اور پھر اگلے ہی دن سے ہم یہ عزم لے کر نکلیں کہ اب ہم اس ملک میں اور پھر ساری دنیا میں اسلام کو نافذ اور قائم کرنے کی جدجہد کریں گے۔ دین کو قائم کرنا اللہ کا کام ہے، ہمارا کام اس کے لیے اپنے صلاحیت اور قابلیت کے حساب سے کوشش کرنا ہے۔ ہم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ دین قائم ہوا یا نہیں بلکہ ہم سے یہ سوال ہوگا تم نے کوشش کی یا نہیں۔