آستین کے سانپ – بلال شوکت آزاد

گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا موازنہ کریں تو اس نے سوائے مسائل بڑھانے اور نظریوں کی غلط تشریح پیش کرنے کے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ کسی چینل یا اخبار کا نام تو نہیں لوں گا لیکن آپ لوگ سمجھ رکھتے ہیں کہ یہ “آزاد پالیسی” والے چینل کس طرح کا زہر اس قوم کے ذہنوں میں انڈیل رہے ہیں۔

نجی ذرائع ابلاغ نے آغاز حب الوطنی اور جذبہ وطنیت کے ساتھ کیا اور پھر ملکی سیاست میں آزادی کے نام پر مداخلت شروع کردی۔ خارجی و داخلی امور پر رائے زنی کی آڑ میں طرح طرح کے بین الاقوامی و ملکی نام نہاد اتحاد تشکیل دے کر دوستی کی تکرار کی گئی۔ ہمت اور حوصلہ بڑھا تو بیرونی آقاؤں کی آشرباد سے مذہب اور حدود اللہ کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ نظریہ سازی کی آڑ میں اصل راہ سے بھٹکانے کا کام دینے لگا۔

جب ایسی ملک و مذہب دشمن حرکات و سکنات پر نظر رکھنا شروع کی گئی تو قاتلانہ حملوں اور غیر اخلاقی و غیر پیشہ ورانہ حرکات کا الزام دھر کر فوج اور خفیہ اداروں کے خلاف محاذ کھڑا کردیا گیا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ایک دہائی سےدہشت گردی کا شکار یہ ملک دراصل آزادی رائے اظہار کے غلط استعمال کی وجہ سے ہے۔

پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ بیشتر ادارے آزادی اظہار رائے جیسے بنیادی انسان حق کا غلط، بے جا اور بے ڈھنگا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی منہ زور طاقت کو نکیل ڈالنا مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔

لیکن پھر ایک موقع قوم کے ہر عمر اور ہر طبقے کو ملا اور ایسا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنی اپنی پڑ گئی۔ عوام کے اس میڈیا کو سوشل میڈیا کہتے ہیں جس نے دیر سے ہی سہی لیکن عوام کو اپنی اطاقت اور حقوق سے واقف کرایا۔ سوشل میڈیا کا استعمال مثبت ہو یا منفی، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس نے آزادی کی حدود کی توڑتے میڈیا کو کچھ اوقات دکھائی۔ لیکن اب سوشل میڈیا کو ملک دشمن اور دین دشمن عناصر اپنے زہریلے مقاصد کی خاطر استعمال کر رہے ہیں۔ بلاشبہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن ان “دانشوروں” کی یہ ہلکی ہلکی ضربیں جاری رہیں تو اس سے کافی نقصان پہنچے گا۔ کیا سلمان حیدر، مشعال خان، وقار گورایہ، جبران ناصر اور نظامی جسیے لوگ راتوں رات آئے ہیں؟ ان کو بھی ایسے ہی مواد اور نظریات نے اچھے خاصے مسلمانوں گھرانوں سے نکال کر خراب کیا ہے۔ رہی سہی کسر ایسے میڈیا ہاؤسز نے ان جیسوں کو مکمل اخلاقی و صحافتی مدد بہم پہنچا کر پوری کی ہے۔ جو اپنے منصوبوں پر ناکام ہو کر بیٹھنے والے تھے کہ میڈیا جلتی پر تیل کا کام کرنے پہنچ گیا۔

بہرحال، ان علانیہ و خفیہ تحاریک اور نظریات کے گڑھ سوشل میڈیا کے بطن میں اچھے کے ساتھ ساتھ کیا برا چھپا بیٹھا ہے، میری اور آپ کی سوچ اس کا احاطہ کر بھی نہیں سکتا۔ اسی سوشل میڈيا نے جہاں سیاسی شعور اور بنیادی انسانی حقوق سے واقف کروایا، مذہب کی درست تشریح اور نظریات کی سمت کا تعین کیا، فوج جیسے ادارے کو جمہوریت کے معنی سمجھا دیے، عوام کو فوج اور دیگر قومی اداروں سے محبت کا میٹھا درس تک دیا، جمہوریت کے نام پر سیاست چمکانے کے خلاف عوام کو ان کا حق اور طاقت سمجھادیئے، علم و ادب دوستی کی بنیادیں پکی کیں، تحقیق اور مطالعے کی نئی راہیں دکھائیں اور اور شمار مثبت چیزوں سے عوام کو مستفید کیا۔لیکن یہیں پر گستاخِ رسول، مذہب و ادیان کے پرچارک بھی دیکھے، بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگی بڑھانے والے نام نہاد سوشل ورکر اور دانشوروں سے بھی واسطہ پڑا، رہ گئی بات فرقہ ورانہ و سیاسی وابستگیوں اور خوارجیت کا پرچار کرنے والوں کی تو ان کا بھی ایک جم غفیر یہاں موجود ہے۔

لیکن ابھی آغاز ہے، ایسے کسی بھی اتحاد یا تحریک کو ابھی دبوچنا قدرے آسان ہے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ آئین پاکستان کے مطابق آزادی اظہار رائے کی آزادی محدود و مشروط ہے۔ اللہ، مذہب، الہامی کتب، انبیاء اور مقدس ہستیوں اور قومی رازوں کے خلاف کچھ بھی اور دوست ممالک کے خلاف اور دشمن ملکوں کی حمایت میں کچھ لکھنا ممنوع ہے۔ ان شرائط کو نظر انداز کرکے کسی بھی طرح کی رائے دی جائے گی تو وہ ناقابل برداشت بھی ہوگی اور قابل سزا بھی۔

یہ وقت ہے فتنہ کی نشاندہی کا، اگر یہیں تدارک کیا گیا تو مناسب ہے ورنہ قوم آستین کے ان سانپوں سے نبرد زآما کے لیے بھی تیار ہے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam