تخلیق اور مقصدِ تخلیق – محمد شاکر

عمدہ نظم و نسق دیکھ کر ذہن بہترین منتظم کی طرف غیر ارادی طور پر منتقل ہوجاتا ہے، دلکش ڈیزائن کا مشاہدہ ہنر مند انجینئر کی صلاحیت کو داد دینے پر غیر شعوری انداز میں مجبور کرتا ہے اور بہترین کتاب مصنف کے لیے دل کی راہیں ہموار کرتی ہے. اکثر و بیشتر یہ سب بےساختگی کے عالم میں ہوتا ہے. یہی رویہ معقول، دانشمندانہ اور اخلاقی جرأت پر مبنی سمجھا جاتا ہے. یہ ان ہنر مندوں کا حق گردانا جاتا ہے کہ ان کی تحسین کی جائے۔ معاملہ الٹ ہو تو انگلیاں کس کی طرف اٹھتی ہیں؟یہ بھی ظاہر ہے ؎
لاکھ نادان سہی اتنے بھی ہم کور نہیں
چمن دیکھ کر ذکرِ چمن آراء نہ کریں

ان حالات میں کوئی ’’عقلمند‘‘اٹھے اور ان سب باتوں کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دے، کسی کی ہنر مندی حتی کہ شعوری مداخلت کا انکار کردے، دلائل کا انبار بھی ساتھ رکھتا ہو، لوگوں کا کم از کم ردِعمل یہ ہوگا کہ آنجناب کو ذہنی معذور سمجھیں، لیکن کائناتِ ہست و بود کا سب سے بڑا عجوبہ اور تخلیق کی دنیا کا آخری شاہکار یعنی حضرتِ انسان اس آفاقی حقیقت اور قانونِ فطرت سے مستثنیٰ ہے، اس کو تمام تر پیچیدہ سسٹم اور ورطۂ حیرت میں ڈالنے والے نظم کے باوجود اندھی اتفاقات کا نتیجہ قرار دیا گیا اور دیے جانے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔

جی ہاں! حضرت ِانسان ہی پر کیا موقوف، کائنات کے ذرّے ذرّے سے عیاں میرے رب کی تخلیق کاری کو جھٹلایا جارہا ہے، اتفاقات سے منسوب کرکے تخلیقِ ربّانی کا انکار دادِ تحقیق کا استحقاق پاتا ہے، مگر یہ کوئی خیال نہ کر بیٹھے کہ سائنس بھی ’’دانشمندی‘‘ کا ساتھ دے رہی ہوگی، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ترکی کے Dr.Ali Demirsoy جو اپنے وطن میں ارتقاء پسندانہ فکر کے حوالے سے ایک بہت بڑی اتھارٹی تصوّر کیے جاتے ہیں، خلوی رنگتوں (Cytochromec) جو زندگی کے لیے لازمی ہوتی ہیں، کی اتفاقیہ تشکیل کے امکان پر اپنی کتاب’’Kalitim ve Evrim‘‘ میں لکھتے ہیں، ایک Cytochrom-g کے ترتیب کے ساتھ متشکل ہونے کا امکان صفر کے برابر ہے. اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر زندگی کو ایک خاص نظم و ترتیب کی ضرورت ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ پوری کائنات میں صرف ایک بار اس کے حصول کا امکان ہے وگرنہ کچھ مابعد الطبعیاتی قوتیں ایسی ہیں جن کی تشریح ہمارے بس میں نہیں، جنہوں نے اس کو متشکل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مؤخر الذکر کو تسلیم کرنا سائنسی اہداف کے لیے موزوں نہیں، اس لیے ہمیں پہلے مفروضے کی طرف دیکھنا ہوگا. (بحوالہ ہارون یحییٰ)

دوسری بات یہ کہ تمام موجوداتِ مشاہد میں دو احتمال ہیں، ممکن اور واجب، ممتنع تو ہو ہی نہیں سکتے موجود جو ٹھہرے، واجب بھی نہیں ہوسکتے کیونکہ واجب کا مطلب ہوتا ہے کہ ان کا وجود خانہ زاد ہو اور جس کا وجود خانہ زاد ہو، اس کی نہ ابتداء ہوتی ہے اور نہ انتہاء جبکہ ہمارا مشاہدہ موجودات کے بارے میں بر عکس ہے، کچھ کو ہم برہنہ آنکھوں سے فنا کی گھاٹ اترتے دیکھتے ہیں، پھر ان کی جگہ لینے کو متبادل دیکھتے دیکھتے پردۂ عدم سے منصۂ شہود پر آ دھمکتے ہیں۔

باقی کا حال یہ ہے کہ وہ کم ازکم اوصافاً متغیر ہیں، یہی بات ان کے ازلی نہ ہونے کی غمازی کرتی ہے ورنہ اوصافِ متغیرہ کا ازلی ہونا لازم آئے گا جو بدیہی البطلان ہے، ان کا ممکن ہونا ہی حرفِ آخر ٹھہرا، اور ان کے وجود کا خانہ زاد ہونا حرفِ غلط، معاًیہ سوال اٹھ کھڑا ہوا، پھر ان کے وجود کی علت کیا ہے؟ موجد کے پردے میں کون پنہاں ہے؟ کیونکہ جس کا وجود خانہ زاد نہیں ہوگا، لازماً کسی سبب اور علت کی بناء پر ہوگا، وہ بھی ممتنع نہیں ہو سکتا کہ ’’خفتہ را خفتہ کئی کند بیدار‘‘ بلکہ یہاں تو معلول قوی ہے، ممکن بھی نہیں ہوسکتا ورنہ سوال در سوال کا لامتناہی سلسلہ چل پڑے گا، فلسفیانہ زبان میں تسلسل لازم آئے گا جو کہ باطل ہے۔ اب تیسرا احتمال عقلاً متعین ہے کہ واجب یعنی ایسی ذات کہ جس کا وجود خانہ زاد ہو، جس کی نہ ابتداء ہو نہ انتہا، یہ وہ واحد حل ہے کہ جس پر عقل مطمئن ہو سکتی ہے اور یہ بات بھی مستقل دلیل ہے جیسا کہ ریاضی کے جوابات میں صحت کی دلیل غیر کا نہ ہونا ہوتا ہے۔

تو گویا کہ عامیانہ مشاہدہ، جدید سائنس، قدیم فلسفہ اور ریاضی کے اصول اسی ایک نکتے پر متفق ہیں کہ تخلیق حقیقت ہے اور ہے کوئی نہ کوئی خالق و صانع لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، اگر بات ایسی ہی ہے تو پھر اس کو مسلّمِ عام ہونا چاہیے،حقائق اس کا منہ کیوں چڑاتے ہیں؟ ان کا جواب یہ ہے، در اصل تسلیمِ تخلیق بانجھ عمل نہیں ہے، بات تخلیق پر ختم نہیں ہوتی، اس کے کچھ ایسے لوازمات ہیں جو آزاد منش لوگوں کے لیے سوہانِ روح ہیں گویا کہ تخلیق کا اقرار یار لوگوں کے لیے ایسی لامتناہی آزمائشوں کا دروازہ چوپٹ کھولنے والا ہے جس کے وہ اپنی افتادِ طبع کے بناء پر متحمل نہیں ہیں۔

تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ تخلیق کو ماننے سے خالق اور مقصدِ تخلیق کو ماننا پڑے گا، مقصدِ تخلیق بھی وہ جو خالق بتائے گا جیسا کہ دنیا کا اصول ہے، پھر زندگی کو اس کی خاطر وقف کرنا پڑے گا، اس کے تحصیل کا طریقہ بھی وہی بتائے گا، پھر ہر وہ کام غلط ٹھہرے گا جو اس مقصد کے خلاف ہو یا اس کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بنے یا تحصیل کی کوششوں پر اثر انداز ہو، پھر کچھ باتیں حفظانِ صحت و حیات کے نام پر خلافِ طبع حرام قرار پائیں گی، آزادی کا دلدادہ انساں ان لوازمات سے گھبراتا ہے۔

پھر اس سے ایک قدم آگے بڑھ جاؤ تو پر ہی جلنے لگتے ہیں یعنی یہ سوال ہوجائے، خالق کون ہے؟ مقصدِ تخلیق؟ حصول کیسے؟ بادِ مخالف سے بچاؤ کا طریقہ کیا؟ ان سب سوالوں کا جواب ہی مذہب ہے لیکن خود ساختہ نہیں، انسانی دخل اندازی سے پراگندہ نہیں بلکہ فرستادہ اور محفوظ، اب ظاہر ہے کہ عدل و تحقیق کی رو سے اس کی کسوٹی پر کون سا مذہب پورا اترتا ہے. یہ سوال ہے جس کا جواب اپنی تمام تر حقانیتوں کے باوجود بہتوں کے لیے تلخ ہے یعنی تسلیمِ تخلیق سے جو ماننے کا سلسلہ چل پڑا تھا، بالآخر اس کی تان قبولیتِ اسلام پر آکر ٹوٹتی ہے، یہی وہ بات ہے جو سائنسی اہداف کے لیے موزوں نہیں ہے۔

اب رہی یہ بات کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مقصدِ تخلیق یا فلسفیانہ لب و لہجے میں نصب العینی فریضہ کیا ہے؟

یہ علی اختلافِ الاقوال و الآراء مندرجہ ذیل ہے :
(۱)محبتِ الہی (۲)معرفت (۳)عبادت (۴)اطاعت (۵)خلافت
پہلی رائے کی دلیل :وَالَّذِیْنَ آمَنُوْااَشَدُّ حُبًّالِّلّٰہِ
دوسری رائے کی دلیل:کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًّافَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ
تیسری رائے کی دلیل :وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ
چوتھی رائے کی دلیل : مَن یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًاعَظِیْمًا
پانچویں رائے کی دلیل :وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ

یہاں پر دلائل کا استقصاء واستیعاب مقصود ہے نہ ان سے بحث، صرف یہ جتلانا ہے کہ یہ آراء سہی پر خود ساختہ اور من گھڑت نہیں، ان کی بنیاد دلائل پر ہے، پھر جتنا اختلاف اور تنوّع بادی ُالنظر میں دکھائی دیتا ہے کہ کوئی فعلِ قلب ہے تو کوئی فعلِ جوارح، کسی کا تعلق انفرادی زندگی سے تو کسی کا اجتماعی معاملات سے اور کسی کا منبع دل کی دنیا ہے تو کسی کا مرکز دماغ۔ یہ جزئی کو کلّی سمجھنے کا شاخسانہ ہے ورنہ تطبیق سب کچھ سلجھادیتی ہے، وہ اس طرح کہ مرکزی نکتہ تو محبت ہے فنا فی اللہ کی حد تک، مگر معرفتِ کلّی کے بغیر محبت کی تکمیل کا خواب ادھورا ہی رہے گا، پھر معرفت کا حصول عبادت کے طریقے سے ممکن ہے لیکن عبادت وہ مقبول ہے جو اطادت کے نقشے پر ہو پھر اطاعت صرف انفرادی امور ہی میں نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کو بھی اطاعت سے آراستہ کئے بغیر منزل سراب ہی سراب ہے۔

یہاں پر ایک اور دلچسپ مگر انتہائی اہم نکتہ سمجھ میں آتا ہے جس پر بہت کم لوگ غور کرتے ہیں کہ حدیث پاک میں کامل مسلمان کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ ہوں اور کامل مؤمن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ اس کے شر سے ساری انسانیت مامون رہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ دیکھو! جب انسان کو ئی بھی چیز ایجاد کرتا ہے تو وہی انسان جہاں اس چیز کا مقصد اور مقصد کے حصول کا طریقہ بتاتا ہے، وہیں یہ بھی بتاتا ہے کہ خبر دار! ان باتوں سے بچ کر رہنا ورنہ خرابی کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے، ایسا اس لیے کرتا ہے کہ مقصد کے حصول کے لیے نفسِ شئی کی بقاء شرطِ اوّل ہے، بعینہ اسی طرح انسان ہوگا تو خلافت ہوگی، اطاعت ہوگی، عبادت ہوگی، معرفت ہوگی اور پھر محبت ورنہ نام رہے اللہ کا، اس لیے انسان کا تحفظ بھی مقاصدِدین میں شامل ہے، اگرچہ ثانوی نوعیت کی ہے۔

میرے آقا کریم انے یہ بھی فرمایا ’’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِی الْاِسْلَامِ‘‘کہ اسلام میں کسی نقصان پہچانے کی کنجائش نہیں حتی کہ اپنی ذات کو بھی۔ یہ جو بعض لوگ بات بے بات پر مرنے اور مارنے پر تُلے رہتے ہیں، نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، ان کو سخت خلطِ مبحث ہو گیا ہے، خدا نخواستہ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو انسان پیدا ہی کیوں کیا جاتا، یہ تو ’’نَقَضَتْ غَزْلَھَا‘‘ والی بات ہے، اب اسلامی احکام کا جائزہ لیا جائے تو وہ مذکورہ باتوں کے دائرے میں گھومتے ہیں، مثلاً کچھ تحفظِ انسانیت کے قبیل سے ہیں خصوصاًحرمت والے احکام، اور کچھ حصولِ مقصد کے براہِ راست طریقے ہیں جیسے بدنی عبادات، پھر حیرت انگیز حد تک ان میں ربط بھی ہے، ہر ایک کا مرکز اور محور ایک اور کوئی بھی مقصد سے ہٹا دینے والا نہیں مثلاً تجارت ہی کو لے لو، بظاہر دنیاوی کام ہے جیسا کہ عامیانہ سوچ ہے مگر جب شرعی اصولوں پر ہو تو حدیث میں بشارت آئی ہے کہ امانت دار اور سچے تاجر کا حشر انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا جب اتنی بڑی بشارت ہے تو نیکی ہے جب نیکی ہے تو عبادت ہے، جب عبادت ہے تو معرفت پھر محبت کا ذریعہ بھی، امانت اور صداقت کی بناء پر اس کو دنیاوی مفادات اور ظاہری فوائد کو قربان کرنا پڑے گا اور قربانی اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔

جی جناب! تجارت پر کیا موقوف؟ اسلام کی جو نعمت ہمیں نصیب ہوئی ہے، یہ تو جینے کا ایسا مبارک اور دو آتشہ نظام ہے کہ اس نہج پر زندگی کو ڈالو تو پانچوں انگلیاں گھی میں، دنیا کے کام ہوتے جائیں گے ساتھ ساتھ عبادت کا کھاتہ بھی کھلارہے گا۔ ’’دست بکار دل بیار‘‘ سے آگے کی بات ہے، کام اپنے کرتے جاؤ زینہ مگر قربِ الہی کا چڑھتے جاؤ، اور تو اور مزے اُڑاتے جاؤ، منازل قربِ خداوندی کے طے کرتے جاؤ۔ ہاں ہاں! میں بہک نہیں گیا، حدیث میں آتا ہے بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنا صدقہ، بیوی کا بوس وکنار صدقہ، سبحان اللہ۔

الغرض اسلام کا معاشی نظام عبادت، عدالتی نظام عبادت، تعلیمی نظام عبادت اور سیاسی نظام عبادت ہی عبادت، دین ہی دین ، صرف وہی دنیا ہے جو شرعی نہج پر نہ ہو، البتہ فرقِ مراتب کا لحاظ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار سلبِ ایمان کا باعث ہے۔ (اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے) اس کا مطلب یہ ہوا دین اور دنیا کی تفریق سیکولرازم کے نام پر ہو یا خود دین کے نام پر سراسر غلط ہے اور بقولِ شاعرِ مشرق چنگیزیت بھی۔

آج اگر تجارت بنہج شریعت کو دین، عبادت اور قرب کا ذریعہ کہا جاتا تو حرام خوری، سود خوری اور دھوکہ دہی کی شاید وہ کیفیت نہ ہوتی جواب ہے۔ نوکر ی، سیاست اور عدالت کو عبادت کا عنوان ملتا تو شاید کرپشن رستا ہوا ناسور نہ بن پاتا، ہم نے فرق کیا تو دین اور دنیا نے یہ گُل کھلائے۔

Comments

FB Login Required

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عمدہ تحریر ہے۔
    ایک لفظ لکھا ہے کہ: “نوکروں” کا فطرانہ بھی دینا ہے، یہ محل نظر ہے؛ کیونکہ آج کل کے نوکر اور ماضی کے غلاموں میں زمین آسمان کا فرق ہے جو محترم جناب عادل سہیل ظفر صاحب سے یقینا مخفی نہیں ہے، شاید یہ “سبقت ٹائپنگ” ہے، اسے درست فرما لیا جائے تو بہتر ہوگا۔

Protected by WP Anti Spam