اچیاں لمیاں ٹاہلیاں تے وچ گجری دی پینگ وے ماہیا - سائرہ ممتاز

پچھلے ہفتے ابا جی کی پھپھو یعنی ہمارے دادا کی اکلوتی نشانی ان کی بہن کے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جانے کے لیے اب رکشہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ یکے اور ٹانگے تو ناپید ہو چکے جو گرم دوپہروں میں دلکی چال چل کر مسافروں کو روحانی طور پر آسودہ کر دیتے تھے۔ اس لیے ہم نے بھی ایک عدد رکشہ پکڑا جس کے ٹائر دس منٹ کی مسافت کے بعد، گرمی کی شدت سے برسٹ ہو گئے. میرے ساتھ مصحف بھی تھا اور دوپہر بارہ بجے کی شدید گرمی میں شکر کا مقام یہ تھا کہ شہر کی سینٹرل جیل کی پچھلی طرف جہاں ٹائر پنکچر ہوا، سامنے ہی گاڑیوں کی ورکشاپ تھی، جس کے برآمدے میں چارپائیاں رکھی تھیں اور الیکٹرک واٹر کولر بھی موجود تھا۔

اب پنکچر ٹھیک ہوتے تک وہاں بیٹھ کر میں نے شرینھ اور املتاس کو یاد کیا جو میرے بچپن کے ساتھ ساتھ بڑے ہوئے ہیں. سوچا تھا کہ اس پر تحریر لکھوں گی جو بعد میں رمضان شریف کی آمد کے ساتھ ہی ذہن سے محو ہو گئی اور اب کل رات منزہ احتشام گوندل صاحبہ کے اسٹیٹس سے تازہ ہوئی۔ کل رات میں سو نہیں سکی اور ابھی تک گرمیوں کی وہ دوپہریں میرے ارد گرد پھیریاں ڈال رہی ہیں جن کی حدت سے دھریک کے پتے لپٹ کر انھیں تازگی بخش رہے ہیں۔ کچے امرودوں کی خوشبو جن دوپہروں کے آگ برساتے سورج کو للچاتی ہے۔ جن کے پاس شرینھ کے ٹھنڈے پتوں کی چھاؤں ہے۔ تب سورج ویسی ہی آگ برساتا تھا اور اے سی یا کولر فین جیسی چیزوں سے ہم ناوقف تھے۔ بہت ہوا تو ہاتھ والے نلکے پر پانچ چھ دفعہ کپڑوں سمیت نہا لیا۔ پھر امرود کے درخت تلے دادی کی بچھائی ہوئی چارپائی پر جا بیٹھے۔گرم ہوا کے جھونکے امرود کے درخت تلے ہمارے گیلے کپڑوں سے لگ کر خودبخؤد ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔ وہاں سے اٹھے تو نانا ابا کے ٹھنڈے کمرے میں جا پہنچے۔ وہ کمرہ ان کے گھر کے ساتھ ہی لگتا تھا جو ہندوستان سے آئے ایک بابے کی ملکیت تھا جو اکیلا یہاں پہنچا اور اللہ بندہ کہلاتا تھا، اس کے آگے پیچھے کی کہانی کسی کو نہیں معلوم، مرنے سے پہلے وہ کمرہ میرے نانا کو سونپ گیا۔ شنید ہے وہ کمرہ کسی ہندو کی ملکیت تھا کہ اس کے اوپر چوبارہ بھی بنا ہوا ہے اور کرشن کنیہا کے مندر کے عین سامنے اس پر اب بھی کوئی جوت جلانے آتا ہے بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔

نانا ابا نہیں رہے مگر وہ کمرہ اب بھی وہیں ہے اور اے سی کے بغیر ٹھنڈا یخ رہتا ہے۔ لیکن اب دل نہیں چاہتا اسے کھول کر وہاں بیٹھا جائے۔ دھوپ بھی تو ویسی نہیں رہی۔ ایک ٹھنڈی سڑک بھی یادوں کے ذخیرے میں کہیں پڑی ہے جس کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹی نہر بہتی ہے اور جس کے کنارے کنارے درخت ہی درخت ہیں۔ جب چیت کے میلے کے آس پاس بارشیں ہوا کرتی تھیں تو اس نہر کنارے شرینھ، کیکر، دھریک کے درختوں کے بیچوں بیچ گجری کی پینگ جھول جاتی تھی جس پر بیٹھ کر نیلی بلبل، کالی فاختہ اور سنہری چڑیا جھولے جھولتی تھیں.