پیکرِ شجاعت، حید کرار سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ - محمد مبشر بدر

شجاعت و بہادری کا وصف ہر ایک میں نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر کوئی اس کا اہل ہوتا ہے۔ جرأت اور بہادری اسی کے حصے میں آتی ہیں جو موت سے بے خوف ہو اور اسے شہد سے زیادہ لذت آفریں اور شیریں سمجھتا ہو۔ یہ وصف شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا چنانچہ شجاعت جب بھی پکاری جاتی ہے وہ سیدنا علیؓ کا وصف بن کر ذہنوں میں ابھرتی ہے۔ ہم ایک واقعے سے اس کی ایک جھلک قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

خیبر کا میدان جنگ کے لیے سجا ہوا ہے۔ یہودیوں کا مشہور پہلوان مرحب اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتا ہوا میدان میں رجزیہ اشعار پڑھ رہا ہے۔

لقد علمت خیبر انی مرحب
شاکی السلاح بطل مجرب
اذا الحروب اقبلت تلہب

"تمام خیبر جانتا ہے کہ میرا نام مرحب ہے۔ اسلحے سے لیس، بہادر اور لڑائی میں تجربہ کار ہوں۔ میری بہادری اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب شعلہ زن لڑائیاں سامنے آتی ہیں۔"

نبی کریم ﷺ نے اس کا جواب دینے کے لیے فرمایا: آج میں جھنڈا اس کو عطا کروں گا جس کو اللہ اور رسول ﷺ سے محبت ہے۔ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ کو بلایا، ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ اپنا لعابِ دہن لگاتے ہیں اور جھنڈا مرحمت فرما کر مرحب سے مقابلہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ سیدنا علی المرتضی پلٹ کر میدان میں دھاڑتے ہوئے مرحب کو دیکھتے ہیں، اور پھر تلوار لہرا کر مرحب کے جواب میں یہ دلیرانہ اشعار پڑھتے ہوئے میدان میں اترتے ہیں۔
انا الذی سمتنی امی حیدرہ
کلیثِ غاباتٍ کریہہ المنظرہ
اوفیہم بالصاع کیل السندرہ
"میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حیدر یعنی شیر رکھا، میں جنگل کے ہولناک منظر والے شیروں کی طرح ہوں، میں دشمنوں کو پورا پورا ناپ کر دیتا ہوں جیسا کہ کھلے پیمانے میں پورا پورا دیا جاتا ہے (یعنی میں دشمنوں کی وسیع پیمانے میں خون یزی کرتا ہوں)"

پھر شیر خدا نے مرحب کے سر پر اس زور سے وار کیا کہ سر دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ سیدنا علیؓ کے اشعار ان کی بہادری اور شجاعت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ کس پائے کے جری تھی۔ اسی چیز نے انہیں دیگر صحابہؓ میں ممتاز کیا تھا کہ دشمن سے لڑتے وقت بے خوف ہوتے اور کسی دشمن کو اپنے سامنے ٹکنے نہیں دیتے تھے۔ جو ان کے سامنے آتا، اس کی موت یقینی سمجھی جاتی تھی۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے مدمقابل پر غالب کیسے آجاتے ہیں؟ فرمایا "میں پہلے سے ہی عزم مصمم کرلیتا ہوں کہ میں ہی اس پر غالب آؤں گا۔"

سیدنا علیؓ کو یہ بلند مقام ملا ہے کہ آپ نبی علیہ السلام کے چچازاد ہونے کے ساتھ دامادِ رسول ﷺ بھی ہیں اور آپ نے آقا علیہ السلام کی ہی تربیت میں پرورش پائی۔ بچوں میں سب سے پہلے اور صرف دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ قریش کے سرداروں کے سامنے نبی علیہ السلام کا ساتھ دینے کی اس وقت بات کی جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی نہ تھا۔ آپ نبی علیہ السلام کے چوتھے جانشین خلیفۂ ہیں۔ آپ کے علاوہ آپ کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں، بڑے بھائی کا نام طالب، پھر عقیل، پھر جعفر اور آخر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ بہنوں میں ایک ام ہانی اور دوسری کا نام جُمانہ تھا۔ آپ کی زوجیت میں یکے بعد دیگرے آٹھ خواتین آئیں۔ پہلی سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا ہیں جن کی حیات میں آپ نے کسی عورت سے شادی نہ کی۔ ان کی وفات کے بعد خولہ بنت جعفر حنفیہ، پھر امامہ بنت ابی عاص بن ربیع، پھر اسماء بنت عمیس جو ان کے بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور ان کے غزوہ موتہ میں شہید ہونے کے چھ ماہ بعد آقا علیہ السلام نے ان کا نکاح سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ سے کردیا۔ ان کی وفات کے بعد سیدنا علی سے ان کا عقد ہوا۔ پانچویں بیوی کا نام محیاہ بنت امرئ القیس ہے، چھٹی بیوی کا نام لیلیٰ بنت مسعود ہے، ساتویں بیوی کا نام ام حبیبہ بنت ربیعہ تغلبیہ ہے اور آٹھویں بیوی کا نام ام سعد بنت عروہ ثقفیہ ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان خواتین سے نکاح حدِ شرعی کا خیال فرماتے ہوئے کیا۔

آپ کی اولاد میں بارہ بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹوں کی ترتیب اسماء یوں ہے۔ حسن، حسین، محسن، عباس، ہلال، عبداللہ، جعفر، عثمان، عبیداللہ، ابوبکر، محمد بن حنفیہ اور عمر۔ جب کہ ایک متبنیٰ بیٹے محمد بن ابوبکر ہیں جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں اور حضرت اسماء بنت عمیس کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زیرکفالت آئے تھے۔ تین بیٹیاں زینب، ام کلثوم اور رقیہ ہیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسلام کے لیے بے شمار کارنامے ہیں۔ انہوں نے اسلام کی تقریباً سب ہی جنگوں میں حصہ لیا۔ آپ علم کے بے تاج بادشاہ بلکہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا بے کنار سمندر تھے۔ آپ نے اپنے دورِ حکومت میں کوفہ کو دارالخلافہ بنایا اور وہاں علم و عرفان کی بارش برسائی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نئے پیش آمدہ مسائل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رجوع فرماتے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی لانیحل مسائل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کرتے تھے، جس سے آپ کی علمی جلالت شان کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کی کنیت ابوالحسن ہے لیکن آپ کو آقا علیہ السلام نے ابوتراب کہہ کر پکارا تو اس سے مشہور ہوگئے۔ آپ کو بطورِ لقب مرتضیٰ اور حیدر بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی فضلیت کا اندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا: "تم میری طرف سے اس مرتبے پر ہو جس مرتبے پر ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے تھے، مگر بات یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

آپ کی ولادت باسعادت 13 رجب بمطابق 17 مارچ 599ء میں مکہ مکرمہ کے مقام تہامہ میں خواجہ ابوطالب کے گھر ہوئی جو آقا علیہ السلام کے حقیقی چچا تھے۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ میانہ قد، روشن و منور چہرہ، گھنی اور حلقہ دار داڑہی، ناک بلند، رخسار پر گوشت، بڑی اور گول آنکھیں، کشادہ پیشانی، کاندھے بھاری اور چوڑے، کلائیاں اور بازو گوشت سے بھرے ہوئے، سینہ چوڑا اور چہرے پر ہاشمی و قریشی وجاہت نمایاں تھی۔ میدان جنگ میں تلوار کے دھنی اور رات کے وقت شب زندہ دار تھے۔ زہد و تقویٰ چہرے سے عیاں تھا۔ کثرت سے عبادت کرتے اور راتوں کو داڑھی پکڑ کر روتے رہتے۔ زندگی انتہائی سادہ گزاری، سادہ کھانا کھاتے اور سادہ لباس پہنتے، نمک، کھجور، دودھ اور گوشت سے رغبت تھی۔ نماز کے وقت بدن پر کپکپی طاری ہوتی اور چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا کہ احکم الحاکمین سے ملاقات کا وقت آگیا۔ زبیر بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "میں نے کسی ہاشمی کو نہیں دیکھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ عبادت گزار ہو۔"

آپ کا شمار ان دس خوش قسمت صحابہؓ میں ہوتا ہے جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے اور یوں آپ کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی۔ خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ خلیفہ بنے۔ آپ کی مدت خلافت تین ماہ کم پانچ سال ہے۔ آپ کی شہادت 21 رمضان 40 ہجری بمطابق 27 جنوری کو عراق کے شہر کوفہ میں ایک بدبخت خارجی عبدالرحمان بن ملجم کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد ہوئی۔ آپ کو کوفہ کے قریب مقامِ نجف میں دفن کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی آپ پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔ آمین