غیرمسلم کاقرآن مجیدچھونایاپڑھنا : عبدالوہاب سلیم

ایسے بہت سے بھائی جن کے اردگرد غیر مسلم بستے ہیں اور وہ انکو دعوت ِاسلام دیتے ہیں انھیں جو مسائل درپیش آتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کیا غیر مسلم قرآن چھو سکتا ہے؟؟ کیونکہ جب اسلام کی دعوت دی جاتی ہے تو ایک داعی اپنے دلائل عموما قرآن سے ہی لیتا ہے اور لامحالہ جس کو دعوت دی جا رہی ہوتی ہے وہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے اپنی ڈیوائن بک دیں تاکہ میں اسکا مطالعہ کر سکوں۔۔۔
اس سوال کا سادہ اور مطلق جواب تو یہی ہے کہ غیر مسلم قرآن کو چھو نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: "لایمسہ الا المطھرون" اس (قرآن مجید) کو مت چھو مگر یہ کہ جو پاک صاف ہوں"۔ علماء کرام کا اس بات پہ اجماع ہے کہ یہاں طہارت سے مراد طہارت معنوی اور طہارت حسی دونوں ہیں۔۔۔ طہارت معنوی سے مراد یہ کہ مومن پاک صاف ہوتا ہے اور مشرک نجس ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا: "انما المشرکون نجس" بلاشبہ مشرکین ناپاک ہوتے ہیں اور مسلمان مومن پاک صاف ہوتا ہے جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن وہ مدینہ کے کسی راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور وہ جنبی تھے تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھیں جیسے ہی موقع ملا وہ آپ علیہ الصلاة والسلام سے الگ ہو گئے اور نہا دھو کے دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے تو آپ نے پوچھا کہ ابوہریرہ تم کدھر تھے تو انھوں نے وجہ بتائی کہ مجھے اس چیز سے کراہت ہو رہی تھی کہ نجس حالت میں آپ سے ملوں تو آپ نے کہا سبحان اللہ مسلمان تو پاک ہوتا ہے۔
اسی طرح وہ مشہور حدیث اس پہ دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کافر نہیں چھو سکتا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا یمسہ الا الطاھر" اس (قرآن) کو پاک صاف کے علاوہ کوئی مت چھوئے۔ اگرچہ اس حدیث کی اسناد میں کلام ہے۔ اسی طرح صحیحین میں حدیث مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن مجید دشمن کی سرزمین پہ لے جانے سے منع کیا اور یہاں دشمن سے مراد بالاتفاق کافر ہی ہے۔ مذاہب اربعہ کا بھی اسی پہ اتفاق ہے کہ کافر قرآن کو چھو نہیں سکتا، اسکی جلد وغیرہ نہیں کر سکتا البتہ صاحب امام ابو حنیفہ امام محمد بن حسن الشیبانی رحمہما اللہ ایسے آدمی کے لئے قرآن چھونا جائز قرار دیتے ہیں جو اسلام کی طرف راغب ہو لیکن اسے بھی کہا جائے گا کہ وہ پہلے غسل کرے جسیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی بہن نے اسلام قبول کرنے سے پہلے غسل کرنے کا کہا اور پھر سورہ طہ پڑھنے کے لئے دی اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ یہ کتاب ھدی للناس ہے اور ھدی للناس میں مسلمان اور کافر سب داخل ہیں۔ معاصر علماء کی رائے اس مسئلے میں مننقسم ہے لیکن معتدل اور راجح موقف شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا ہے آپ فرماتے ہیں کہ مطلق مصحف جو صرف قرآن کے متن پہ مشتمل ہے اس کا چھونا غیر مطہر کے لئے جائز نہیں ہے چاہے وہ مسلم ہو یا کافر بلکہ کافر معنوی اور حسی دونوں طرح سے ناپاک ہے تو بالاولی اسے نہیں چھو سکتا لیکن ترجمہ اور تفسیر القرآن کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ اصلا قرآن نہیں ہے تو اسکو بغیر طہارت کے چھوا جا سکتا ہے اور یہ ایسے شخص کو دیا جا سکتا ہے جو اسکو نقصان نا پہنچانے والا ہو۔
وما علينا إلا البلاغ