رمضان اور عقیدہ توحید – فردوس جمال

توحید دین اسلام کی اساس ہے، توحید جملہ عبادات کے پیکر میں زندہ روح ہے، توحید ہی جمیع انبیاء و رسل کا اجتماعی مشن تھا، بندوں کے ذمے اللہ سبحانہ وتعالى کے جتنے حقوق ہیں ان میں توحید کا نمبر پہلا ہے، توحید بندگی کے باب میں سب سے اول واجب اور مطلوب ہے. اللہ سبحانہ و تعالٰی کو ربوبیت (اس کے کاموں خلق، تدبیر، زندگی، موت، نظام ہائے کائنات کا چلانا)، الوہیت (جملہ ظاہری، باطنی، قولی، فعلی عبادات )، اسماء و صفات (قرآن و حدیث میں وارد مبارک ناموں اور صفات) میں حسب تقاضائے شرع اکیلا اور یکتا ماننا توحید ہے.

توحید اور رمضان المبارک کا باہم گہرا تعلق اور لطیف و جوہری ربط ہے. اللہ تعالٰی نے ہی انسان کی تخلیق فرمائی، اسے عدم سے وجود بخشا، سورج اور چاند، لیل و نہار کی گردشوں کو اس کے لیے مامور کیا، ہر چیز کو انسان کے لیے مسخر کیا. فرمان باری تعالی ہے: ”اللہ وہ ذات ہے جس نے زمین کی سب چیزیں تمہارے لیے پیدا فرمائی“ (البقرۃ: 29) اللہ ہی نے انسانی فطرت میں کھانے پینے کی طلب اور شادی و نکاح کی شہوت رکھی، اب سال کے گیارہ مہینوں میں ایک مہینہ آتا ہے رمضان المبارک کا، اللہ سبحانہ و تعالی اس مہینے میں اپنے بندوں کو اپنی حلال کردہ بہت ساری چیزوں سے روکتا ہے، آپ سوچیں جب تک بندہ یہ تصور ذہن میں تازہ نہ کرے، جب تک یہ اعتقاد نہ رکھے کہ یہ مجھے جن چیزوں سے روکا جا رہا ہے اور جو ذات مجھے روک رہی ہے، یہ چیزیں تو اسی کی عنایت کردہ ہیں، کیا وہ رک جائے گا؟ جواب نفی میں ہے سو لامحالہ مسلمان جب رمضان کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے شعور یا لا شعور میں توحید ربوبیت کا عنصر موجود ہوتا ہے جو اسے فورس کر رہا ہوتا ہے کہ روزے رکھے، جب انسان توحید ربوبیت کے زیر اثر روزہ رکھتا ہے تو وہ توحید الوہیت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے، توحید ربوبیت توحید الوہیت کو مستلزم ہے. (الا لہ الخلق و الامر ) خلق توحید ربوبیت ہے اور امر توحید الوہیت، بندہ جب اللہ کی تخلیق و حلال کردہ چیزوں سے رک رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ اللہ کا حکم بجا لا رہا ہوتا ہے اور یہ الوہیت ہے. بندہ جب دیکھتا ہے کہ اللہ تعالٰی رمضان کے دن میں کھانا پینا حرام کرتا ہے اور عید کے دن روزہ رکھنا، تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو جس بات کا چاہے حکم دے اور جس بات سے چاہے روکے کہ وہی معبود برحق ہے، وہی الہ ہے.

پھر جب انسان رمضان کریم میں مختلف عبادات بجا لاتا ہے، دعائیں کرتا ہے تو جا بجا اللہ سبحانہ و تعالی کو اس کے مبارک ناموں اور صفات سے پکار رہا ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالٰی کے اسماء و صفات الغنی، القوی، الکبیر، المالك، الرحيم، الغفور، الرحمن، الرحيم کے معانی و مطالب پر غور و فکر کرتا ہے تو وہ ایمان کی لذت اور کیفیت کو عجب انداز میں محسوس کر رہا ہوتا ہے. رمضان اور توحید کا تعلق آپ یوں بھی دیکھ سکتے ہیں ہیں کہ روزہ ہی وہ عبادت ہے جس میں ریا کاری کا امکان نہیں، اسی لیے حدیث قدسی میں آیا کہ اللہ تعالٰی روزہ دار کے اجر و ثواب کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ ”بنی نوع آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزہ کے، روزہ میرے لیے ہے میں ہی اس کا اجر دوں گا.“

مختصر یہ کہ توحید اور رمضان المبارک کا گہرا تعلق ہے، اگر کوئی انسان روزہ تو رکھتا ہے لیکن اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو مشکل کشا، حاجت روا، داتا، دستگیر، رزق رسا بھی سمجھتا ہے، روزہ تو اہتمام سے رکھتا ہے لیکن اللہ کے سوا قبروں، بزرگوں، اولیا کو سجدے بھی کرتا ہے، ان کے نام پر ذبح و نیاز بھی دیتا ہے، روزہ تو مکمل رکھتا ہے لیکن اعتقاد رکھتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ کو حاصل علم غیب، اللہ کو حاصل قدرت، اللہ کو حاصل تصرف میں کوئی دوسرا بھی شریک ہے تو یقین کیجیے کہ اس نے فلسفہ رمضان کو سمجھا ہی نہیں. بخدا وہ خود کو بس تھکا رہا ہے، وہ قابل رحم ہے، قابل اصلاح ہے، قابل دعوت ہے، سو لازم ہے کہ رمضان المبارک کے اس مہینے میں اپنے عقیدے توحید کو اجالیں، اس کی تازگی کو محسوس کریں، اسی پر اپنے روزے کی اٹھان رکھیں کہ رمضان درحقیقت ماہ توحید ہے۔

Comments

FB Login Required

فردوس جمال

فردوس جمال مدینہ منورہ میں مقیم اور مدینہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔ گلگت بلتستان ورلڈ فورم سعودی عرب کے صدر ہیں۔ معاشرتی، سیاسی اور دینی موضوعات پر لکھتے ہیں

Protected by WP Anti Spam