ہمارے سابق کرکٹرز - محمد اشفاق

ویسے تو ہمارا دل جلانے کے لیے سیاستدان اور ٹی وی اینکرز ہی کافی ہیں مگر ہائے ری قسمت کہ کرکٹ سیزن میں سابق کھلاڑیوں کو بھی ساون کی چیونٹیوں کی طرح پر لگ جاتے ہیں۔ وہ وقت بری طرح یاد آتا ہے جب صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اس پر بھی میچ پر تبصروں کا کوئی رواج نہیں تھا- اب ان گنت چینلز ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے ریٹائرڈ کرکٹرز کی فوج۔

کرکٹ اس حد تک غیریقینی کھیل ہے کہ اکثر اوقات اس میں آخری اوور یا آخری بال تک بھی نتیجے کی پیشنگوئی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی طرح ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا فائدہ دے گا یا باؤلنگ کروانا، اس کی بھی سو فی صد درست پیشنگوئی ممکن نہیں۔ جس کھلاڑی کو اس کی سابقہ فارم کے سبب ٹیم سے نکالنے کی باتیں ہو رہی ہوں، وہی اکثر اوقات میچ جتانے کا سبب بن جاتا ہے اور کبھی میچ وننگ پلئیر کی وجہ سے جیتا میچ ہار دیاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ماہرین کرکٹ پیشنگوئیاں کرنے سے احتراز کرتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ دونوں برسرپیکار ٹیموں کی حالیہ فارم کا ایک تقابلی جائزہ پیش کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مگر گنگا ہمیشہ الٹی بہتی ہے۔

ہمارے سابقہ کھلاڑی عوام کو کرکٹ پر ایجوکیٹ کرنے کی بجائے عوامی جذبات کو مشتعل کر کے خوش ہوتے ہیں۔ میچ سے پہلے ان کے تبصرے اور پیشن گوئیاں شاذونادر ہی درست ثابت ہوتی ہیں۔ میچ اگر پاکستان جیت جائے تو یہ حضرات فاش غلطیوں کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں لیکن اگر وہی ٹیم میچ ہار جائے تو انہیں ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ یا بیٹنگ کرنے سے لے کر میچ کے آخری اوور تک اپنی ٹیم کا ہر فیصلہ غلط اور کپتان سمیت اپنا ہر کھلاڑی ناکام دکھائی دینے لگتا ہے۔ ٹیم پہ ہونے والی تنقید ٹیم مینجمنٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، کرکٹ بورڈ کے کرتادھرتا بھی ان ماہرین کی بے رحمانہ تنقید سے بچ نہیں پاتے اور حکومت وقت کو بھی ساتھ ہی رگڑا دے دیا جاتا ہے۔ مگر ٹیم کے اگلا میچ جیتتے ہی یہ سب ماہرین ایک سو اسی ڈگری کا یوٹرن لے لیتے ہیں۔

حالیہ ٹورنامنٹ میں بھارت کے ساتھ ابتدائی میچ سے قبل اور اس کے بعد ان کے تبصرے دیکھیں تو زمین آسمان کا فرق دکھائی دے گا، مگر ٹیم کے بقایا گروپ میچ جیتتے ہی ان سب کے خیالات میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہو گئی جو کہ سیمی فائنل کی فتح کے بعد اب باقاعدہ قصیدہ گوئی کا روپ دھار چکی ہے۔ ایسے میں ہمارے ایک سابقہ اوپنر اور کپتان جناب عامر سہیل نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ نیا کر کے دکھایا جائے۔

یہ حضرت جاوید میانداد صاحب کے ساتھ ایک ٹی وی پروگرام میں شریک تھے، ٹیم کی فتح اور کپتان کے بارے میں ان سے سوال کیا گیا تو جناب نے یہ حیرت انگیز انکشاف فرمایا کہ ٹیم کی اب تک کی فتوحات کسی "خفیہ ہاتھ" کی مرہون منت ہیں۔ جناب نے ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو للکار کر فرمایا کہ وہ زیادہ اترائیں نہیں، انہیں کون لایا ہے اور کیوں لایا گیا ہے، ہمیں سب معلوم ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ کہ جاوید میانداد جو ٹیم کے حق میں کبھی بھی کم زہریلے ثابت نہیں ہوئے، اس موقع پر خاموش رہے اور انہوں نے عامر سہیل کی تردید کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔

دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج کل ٹی وی چینلز پر زہریلے تبصرے کرنے والے تقریباً سبھی سابقہ کرکٹرز کسی نہ کسی وقت میں کسی نہ کسی صورت ٹیم مینیجمنٹ یا بورڈ کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔ جب یہ مینجمنٹ یا بورڈ کا حصہ ہوتے ہیں تو ان سے زیادہ بورڈ اور ٹیم کا پرجوش حمایتی اور کوئی نہیں ہوتا، مگر جیسے ہی ان کا معاہدہ ختم ہوتا ہے یہ حضرات زہر میں بجھے ہوئے تیر لے کر کسی نہ کسی چینل پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ عامر سہیل کا معاملہ بھی یہی ہے۔

ہمارے لیے مزید شرمندگی کا مقام یہ ہے کہ عامر سہیل کے اس غیر ذمہ دارانہ، گھٹیا اور بیہودہ تبصرے پر اب تک سب سے کڑی تنقید دو بھارتی سابق کرکٹرز سارو گنگولی اور ہربھجن سنگھ کی جانب سے آئی ہے۔ ہمارے اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو موجودہ ٹیم کی بین الاقوامی سبکی اور بدنامی تو گوارا ہے مگر اپنے ایک سابق پیٹی بھائی کی دل شکنی نہیں۔ کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان نے البتہ سرفراز اور ٹیم کی حمایت میں عامر سہیل کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور پیمرا سے اس پروگرام کی باقاعدہ شکایت کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ انہیں اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر آئندہ عامر سہیل کو بورڈ یا مینجمنٹ میں کوئی بھی عہدہ نہ دینے کا اعلان کرنا چاہئے۔ قومی ٹیم کے احتساب کو ہر وقت تیار ان سابقہ کھلاڑیوں کا احتساب کون کرے گا، یہ سوچنا بھی بورڈ کی ذمہ داری ہے۔ جب یہ سب حضرات خود کرکٹ کھیلتے تھے اس وقت انہوں نے کیا کیا معرکے انجام دیے، اور کہاں کہاں جھنڈے گاڑے، ہم شائقین کرکٹ کو یہ سب یاد ہے، ہمارا منہ مت کھلوائیے۔ ہار یا جیت کھیل کا حصہ ہے، جہاں ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ہمیشہ اپنی ٹیم کے ساتھ ہوتی ہیں وہیں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دوسری ٹیم بھی جیتنے کیلئے ہی میدان میں اترتی ہے۔ نوے فی صد شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کی جانب سے شاندار فائٹ دیکھنا چاہتے ہیں، ٹیم جیتنے کیلئے کھیلتی دکھائی دے، باقی ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ جب یہ سابقہ کھلاڑی میدان میں اترتے تھے ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہوا کرتی تھیں، آج ہم اپنی موجودہ ٹیم کیلئے دعاگو ہیں، یہ حضرات ایسے موقع پر اگر قوم اور ٹیم کا مورال ڈاؤن کرنے سے پرہیز فرما لیا کریں تو یہ ان کا ہم پر مزید احسان ہوگا۔