رؤف کلاسرا، مبشر زیدی تنازعہ شروع کیسے ہوا؟ محمد عمیر

سوشل میڈیا پر آج کل دو چیزوں کا تذکرہ ہے، پانامہ کیس کی تفتیش کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی اور سینئر صحافی مبشر زیدی، رؤف کلاسرا تنازعے کا۔ یہ تنازعہ گزشتہ چند روز سے جاری ہے اور اب اس نے چومکھی لڑائی کی شکل اختیار کر لی ہے جس میں اردگرد کے لوگ بھی کود پڑے ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں جاؤں گا کہ کون کرپٹ ہے اور کون پاک صاف، نہ ہی کسی کی گواہی دینا مقصود ہے۔ صرف اس تنازعے پر بات کروں گا کہ یہ تنازعہ کیوں اور کیسے شروع ہوا؟ ہوا یہ کہ چند روز قبل مبشر زیدی صاحب نے مریم نواز کی قطر میں قطری شہزادے سے ملاقات کے حوالے سے چینل 92 نیوز کے ٹکرز کے سکرین شارٹ شئیر کیے، اور ان میں رؤف کلاسرا صاحب کو ٹیگ کر دیا کہ آپ لوگوں کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں اور آپ کا چینل جھوٹی خبریں دے رہا ہے، جس پر کلاسرا صاحب نے وضاحت دی کہ یہ سکرین شارٹ جعلی ہیں. 92 چینل کے اکاؤنٹ سے بھی اس خبر کی تردید کی گئی، مگر مبشر زیدی صاحب کی تسلی نہ ہوئی تو انھوں نے کلاسرا صاحب کے فیملی پر حملہ کر دیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو سینیٹ میں ملازمت دلوائی۔ کلاسرا صاحب کا جواب تھا کہ میری بیوی کی نوکری میری شادی سے پہلے کی ہے، اور اسی ایشو پر آپ کے چینل پر 2011ء میں مطیع اللہ جان پروگرام کرچکے ہیں، جب میں نے آپ کے مالکان کی کرپشن پر بات کی تو مطیع اللہ جان کو نوکری سے نکال دیا گیا اور میرا ڈان میں داخلہ بند کر دیا گیا۔

یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن سے جھگڑا شروع ہوا. سوال یہ ہے کہ مبشر زیدی صاحب کو جب چینل اور کلاسرا صاحب کی طرف سے خبر کی وضاحت اور تردید کر دی گئی تھی کہ وہ جعلی ہے اور امیج کسی نے خود تیار کیا ہے تو ذاتی حملے کی ضرورت کیا تھی؟ اب اس حملے کی ضرورت کی طرف آتے ہیں۔گزشتہ دو سال سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر کلاسرا صاحب سے ٹوئٹر پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ میسجز کا تبادلہ بھی ہوا، انہوں نے مجھے بلاک بھی کیا، پھر ان بلاک بھی کیا، وہ میری کڑوی باتوں کا جواب بھی دیتے ہیں، صرف میری ہی نہیں، تمام لوگوں کی باتوں کا جواب دیتے ہیں۔ رؤف کلاسرا صاحب ان چند صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے کسی ایک پارٹی کی وزارت دفاع کی ذمہ داری لینے کے بجائے تمام پارٹیوں کی اچھی اور بری باتوں کی نشاندہی کی ہے۔ تحریک انصاف، ن لیگ، پیپلزپارٹی سمیت وہ ہر جماعت پر تنقید کرتے ہیں۔ نیب چئیرمین کا سکینڈل وہ سامنے لیکر آئے، بہاولپور سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار کو تنخواہ مانگنے پر نوکری سے نکالا گیا تو انہوں نے اس پر بھی پروگرام کیا، بہاولنگر کے ڈی پی او شارق کمال کو جب سیاسی بنیادوں پر ضلع بدر کیا گیا تو انہوں نے کئی روز تک اس ایشو پر بات کی، دفتر خارجہ کے سکینڈل وہ سامنے لیکر آئے۔

یہ بھی پڑھیں:   "ن" اور نثار - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

افسران اور وکیل کے بجائے جج خریدنے والوں کی ان کی غیر جانبداری پسند نہیں آئی اور ایک موقع تلاش کر کے ان پر چاروں طرف سے دھاوا بول دیا گیا اور موقع کے لیے خبر بھی وہ استعمال کی گئی جو کہ وجود ہی نہیں رکھتی۔ کس کی کریڈیبیلٹی کیا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ ن لیگ کا میڈیا سیل رؤف کلاسرا صاحب کا نام استعمال کرکے عمران خان پر تنقید کرتا ہے اور کلاسرا صاحب کو گواہیاں دینی پڑتی ہیں کہ یہ میں نے نہیں کہا۔ مبشر زیدی صاحب کے بعد عائشہ صدیقہ نامی ایک خاتون رائٹر نے ان کو بے شرم کہا، جواب ملا کہ جب آپ میری سٹوریز لیکر کتاب لکھتی تھیں، اور لندن و اسلام آباد میں اپنے ذاتی مسائل کےلیے مجھ سے رجوع کرتی تھیں، تو تب میں بے شرم نہیں تھا؟ اس جواب کے بعد یہ خاتون آئیں بائیں شائیں کرتی نظر آئیں۔

رؤف کلاسرا اور مبشر زیدی تنازعہ میں مجھ سمیت شریک تمام حضرات سے گزارش ہے کہ کہ ذاتیات کے بجائے جو واقعہ ہوا ہے، صرف اس پر بات کریں، تمام ٹویٹس دونوں صاحبان کے اکاؤنٹ پر موجود ہیں وہ پڑھ لیں، سچ جھوٹ آپ کے سامنے آجائے گا. ذاتیات کی بحث تو لاحاصل ہے۔ میڈیا مالکان کی صفائی دینا کسی صحافی کا کام نہیں، اس کام کے لیے مالکان خود اور ان کے ادارے موجود ہیں۔