رؤف کلاسرا پر الزامات، ملین ڈالرز کا سوال - امیر معاویہ

پچھلے کچھ عرصے سے نظام بچانے کا نعرہ لگاکر جس طرح کئی صحافی شریفوں کو پیارے ہوئے ہیں، اسے پاکستانی صحافت کی تاریخ کا ایک اور تاریک باب کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔ان دگرگوں حالات میں چند باضمیر ایسے بھی ہیں جو اس نام نہاد جمہوریت کی بے جا تقدیس کا پردہ چاک کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ان میں رؤف کلاسرا کا نام نمایاں نظر آتاہے۔ تحقیقاتی صحافت میں سچائی کے علمبردار معدودے چند صحافیوں میں شامل کلاسرا صاحب مشرف دور سے لیکر موجودہ حکومت تک کی کرپشن سے لتھڑی کہانیاں منظر عام پر لانے میں ثانی نہیں رکھتے۔

اس طرح کے صحافیوں کو قابو کرنے کے حکومتی ہتھکنڈوں پر اگر غور کیا جائے تو یہ عمل عام طور پر تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:
1: مالی ترغیبات کے ذریعے صحافی کے قلم کو خریدنے کی کوشش
2: اگر کوئی اس دام میں نہ آئےتو بزور طاقت خاموش کرانے کی کوشش
3: ہر دو طریقوں سے بچ نکلنے والے کی عوامی سطح پر کردار کشی کی کوشش

کلاسرا صاحب غالباً پہلے دوطریقوں سے قابو نہ آئے تو گزشتہ چند روزسےمبینہ طور حکومتی پشت پناہی سے اُن کے خلاف تیسرا طریقہ زوروشور سے آزمایا جارہا ہے۔ جس کی ابتدا ایک سرکار زدہ نیوزگروپ کے ایک صحافی نے کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان بزعم خود دانشوروں کی لائن لگ گئی جو رؤف کلاسرا کو ملنے والے لفافوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ اس مہم میں جن دو الزامات کی شدّومد سے تکرار کی جارہی، وہ کلاسرا صاحب کی جانب سے سرکاری پلاٹوں کا حصول اوراپنے بھائیوں اور بیوی کو نوکریوں میں فائدہ پہنچانے کے لیے تعلقات کا استعمال ہیں۔

ان الزامات کی صحت پر زیادہ غور کیے بغیر اگر مبنی برحقیقت مان بھی لیا جائے تو ملین ڈالرز کا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ رؤف کلاسرا ان مراعات کے حصول سے آخر فائدہ کسے پہنچارہے ہیں؟ اس کے چند ممکنہ جوابات پر غور سے سوائے مزید الجھن کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ان ممکنہ جوابات کی تفصیل حسب ذیل ہے:

1: حکومت

موجودہ حکومت کے سکینڈلز پر جتنے کالم کلاسرا صاحب نے لکھے یا پروگرام کیے ہیں، اس کے بعد حکومت کی ان پر انویسٹمنٹ رقم ضائع کرنے کے مترادف ہی سمجھی جاسکتی ہے۔

2: فوج

ہر تیسرے کالم میں جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو سینگوں پر اٹھا لینے والے اور کمر درد کا بہانہ لگا کر بھاگ جانے پر جنرل مشرف کو بزدلی کے کے طعنے دینے والے صحافی کے بارے میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فوج اس کی پشت پناہ ہو سکتی ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

3: اپوزیشن

کلاسراصاحب پیپلز پارٹی کے دور کے کرپشن سکینڈلز کے بارے میں آج بھی گاہے بگاہے قوم کوآگاہ کرتے پائے جاتے ہیں اور الیکٹیبلز کے نام پر کرپشن زدہ سیاست دانوں کو پارٹی میں لینے پر عمران خان پر جتنی تنقید رؤف کلاسرا کرتے نظر آتے ہیں، شاید کسی اور صحافی نے نہیں کی۔ سو موجودہ اپوزیشن پارٹیوں میں نمایاں پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں ہی روف کلاسرا کے بارے میں میرے ناقص خیال میں حکومتی کیمپ سے مختلف رائے نہیں رکھتیں۔

4: انتہاپسند تنظیمیں

دہشت گردی کے خلاف ناقص منصوبہ بندی پر ریاستی اداروں تک سے ٹکر لے لینے والے صحافی کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق ہو سکتاہے، اس امکان پر بحث ہی فضول ہے۔

5: مغرب زدہ این جی اوز

پاکستانیوں کو قدامت پسندی کے طعنے دینے والے لبرلز کی سرخیل عاصمہ جہانگیر پر کئی بار کھلے عام تنقید کرنے والے کلاسراصاحب کے کسی فارن فنڈڈ این جی او سے تعلقات ہو سکتے ہیں، اس بات کے امکانات بھی خاصے مخدوش نظر آتے ہیں۔

6: بحریہ ٹاؤن والی سرکار

ایک مضبوط امکان جس پر بحث ہوسکتی ہے وہ موجودہ سیاست و صحافت کے کنگ میکر ملک ریاض کا ہے۔ مگر کچھ عرصہ پہلے تک ملک صاحب کے مختلف منصوبوں میں بدعنوانیوں پر پروگرام کرنے والے کلاسرا صاحب کب ملک صاحب کو پیارے ہوئے؟ اگر کسی کے پاس مصدقہ خبر ہوتو اس خاکسار کوبھی آگاہ کرکے شکریہ کا موقع دے۔

آخری بات یہ کہ اوپر اٹھائے گئے سوال کے تمام ممکنہ جوابات پر غور کرنے بعد بھی احقر کے پلے تو کچھ نہیں پڑا کہ رؤف کلاسرا کومراعات دے کر دراصل فائدہ کون حاصل کر رہا ہے؟

لہٰذاکلاسرا صاحب کو ملنے والے لفافوں کے چشم دید گواہان سے یہ عاجز دست بدستہ درخواست کرتا ہے کہ وہ ان کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ اگر ان کی پشت پر موجود عناصر سے بھی پردہ اٹھا سکیں تو یہ قوم پر ان کا احسان عظیم ہوگا!