ثنا خوانان بیانیہ جدیدیت و کلامیہ ما بعد جدیدیت - سلیم اختر خان

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لبرلز کے ممدوحِ اعظم مغرب نے ادوار جدیدو ما بعد جدید میں سائنسی ترقی کو مہمیز دے کر اوج ثریا تک پہنچا دیا۔ طب و طبیعیات سے لے کر تعلیم و تعمیرات تک ایسی ایسی ایجادات منصہ شہود پہ آئیں کہ جن کے سامنے دیومالائی داستانوں کے عجائب بھی ہیچ محسوس ہوتے ہیں۔ علم کو لفظوں کے تار عنکبوت سے نجات دلا کر عملیت و بہبود کی روایت ڈالی گئی۔ استعاراتی اسلوب میں کہا جا سکتا ہے کہ وجود مادّی کی مچھلی کو آسائشوں کے لا متناہی پانیوں میں اتار کر زندگی کو کیف و سرور کا بحرِ بیکراں بنا دیا گیا۔

اگر بات یہاں تک رہتی تو مغربی جدیدیت و ما بعد جدیدیت پہ تنقید کرنا تو کجا اس کی تحسین لازم ٹھہرتی۔ مگر ایک جھانسہ جو سائنسی ومادی ترقی میں ملفوف ہم تک پہنچایا گیا اور ہم عاشقانِ ندرتِ مغرب نے اس مئے دلفریب کو شرابِ عرش سمجھ کے اپنی رگ رگ میں اتارا اور ایسے بدمست ہوئے کہ مشرقیت کو کمتری کا مترادف بنا ڈالا۔یعنی کہ مغرب کی مادّی برتری کو ہم معاشرت سمیت لے بیٹھے اور ناعاقبت اندیشی کی انتہا کہ خود منافرتی کا شکار ہوئے مغرب زدگی پہ اِتراتے پھرتے ہیں۔ہم نے شکمی مطالبات اور فکری التزامات کا ایسا ادغام تجاہلانہ کیا کہ ہمارا نظریاتی وجود ہی معدوم نہ سہی مبہم ہو گیا۔ ہم نے ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھنے کی نہ صرف خطا کی بلکہ اس تصوراتی سونے کے بتانِ آزری گھڑ کے شام و سحر ان کی پوجا و مدح میں جت گئے۔

مرے ذہن نا رسا میں معاشرت مغرب کے حوالے سے چند گستاخانہ خیالات وارد ہوئے تو سوچا کہ انہیں الفاظ کا جامہ پہنا کر سوالات کے روپ میں حوالہ قرطاس کروں۔ مجھے اس بات کا کامل ادراک ہے کہ ایسی شاذ قسم کی معروضات سے مغرب سے زیادہ ہمارے مغرب زدہ بھائیوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ سو حفظِ ما تقدم کے طور پہ پاسداران بیانیہ و کلامیہ مغرب سے ہاتھ جوڑ کے معذرت۔ بس یہ سوالات پیش خدمت ہیں اگر حضرات کی انسان پرستی پہ گراں بار نہ ہوں:

۱۔ کیا اسقاطِ حمل جیسے فعل شنیع کے ذریعے معصوم جانوں کے ضیاع کا طریقہ رائج کرنا مغربی مذہب انسانیت کے سلسلہ کریمانہ کی ایک کڑی ہے؟

۲۔ صنعتی ترقی کو "مغربی معجزہ" گرداننا اور نتیجتاً پیداشدہ آلودگی کو مغربی کی بجائے "انسانی مسئلہ" کہنا تضاد کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں؟

۳۔ طب کی گراں قدر ایجادات کو ماتھے کا جھومر بنا کر خونی ہتھیاروں کی ایجاد و تجارت جیسے کلنک سے پہلو تہی کی جا سکتی ہے؟

۴۔ نو آبادیاتی نظام سے لے کر استعماری و نواستعماری پالیسیوں سے لاکھوں انسانوں کا قتل عام کرا کر اپنی بین الاقوامی اجارہ داری کا تسلسل امریکہ و برطانیہ کی کارستانی ہے یا کسی مشرقی سادھو یا لونڈے کی؟

یہ پوچھنے کے بعد ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں چند مشینوں کے عوض ہم تہذیبی ارتداد کا شکار تو نہیں ہو گئے؟ مادی آسائشوں کے بدلے نظریاتی آلائشوں کو گھر کا رستہ دکھانا کہاں کی دانشمندی صاحب؟ اور اگر ایسا ہے تو سیلِ رواں کا اگلا تھپیڑا ہمیں کس کی غلامی کا طوق ڈالے گا؟ ہمیں ایجادات سےاستفادہ کرنے اور سماجی غلامی میں غلطاں ہونے کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔ یہ نہ ہو کہ آنے والے کل میں کوئی نئی مشین ہمیں کوئی نیا مالک عطا کر دے۔

مغربی الحادی قوتوں نے اپنے جدیدی مذہب انسانیت کے مہرے کو پٹتے دیکھا تو ایک نیا بیانوی سپاہی 'ما بعد جدیدیت' کے نام سے میدان میں اتار دیا۔ اس سپاہی کے ہاتھ میں آدمیت کی بجا ئے عدمیت کی تلوار تھی۔ یعنی کہ یہ دعویٰ کہ "کچھ بھی سچ نہیں کچھ بھی حق نہیں، سب ہی سچے سب ہی جھوٹے"۔ مقصد وہی پرانا کہ کسی بھی طرح اہل مذہب کو ایقان کی سرسبز وادیوں سے تشکیک کی گھاٹیوں تک لایا جا سکے۔ کیونکہ الحاد کا مطمع نظر نہ تو کبھی انسان مجسم رہا نہ ہی انسانی بہبود۔ روزِاوّل سے ہی یہ ایک فکری فتنہ تھا جو کہ انسان مفکر کو اپنا مطمع نظر بنائے ہوئے ہے۔ الحاد نام ہے مذہب کی تکذیب اور طاغوت کی ترویج کا۔ الحادی قوتوں کو ہر بیانیہ و کلامیہ قبول ہے اگر اس میں الوہیت کا تصور غیر موجود ہو۔ سو ہدف الہ ہی ہے۔ جدیدیت نے آدمیت کے نعرے کے ذریعے یہ منزل پانا چاہی تو ما بعد جدیدیت وہی کام عدمیت سے لینا چاہ رہی۔ مختصراٍ یہ کہ مغربیت آدمیت و عدمیت کے پردوں میں مذہب سے متحارب ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */