بابا !تم بہت یاد آتے ہو - عبد الباسط بلوچ

ہر عید ،ہر قربانی اور ہر خوشی کے موقع پر جب ماں کی آنکھوں میں نمی دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کس نے میری ماں کو افسردہ کر دیا ہے؟ کس کی کمی کو میری ماں ابھی تک محسوس رہی ہے؟ جب پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں آنسوؤں کی رم جھم اور بڑھ جاتی ہے اور ایک ہی جملہ ادا ہوتا ہے، "آج اگر تیرا ابّا ہوتا تو کتنا خوش ہوتا۔"

یہی جملہ مجھے میرے ابّا کے پاس لے جاتا ہے۔میں ماضی میں ان سے ملنے پہنچ جاتا۔ کبھی پردیس جاتا، کبھی دیس میں کڑکتی دھوپ میں جھلستا سراپا خلوص، لاہور کی کھوجہ شاہی میں اینٹیں اٹھاتے کندھے اوردودھ کا کام کرتا،کبھی گدھا ریڑھی کو چلا کر ہمارا پیٹ پالتا،ان سب کے باوجود اپنی اولاد کو نہ کسی مزدوری پر لگایا نہ کہا۔شہزادوں کی سی زندگی ہمیں دے کر خود جلد ہی اپنے مالک کا ہو گیا۔کبھی اس کی گور کے سرہانے بیٹھ کر جب میں اسے بتاتا ہو ابّا میں نے وہ کامیابی بھی حاصل کر لی، ابّا میں پڑھ بھی گیا اور اچھی نوکری بھی مل گئی،اور شادی بھی ہو گئی۔میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے بابا قبر میں مسکراتے بھی ہوں گے اور خوش بھی۔

لیکن ۔۔۔۔۔میں تو ٹوٹ جاتا ہوں۔اب جب میں اس کے دوستوں سے ملتا ہوں تو وہ یہی کہتے ہیں کاش آج تیرا ابّا ہوتا اور اپنی اولاد کو دیکھتا۔ میں ان کو کہتا ہو وہ دیکھتا بھی ہے اور خوش بھی ہوتا ہے۔اولاد کی کامیابی جہاں ماں کی دعا ہے، وہاں باپ کی قربانی بھی ہے۔اسے عید پر اپنے کپڑوں کی فکر نہیں ہوتی،اولاد کی ہر خوشی کی فکر ہوتی ہے۔جب میرا دل بہت بوجھل ہو جاتا ہے تو میں اپنے والد کے پاس چلا جاتا ہوں۔ پھر پتہ نہیں زبان کیوں گنگ اور آنسو رواں ہو جاتے ہیں؟

میں کہنا چاہتا ہوں بابا یار! اتنی بھی جلدی کیا تھی؟ لوگوں کے باپ تو آپ سے بڑی عمر کے بھی ابھی ہیں۔سارے دکھ، غم، پریشانیاں اور مصائب تو اپنے ساتھ ہی لے گیا؟ اور سکھوں کے لیے ہمیں چھوڑ گیا؟ بابا! آجاؤ، عید قریب ہے،عید کے کپڑے،جوتی،اور عیدی ہی لے کر دے جاؤ۔اب جیب میں پیسے ہیں لیکن بابا تیری محبت نہیں۔ کاش میں پیسوں سے سب خرید سکتا،کاش میں اپنے بابا کے ان کندھوں کو دبا سکتا،کاش میں عید پر جاتا اور میرے بابا اٹھ کر مجھے سینے سے لگا کر میرا ماتھا چومتے اور میرا سفر پورا ہوجاتا۔ماں بھی آج تک ایک لمحے کو میرے بابا کو نہیں بھول سکی۔اس کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے ہیں کہ "وہ دکھ کا ساتھی تو تھا، لیکن سکھ ہمارے لیے چھوڑ کر چلا گیا۔"

یہ بھی پڑھیں:   ایک کشمیری والد کا سکول میں داخلہ کے منتظر ننھے بیٹے کے نام خط - ابو لقمان

بابا، تم بہت یاد آتے ہو!

ٹیگز