ایم ایم شریف اور ان کے فلسفیانہ افکار - اعجازالحق اعجاز

باغبانپورہ کی میاں فیملی نے بہت سے نابغہ روزگار لوگ پیدا کیے ہیں۔ اس خاندان کے ایک عظیم سپوت جسٹس شاہ دین ہمایوں تھے جنھیں برصغیر کے پہلے مسلمان چیف جسٹس ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور جنھیں علامہ اقبال نے ایک نظم ـ’’ہمایوں‘‘ لکھ کر شاندار خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ سر میاں محمد شفیع، میاں محمد بشیر، میاں عبدالرشید (پاکستان کے پہلے چیف جسٹس جنھوں نے قائداعظم سے گورنر جنرل کا حلف لیا تھا)، بیگم جہاں آرا شاہنواز، بیگم گیتی آرا، ممتاز شاہنواز کا تعلق بھی اسی خاندان سے تھا۔ میاں منظر بشیر، میاں بشیر احمد کے فرزند اور جسٹس شاہ دین ہمایوں کے پوتے تھے۔ جب میاں منظر بشیر بیس سال قبل مستقل طور پر میرے عزیز دوست زابر سعید بدر کے گھر قیام پذیر تھے تو ان سے ملاقات کے بہت سے مواقع میسر آتے تھے۔ میرے ساتھ ان کا رویہ بےحد مشفقانہ تھا۔ میاں صاحب آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ ان سے سیاست اور علم و ادب پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ ان سے اسی خاندان کے ایک عظیم دانشوراور فلسفی ایم ایم شریف کے متعلق بھی بات ہوتی تھی۔ ان کے حالات زندگی اور فکرو فلسفہ کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔

ایم ایم شریف 1893 میں باغبانپورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک درویش منش انسان تھے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول باغبانپورہ سے حاصل کی اور میٹرک گورنمنٹ سینٹرل ماڈل سکول لاہور سے کیا۔ سکول کے زمانے میں انھیں والدہ، بھائی اور بہن کی طاعون کے باعث وفات کے صدمات اٹھانے پڑے۔ بی اے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے کیا۔ ایم اے فلسفہ اور پی ایچ ڈی فلسفہ کیمبرج یونیورسٹی سے کیا جہاں انھیں جی ای مور، سورلے، اور ڈی ای جانسن جیسے فلاسفہ سے فیض یاب ہونے کا موقع میسر آیا۔ علامہ اقبال کے مشورے سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرف سے پروفیسر ی کی آفر قبول کی اور کچھ عرصہ بعد شعبہ فلسفہ کے چیئرمین بن گئے۔ اس کے علاوہ وہ انڈین فلاسوفیکل کانگرس کے صدر، پروفیسر آف فلاسفی پنجاب یونیورسٹی، پاکستان فلاسوفیکل کانگرس کے بانی صدر، امریکن فلاسوفیکل کانگرس کے رکن، انٹر نیشنل فیڈریشن آف فلاسوفیکل سوسائیٹیز پیرس کے ڈائریکٹر، اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر کے ڈائریکٹر رہے۔ بزم اقبال لاہور نے 1952ء میں جب مجلہ اقبال جاری کیا تو وہ اس کے اعزازی مدیر مقرر ہوئے۔ ان کا انتقال 1965ء میں لاہور میں ہوا۔ انھوں نے فلسفیانہ موضوعات پر آٹھ کتب اور متعدد تحقیقی مقالات تحریر کیے۔ ان کا ایک معرکتہ الآرا کام The History of Muslim Philosophy ہے، اس کے علاوہ ان کی کتب میں Muslim Thought: Its Origin & Achievements,، مسلمانوں کے علمی افکار، About Iqbal and His Thought،Studies in Aesthetics،جمالیات کے تین نظریے، اور مقالات شریف شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حقیقی انقلاب - مفتی منیب الرحمٰن

ایم ایم شریف کو بجا طور پر ایک فلسفی کہا جاسکتا ہے۔ ان کا ایک خاص فکری نظام تھا۔ ان کا فلسفہ تحلیلی و تجزیاتی (Analytical) نوعیت کا ہے۔ وہ مسلم فلسفہ کے ساتھ ساتھ لائبنیز، برٹرینڈرسل، جی ای مور کے فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اقبال کے فلسفے کا بھی انھوں نے بنظر غائر مطالعہ کر رکھا تھا، مگر وہ اوریجنل فلسفیانہ فکر کے حامل بھی تھے۔ انھوں نے لائبنز کے فلسفہ مونادیت (Monadology) کو ایک نئے روپ میں پیش کیا جسے جدلیاتی مونادیت (Dialectical Monadology) کا نام دیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق ذات ہی شعور کا مرکز و محور ہے جو فعال، آزاد اور قائم بالذات ہے۔ اس مرکز شعور کو وہ موناد یا روحیہ کا نام دیتے ہیں۔ یہ موناد غیر نامیاتی سطح سے شروع ہو کر مختلف ارتقائی مدارج سے گزرتے ہوئے انسان اور اس کے شعور کی بلند سطح تک پہنچتے ہیں۔ موناد حرکی اور ارتقا پذیر ہیں اور ان کا یہ ارتقا جدلیاتی نوعیت کا ہے۔ مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ نظریہ لائبنز، ہیگل اورمارکس کے نظریات کا ملغوبہ ہے، کیونکہ ایم ایم شریف اس جدلیات سے فکری یا معاشی جدلیات نہیں لیتے یعنی یہ جدلیات نہ تو فکری تضاد سے جنم لیتی ہے اور نہ ہی معاشی طبقوں کے تضاد سے۔ یہ جدلیات دراصل ذات کی جدلیات ہے۔ ذات کے مقابل لاذات ہے۔ ذات دعویٰ (Thesis) ہے تو لاذات جواب دعویٰ (Antithesis) جن سے ایک ترکیب (Synthesis) جنم لیتی ہے۔ یہ عمل ایک واضح مقصدیت کا حامل ہے اور یہ مقصدیت ارتقائی نوعیت کی ہے یعنی ذات کے مختلف مراحل کے ساتھ ساتھ بتدریج ترقی کرتی ہے۔ چنانچہ تمام انسانی اعمال و افعال مقصدی ہیں جن کا شعور ضروری ہے۔ انسان اپنی ذات کی خامیوں کو بتدریج دور کرتے ہوئے ایک بلند اخلاقی مرتبے پر فائز ہو سکتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد ذات کی یہی بتدریج ترقی و تکمیل ہونا چاہیے۔ مقاصد آفرینی کے اس نظریے پر اقبال کی فکر کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس تمام سلسلہ مدارج کی علت ایم ایم شریف کے نزدیک ذات ِمطلق ہے۔اور اس علت تک رسائی عقل سے زیادہ وجدان کا کام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اقبال اور مولوی - شہباز بیابانی

ایم ایم شریف نے فلسفہ تاریخ میں بھی گہری دلچسپی لی اور اس سلسلے میں ان کے اورسوروکن (Sorokin) کے نظریات میں کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہیں جو اس نے اپنی کتاب Social and Cultural Dynamics میں پیش کیے ہیں۔ سوروکن کے دوری نظریہ تاریخ و ثقافت (Cyclic Theory of History and Culture ) کے مطابق کوئی تاریخی یا ثقافتی دور دو انتہاوں، جنھیں اس نے Sensate یا مادی انتہا اور Idealation یا مثالی و روحانی انتہا کہا ہے، کے درمیان تغیر و تبدل (Fluctuation) کی حالت میں رہتا ہے۔ ایم ایم شریف کی رائے میں تاریخ کے بیک وقت کئی ادوار (Cycles) رو بہ عمل ہوتے ہیں اور کوئی تاریخی یا ثقافتی دور مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا البتہ اپنی پوزیشنز بدلتا رہتا ہے۔ تاریخ کے یہ دائرے ہم مرکز بھی ہو سکتے ہیں اور ایک دوسرے کو قطع بھی کرتے ہیں اور پھیلتے یا سکڑتے ہیں۔چناں چہ ارتقا سیدھی لکیرکی صورت (Linear) نہیں بلکہ کبھی افقی اور کبھی عمودی سپائرل کی شکل میں ہے۔ ایم ایم شریف نے جمالیات پر بھی کام کیا اور ان کے جمالیاتی نظریات پر کروچے کی اظہاریت کے بھی نمایاں اثرات کا سراغ ملتا ہے۔ وہ اخلاقی اقدار کی افزائش اور ان کے ارتقا پر زور دیتے ہیں۔ ان کے تعلیمی نظریات بھی خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے فلاسفہ اور مفکرین کو کم ہی قابل اعتنا سمجھتے ہیں اور ان کو بہت جلد فراموش کردیتے ہیں۔ ایم ایم شریف کے فلسفہ و فکر کو اجاگر کرنے اور اس کو اپنی قومی زندگی میں نمایاں مقام دینے کی ضرورت ہے۔

Comments

اعجاز الحق اعجاز

اعجاز الحق اعجاز

اعجازالحق اعجاز پی ایچ ڈی سکالر ہیں، اردو اور اقبالیات میں ایم فل اور انگلش اور اردو میں ماسٹر کیا ہے۔ دو کتب اقبال اور سائنسی تصورات، اقبال اور ولیم شیکسپئیر کے مصنف ہیں۔ اردو، انگریزی، فارسی ادبیات، فلسفہ اور سائنس دلچسپی کے شعبے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں