"کشمیر کی تحریک آزادی۔۔۔بھارتی حکومت کا درد سر" - آر ایس مصطفیٰ

سب سے بڑی طاقت عوام ہوتی ہے اور دنیا میں سچ وہی ہوتا ہے جسے عوام تسلیم کرتی ہے۔ کشمیر ی عوام نے آزادی کی جو جنگ شروع کی تھی وہ آج بھی اسی جوش و ولولے سے جاری ہے اور بھارت کی سات لاکھ فوج بھی اس عزم میں لچک پیدا نہیں کر سکی۔بھارتی فوج نے کشمیری بستیوں کی بستیاں اور شہر کے شہر تباہ کئے مگر کشمیری عوام کی سچ کی آواز کو دبانے میں ناکام رہی۔جوا ن، بوڑھے بچے اور خواتین اپنی جان کی بازی لگا رہے ہیں ان بے گناہ کشمیریوں کا خون جو بھارتی درندوں کے ہاتھوں پر ہے۔کشمیر جس کے چشموں اور ندیوں میں میٹھا پانی بہتا تھا مگر اب ان بھارتی فوجی درندگی کی وجہ سے پانی کی بجائے خون بہتا نظر آتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2015ء میں 156نہتے کشمیری بھارتی فوج کی درندگی کا نشانہ بنے اور2016 میں شہید ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی۔ڈیڑھ لاکھ بے گناہ کشمیری گرفتار ہیں جبکہ کشمیری بیواؤں کی تعداد22000تک پہنچ چکی ہے۔یتیم کشمیری بچوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ 50 ہزارسے زائد افراد گمشدہ ہیں جبکہ تقریباًچھ لاکھ کے قریب ہنر مند افراد بے روز گاری کی زندگی گزاررہے ہیں۔

یوں تو کشمیر میں جیسے ہندوستانی فوج خون کی ہولی کھیل رہی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی مگر2016 کے پہلے دن سے ہی کشمیری عوام کو کرفیو کا سامنا ہے۔ جولائی 2016 میں برہان مظفر وانی اور اب سبزار احمدبھٹ کی شہادت نے کشمیر کی تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے کہ آج کشمیر کے ہر نوجوان نے جذبہ شہادت سے سرشارہوکر تحریک آزادی کے جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا ہے۔آٹھ جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کاروائیوں میں کم از کم150 افراد شہید جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھرّوں سے زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں کیا دیکھا؟ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

برہان وانی کے ساتھی سبزاراحمد بھٹ کی شہادت کی خبر عام ہوتے ہی کشمیر کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کر دی گئی اور طلبہ نے تعلیمی اداروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پہلے ہی ہزاروں لوگ مظاہرے کر رہے ہیں اورکشمیر کے ہر نوجوان نے جذبہ شہادت سے سرشارہوکر تحریک آزادی کے جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھاما ہوا ہے اور بھارت کی سات لاکھ فوج بھی ان نوجوانوں کے سامنے بن بس نظر آتی ہے۔۔گزشتہ برس برہان وانی کی ہلاکت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کررہے ہیں برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجنئیرنگ گریجویٹ ذاکر موسیٰ کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بھٹ گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔

یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اب تجزیہ کار بھی یہ کہتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے نعرے بھارتی حکومت کا دردسر بن گئے ہیں اور یہ نعرے اب وادی سے نکل کر دلّی اور کلکتہ تک پہنچ گئے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا نے ایک پاکستانی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت مقبو ضہ کشمیر میں طاقت کا استعمال کرکے کشمیری عوام کو خاموش کرنا چاہتی ہے اور کشمیر کی آزادی کے مطالبے کو فوج کے ذریعے کچلناچاہتی ہے۔پاکستان جب بھی مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوجیوں کی جانب سے کی جانے والی بلا اشتعال گولہ باری کرکے آزاد کشمیر میں بھی عوامی زندگیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی تحقیق کا مطالبہ کرتا ہے تو بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کو وہاں جانے کی اجازت دینے سے صاف مکر جاتا ہے۔

جوافراد کشمیریوں کے دلوں میں بستے ہیں ہماری حکومت انہیں بھارتی دباؤ پر نظر بندکررہی ہے۔ جماعۃ الدعوہ کے امیرحافظ سعیدپر پورے پاکستان میں کوئی مقدمہ درج نہیں، کسی پاکستانی نے ان کے متعلق کوئی درخواست تک جمع نہیں کروائی پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں نظربندی سہنا پڑرہی ہے؟ کشمیری انہیں اپنا نجات دہندہ کہتے ہیں اور ہم اپنے ہی محب وطن پاکستانیوں کو نظربندکرکے بھارت کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔آج پاکستان حکومت اور تمام قومی جماعتوں کا فرض ہے کہ صرف مذمتی بیان ہی نہ دیئے جائیں اور نہ ہی صرف تشویش کا اظہار کیجیئے بلکہ عملی طور پر کشمیر کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔تمام قومی جماعتیں عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ سامنے لائے اورعالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کریں اور عالمی برادری کو باور کروایا جائے کہ خطے میں مسئلہ کشمیرکے حل کے بغیر دیر پا امن ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر میں بھارتی تسلط کے 70 سال - موسیٰ غنی

مصنف سے engr.sajeelmustafa@gmail.comپر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔