گوادر یا منشیات در - ابو معاویہ گوادری

یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ گوادر جیسے بند شہر کے ہر داخلی دروازے پر چیک پوسٹس موجود ہیں جہاں شہر میں آنے والی ہر گاڑی کو باریک بینی سے چیک کیا جاتا ہے۔ صرف گاڑی ہی نہیں بلکہ مسافروں حتی کہ خواتین کی بھی جامع تلاشی لی جاتی ہے۔ گو کہ جانچ پڑتال کا یہ نظام طویل عرصے سے موجود ہے مگر اس کو بہتر یا جدید بنانے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود شہر کی انتظامیہ اور اعلی حکام کا دعوی ہے کہ گوادر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رضامندی کے بغیر ایک پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔

مگر قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ چاروں طرف سے سیکورٹی اداروں کے حصار میں گھرے ہونے کے باوجود گوادر میں ایک چیز باآسانی مل جاتی ہے اور وہ ہے انسان کش زہر یعنی منشیات۔ کھلے عام شراب فروشی اور نوشی کی شکایت تو کرنا ہی بے کار ہے کیوں کہ اسے تو سرکاری اجازت نامہ مل گیا ہے۔ یہاں اقلیتوں کے نام پر جعلی پرمٹ بنا کر شہریوں کو پانی کی جگہ شراب سے لطف اندوز کیا جارہا ہے باوجودیکہ گوادر کی اقلیتی برادری اپنے نام پر حاصل کیے گئے پرمٹ کو جعلی قرار دے کر عدالت سے رجوع بھی کرچکی ہے۔

ہم یہاں جس منشیات کی بات کر رہے ہیں اس نے گوادر کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے۔ بڑے بوڑھے تو کجا گوادر کے چھوٹے بچے بھی اس مرض مبتلاء ہوچکے ہیں۔ گوادر کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ منشیات کی وبا خواتین میں بھی تیزی سے پنپ رہی لیکن اس تمام صورتحال کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں۔ یہاں کا ہر فرد بس اس خیال سے ہی خوش ہے کہ ہم مستقبل کے سنگاپور کے باسی ہیں حالانکہ موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ہم گوادر کو سنگاپور نہیں بلکہ منشیانستان بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مکران کا سیاسی منظرنامہ - ظریف بلوچ

فقیر کالونی اور نیا آباد کے مختلف علاقوں میں منشیات فروشی پرچون کی طرح اعلانیہ فروخت ہورہی ہے۔ اس وجہ سے ان علاقوں میں چوری اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ اب سے کچھ روز قبل ہونے والا واقعہ ہی ملاحظۃ فرمائیے کہ جس میں مسجد میں موجود تبلیغی جماعت سے پچیس ہزار روپے اور پیش امام کا موبائل بھی چھین لیے گئے۔ یہ تو جنگل میں لگی آگ کی چھوٹی سی مثال ہے ورنہ حقیقت تو اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوچکی ہے۔

ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ سے باشعور نوجوان، صحافی اور سماجی طبقوں کے علاوہ مذہبی وسیاسی جماعتیں بھی اس معاملے پر خاموشی کی چادر اوڑھ کر اس کی روک تھام ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ نظر آتی ﮨﯿﮟ۔

ﻣﻨﺸﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻟﻌﻨﺖ ﻋﻮﺍﻡ کے ﺗﻌﺎﻭﻥ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ، اپنے آس پڑوس اور ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺸﯿﺎﺕ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮨﻮﺗﮯ دیکھ رہے ﮨﯿﮟ لیکن پھر بھی نظریں چرا رہے ہیں۔ عوام کو خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا ورنہ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﻌﻨﺖ کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔

اب بھی وقت ہے ہم خود گوادر میں پھیلنے والی اس لعنت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ گلی گلی، کوچے کوچے میں منشیات فروشی کرنے والوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ قوم کے مستقبل کو اس طرح تاریک نہ کریں۔ شاید کسی دن ہماری بات ان کی دل پر اتر جائے اور وہ اس لعنت کو پھیلانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہمیں متحد ہو کر ان لوگوں کے خلاف اقدامات اٹھانا ہوں گے۔