انسانی وسائل کا مؤثر استعمال - پروفیسر جمیل چودھری

دنیا میں وہی قومیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں جو اپنے انسانی وسائل کا مؤثر اور صحیح استعمال کر رہی ہیں۔ مشرقی ایشیاء کی ریاستوں نے اپنے تمام شہریوں کو نہ صرف خواندہ بنایا بلکہ لوگوں کے رجحان طبع کے مطابق مختلف صلاحیتوں اور ہنر میں قابلیت بھی دی۔ اب ان کی آبادیاں اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کی قوت کا مرکز امریکا اور یورپ کی بجائے مشرقی ایشیاء بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان بھی ایک بڑی آبادی والا ملک ہے۔ اس وقت پاکستان کی 68.4 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ ان میں 15 سال سے 29 سال کی عمر کے نوجوان 27.63 فیصد ہیں۔ ان نوجوانوں کا تیسرا حصہ شہروں اور باقی دیہاتوں میں رہتا ہے۔ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد دنیا کے بہت کم ملکوں میں ہے۔ یورپ کی لیبر فورس تو اب کافی بوڑھی ہو چکی ہے، انہیں نوجوانوں کی کمی کا مسئلہ بھی در پیش ہے۔ اور ہمارے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ پاکستان بچوں اور نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو اپنے اور دنیا کے لیے کیسے موثر اور فائدہ مند بنا سکتا ہے؟ ہمارے نوجوانوں کو اللہ نے بے پناہ جسمانی اور دماغی صلاحیتیں دی ہیں۔ مسئلہ ان صلاحیتوں کو دریافت کرنا اور انہیں نشو و نما دینے کا ہے۔

آج کل دنیا کے ہر شعبہ زندگی میں جدید ترین آلات، اوزار اور مشینیں استعمال ہو رہی ہیں۔ زراعت، دستکاری، صنعتیں، بجلی اور گیس پیدا کرنے کے پلانٹ، ٹرانسپورٹ اور رسل و رسائل کے ذرائع ہمہ وقت تبدیلی کی زد میں ہیں۔ کام کرنے کے طریقے اور ٹیکنالوجیز بدلتی رہتی ہیں۔ ان تمام شعبہ ہائے زندگی میں صحیح کام کرنے کے لیے جدید اور اعلیٰ تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ اب تو زراعت جیسے بظاہر سادہ نظر آنے والے کام بھی تعلیم کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو معیاری تعلیم دیں تو ہم بھی تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولتوں کی فراہمی بھی لازمی ہے۔ کیونکہ ایک اچھے دماغ کے لیے صحت مند جسم کا ہونا بھی ضروری ہے۔

قابل افسوس امر ہے کہ ہمارے یہاں 32 فیصد نوجوان سرے سے ناخواندہ ہیں۔ جو پڑھ رہے ہیں ان میں سے بھی بہت کم بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم کی معیاری سہولیات حاصل ہیں۔ آج کل تعلیم پبلک اور نجی دونوں شعبے فراہم کر رہے ہیں۔ نجی شعبے میں اب پورے ملک میں ایسے تعلیمی نیٹ ورکس قائم ہو گئے ہیں جہاں تعلیم کا معیار کافی بہتر اور زمانے کی ضرورتوں کے مطابق ہے۔ لیکن ایسے معیاری نجی اسکولوں کی تعداد ضرورت کے لحاظ سے بہت ہی کم ہے۔ جہاں تک سرکاری اسکولوں کا تعلق ہے، وہاں کے حالات انتہائی پسماندہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   محنت اور مستقل مزاجی - حافظ جاوید اقبال

پنجاب میں اب چند اضلاع میں دانش اسکول قائم ہوئے ہیں جہاں تعلیم کا معیار بہتر ہے۔ لیکن نجی اسکولوں کی طرح ان کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ تمام سرکاری اسکولوں کا معیار دانش اسکولوں کے برابر کیا جائے۔ دیہات کے سرکاری اسکول کے حالات میڈیا پر آتے رہتے ہیں۔ کئی اسکولوں میں اب بھی بڑے زمینداروں نے اپنے جانور باندھے ہوئے ہیں۔ اس سے حکومتوں کی تعلیم سے بے توجہی کا پتہ چلتا ہے۔ اب ضروری ہو گیا ہے کہ جدید علوم اور خاص طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم ایسے طریقے سے دی جائے کہ طالب علم تخلیقی ذہن کے حامل بنیں۔ طلباء کو سوچنے، سمجھنے اور کچھ کر دکھانے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ ہم صرف اسی صورت میں اپنے کروڑوں نوجوانوں کو معاشرے اور ملک کے لیے فائدہ مند بنا سکتے ہیں۔ یہی اعلیٰ تعلیم یافتہ بچے بڑے ہو کر اپنے ملک کے قدرتی وسائل سے بہتر فائدہ اٹھا سکیں گے۔

ہمارے ہاں قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ زرخیز زمینیں اور پانی موجود ہے۔ اگر تعلیم یافتہ نوجوان زراعت میں کام کریں گے تو وہ بہت جلد پاکستان کو ایشیاء کا اناج کا گھر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی زمین کے نیچے معدنیات کی بھی کمی نہیں ہے۔ انہیں نکال کر مصنوعات میں ڈھال سکتے ہیں۔ یوں ہماری برآمدات بڑھیں گیں اور درآمدات کم ہوں گی۔

تعلیم اداروں سے فارغ ہونے والے نوجوانوں میں یہ رجحان پیدا کیا جائے کہ انہوں نے تعلیم کی تکمیل کے بعد اپنا روزگار خود شروع کرنا ہے۔ اس طرح وہ روزگار تلاش کرنے والے کی بجائے روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کے کورسز کرائے جا رہے ہوں وہاں انہیں کاروبار اور معاشی دنیا کے بارے میں بھی بتایا جائے تاکہ تعلیمی فراغت کے بعد وہ اپنی پسند کے شعبوں میں خود کاروبار شروع کر سکیں۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ تنخواہ لینے والوں کی بجائے تنخواہ دینے والے بنیں۔ پاکستان میں غربت کے خاتمے اور بے روزگاری کا یہی ایک حل ہے۔ اس طرح اشیاء کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ ملک کی قومی آمدنی بڑھے گی۔ دوسری قوموں کی طرح ہمارے حالات بھی بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔

مشرقی ایشیاء میں تبدیلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی وجہ سے آئی ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور چین کا معاشی انقلاب تعلیم یافتہ، باہنر نوجوانوں اور ایمان دار سیاسی لیڈر شپ کی وجہ سے آیا ہے۔ اس تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں تعلیم و تربیت کے لیے بڑی بڑی رقومات مختص کریں۔ چین اور جنوبی کوریا نے تعلیم پر لگا تار اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کیا ہے۔ نوجوانوں نے اپنے ملک میں بھی تعلیم حاصل کی اور اپنی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے تعلیمی اداروں سے بھی فائدہ اٹھایا۔ طلباء نے نئی نئی ٹیکنالوجیز سیکھیں اور واپس آکر اپنے ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنا بھی خیال رکھیں - عبداللہ ابنِ علی

اقوام متحدہ نے بھی اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ جہاں انسانی وسائل ترقی نہیں کرتے وہاں معاشی ترق بھی نہیں ہوتی۔ مسلم ممالک پر اگر نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ یہ ممالک معاشی ترقی میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر تمام مسلم ممالک کی قومی آمدنیوں کو جمع کیا جائے تو وہ ایک ملک جاپان کے برابر بھی نہیں بنتیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ مسلم ممالک میں جدید تعلیم اور خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجیز کی تعلیم پر بہت کم توجہ دی گئی اور انسانی وسائل کو درست طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ پاکستان کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ یہاں اب تک تعلیم پر صرف 2 فیصد خرچ کیا گیا ہے۔ حالانکہ 2009ء کی تعلیمی پالیسی کے اعلان کے وقت یہ کہا گیا تھا کہ تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کے 7 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد اب تک 8 بجٹ آ چکے ہیں مگر تعلیم کے لیے مختص بجٹ جوں کا توں ہے۔ پنجاب کے علاوہ کہیں تبدیلی نہیں آئی۔

ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور نئی مردم شماری کے مطابق شہریوں کی تعداد 20 کروڑ سے زائد ہوجائے گی۔ انسانی ترقی کے اعشاریے میں اب ہم 187 ملکوں کی برادری میں 145 نمبر پر شمار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا درجہ تعلیم اور دیگر سہولیات میں بہت نیچے ہے۔ اگر ہم نے تعلیم کے ذریعے ان بچوں اور نوجوانوں کو بہتر انسان بنا لیا تو یہ ہمارے لیے اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ اس کے بر عکس دہشت گرد تنظیمیں ناخواندہ نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہیں گی۔ انسانی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے نقطہ نظر سے دنیا میں اب Global Talent Ranking کی جاتی ہے۔ اس درجہ بندی میں ہم کافی نیچے ہیں۔ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت سے ہی ہم اپنا یہ درجہ بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ طلباء میں تعلیم کے ساتھ کاروباری فہم پیدا کریں تاکہ طالب علم تعلیم کے بعد فوراً اپنے کاروبار میں مشغول ہو جائیں۔ حکومت کاروبار شروع کرنے کے لیے مدد فراہم کرے۔ انسانی وسائل کے موثر استعمال سے ہی ہم قوموں کی برادری میں باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔