منصور احمد منصور: مزاحمت و احتجاج کا دوسرا نام - ڈاکٹر اشرف لون

ادب میں مزاحمت اور احتجاج کو ابتدا ہی سے ایک اہم مقام حاصل رہا ہے۔ عہد یونان سے لے کر عہد حاضر تک, ادب میں احتجاج کو روا رکھا گیا ہے۔ حتی کہ بہت سے ناقدین کا ماننا ہے کہ ادب بنیادی طور پر مزاحمتی ہی ہوتا ہے۔ لیکن اس بات میں ادھوری سچائی ہے۔ وہ یوں کہ رومانوی ادب کا بیشتر حصہ مزاحمت و احتجاج کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ مابعد جدید عہد اور مابعد نوآبادیاتی مطالعات تک آتے آتے ادب میں مزاحمت و احتجاج نے ایک نئی اور واضح شکل اختیار کر لی ہے۔ بالخصوص مابعد جدید تھیوریز مثلا مابعد نوآبادیات مطالعات اور تانیثی مطالعات میں ادب مزاحمت و احتجاج کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اردو ادب میں پچھلے کئی دہائیوں سے مزاحمت و احتجاج ایک ممنوعہ لفظ گردانا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ تنقید نگاروں کی اردو ادب پر بیجا حکمرانی اور سرکاری سرپرستی و سرکاری انعامات کے پیچھے بھاگنا وغیرہ شامل ہے۔

جموں و کشمیر کے ایک بڑے اور مزاحمتی تخلیق کار منصور احمد منصور کا نام ان تخلیق کاروں میں شامل ہے کہ جن پر خودساختہ اور نام نہاد تنقید نگاروں نے آج تک کوئی توجہ نہیں دی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان سرکاری نقادوں کی لیگ سے باہر ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے افسانوں و دیگر تخلیقات کو لاکھوں قارئین میسر ہیں، کیوں کہ یہ کہانیاں سیاہی سے نہیں اورنہ ہی کسی “سرکاری فرمان” کے تحت لکھی گئی ہیں بلکہ یہ خون جگر سے لکھی گئی کہانیاں ہیں جن میں مظلوم کشمیر کے ہر ایک فرد کو اپنا عکس صاف نظر آتا ہے۔

جموں و کشمیر میں پچھلی کئی دہائیوں سے حالات ابتر چل رہے ہیں۔ غلامی کی زنجیروں میں جھکڑی یہاں کی قوم ظلم و استحصال کے خلاف مسلسل مزاحمت و احتجاج کر رہی ہے۔ اس قوم نے بڑی سی بڑی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اپنا مال و متاع اپنے وطن کی خاطر نچھاور کیا ہے۔ اس پُر آشوب دور میں بھی اس سرزمین سے بہت سے ایسے تخلیق کار اٹھے کہ جنہوں نے یہاں کے مظلوم عوام کے احساسات و خیالات کی ترجمانی کی۔ ان تخلیق کاروں میں بشارت پیر، شہناز بشیر، مرزا وحید، منصور احمد منصور وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

منصور احمد منصور نے اپنی تخلیقات، انشائیوں اور افسانوں میں کشمیر کے اس درد و کرب کو بڑی خوبصورتی اور فنکاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اور کشمیر کے ایک تاریک مگر نازک دور کو لفظوں میں محفوظ کیا ہے۔ یہاں میرا زیر بحث موضوع منصور احمدمنصور کے افسانے ہیں اور یہ افسانے نہیں بلکہ بقول پروفیسر محمد زماں آزردہ 'منثور مرثیے' ہیں۔ "خواب، خاک اور خون" ایک ایسا ہی افسانہ ہے جس میں منصور نے کشمیر کے ان حالات و واقعات کی عکاسی کی ہے جن سے ہر ایک کشمیری دوچار ہوا ہے۔ خوف و ڈر کے ماحول میں پلنا اور ایسے حالات میں جینا جیسے ایک کشمیری کا مقدر بن گیا ہے:
“اس لیے شام کے سائے پھیلتے ہی لوگ روشنیاں بجھا کر اندر دبکے پڑے رہتے ہیں۔ خوف و ہراس سے زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔ کان دیوار کے ساتھ لگے ہوتے ہیں کہ کب قدموں کی پر اسرار چاپ سنائی دے۔ اس چاپ پر لوگ دم بخود ہوکر رہ جاتے ہیں، بدن تھرتھراتے ہیں اور دانت یوں کٹ کٹ بجنے لگتے ہیں۔"

حالات و واقعات کی ایسی خوبصورت اور جاندار منظر کشی کہ پورا سماں آنکھوں کے سامنے پھر جائے اور قاری پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ حالات و واقعات بالکل آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں جن کا مشاہدہ ہر ایک کشمیری کو ہے۔ اسی طرح جب آگے افسانے میں ایک کردار بولتا ہے:
“قبروں کے نشان بھی باقی نہیں رہیں گے”

کیا یہ جملہ حالات و واقعات کی بھر پور عکاسی نہیں اور کیا اس میں سچائی نہیں کہ جب ہمارے پاس ہزاروں بے نام قبریں ہیں، یہاں تک کہ ان بے نام قبروں میں سے کچھ کے نشان بھی مٹ چکے ہیں۔ اور اب تو بے نام قبرستان بھی وجود میں آچکے ہیں۔

افسانے “خواب اور تقدیر” داستانوی اسلوب میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ افسانے میں خطہ ارض کے اس ٹکڑے کو موضوع بنایا گیا ہے جہاں راکششوں نے اپنے ظلم و ستم سے منشیوں (انسانوں) کا جینا دوبھر کر کھا ہے:
“پھر یوں ہوا کہ ستی سر میں جلود بھاؤ نے تہلکہ مچادیا۔ لوٹ مار، عصمت دری، آتشزنی اور قتل و خون کا بازار گر، ہو۔ پانی پہاڑوں کے سروں سے ٹکرارہا تھا۔ جلودبھاؤ سب کچھ تاخت و تاراج کرتے ہوئے ستی سر کو خونی سر میں تبدیل کر چکا۔“

یہ بھی پڑھیں:   حج مبرور و ذنب مغفور - یحیی الطاہر عبداللہ

علامتی انداز میں اس سر زمین کے حالات کی عکاسی اس سے بہتر انداز میں نہیں ہوسکتی تھی جس طرح منصور احمد منصور نے کی ہے۔ خونین حالات اور ظلم و ستم سے تنگ آکر بالآخر اس زخمی سرزمین کا نوجوان پہاڑ کھود کر دوائی ڈھونڈنے کے لیے نکلتا ہے، اس خیال کے ساتھ کہ اس ظلم کو کم کیا جائے یا یہ کہ ظلم کے خلاف اب لڑنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ تاکہ وہ بھی سورج کی روشنی اور لہراتی ہواؤں کا آزادی کے ساتھ مزا لے سکے۔
“ایک دن اس کہر آلود فضا سے تنگ آکر جوانوں نے پہاڑ کھود کر سامنے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تاکہ سورج کی روشنی اور کرنیں کہر کی دبیز تہہ کو کاٹتے ہوئے گھروں اور آنگنوں میں داخل ہوسکیں۔”

لیکن جلود بھاؤ کے اچانک پھر سے نمودار ہونے پر پھر سے وہی کہانی شروع ہوتی ہے جس سے چھٹکارا پانے کے لیے نوجوانوں نے پہاڑ کھودنے کا ارادہ کیا تھا۔ پھر وہی ظلم و ستم کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ بوڑھا جلود بھاؤ کے پھر سے واپس لوٹنے اور منظر کو ایک بار پھر تبدیل ہوتے دیکھ کر سوچ میں پڑگیا اور بالآخر اپنے گرد گھیرا ڈالے مجمع سے مخاطب ہوکر بول اٹھا:
“یہی سوچتا ہوں کہ جلود بھاؤ کیا اور کیوں؟ بار بار اس خیال کو جھٹک دیتا ہوں اور بار بار یہ خیال دامن گیر ہوتا ہے کہ جلودبھاؤ کیسے نمودار ہوگیا اور کتنی جلد نمودار ہوا۔ وہ ایک لمبی آہ کھینچ کر بولا اور خاموش ہوا۔ وادی گلپوش ہمارا خواب ہے، تقدیر ہماری ستی سر ہے۔“

اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کہ کس طرح وادی گلپوش میں ہر طرف گلوں کو کچلا جا رہا ہے۔ کتنے پھول ہیں جو کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے ہیں۔ ہر طرف خار ہی خار دکھائی دے رہیں۔ دشمنوں نے اس سر زمین کو خارزار بنا دیا ہے۔ اور بقول فیض یہاں گلشن کا کاروبار بھی رک گیا ہے۔ ہر طرف مایوسی اور اداسی چھائی ہوئی ہے۔
منصور کی کہانیوں کو پڑھنے کے بعد ایک عجیب طرح کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی کہانی کو آپ پڑھیے، پہلا ہی پیراگراف پڑھنے سے وہ منظر سامنے آتا ہے جس سے کشمیر کا ہر فرد واقف ہی نہیں بلکہ دوچار ہوا ہے۔ لیکن ساتھ میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کہانیوں میں ایسی کوئی گھن گرج نہیں جو قاری یا سامع پر بار گزرے بلکہ منصور نے بڑے نرم اور دھیمے لہجے میں حالات و واقعات کی عکاسی کی ہے اور قاری خود بخود ان فضاؤں میں پہنچ جاتا ہے جو اس گلش میں پچھلی کئی دہائیوں سے لہرا رہی ہیں۔ افسانہ ”ملبے سے برآمد خزانہ” سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
“رات تھرتھرارہی ہے۔ پھول پتے، پیڑ، سبزہ کپکپا رہے ہیں۔ ہر شے پر لرزہ طاری ہے۔ ناقابل شناخت لاشیں۔ گمنام قبرستان۔ گم شدہ لوگ۔ بے نشان قبریں۔ سرزمین بے آئین۔ رحم بار الٰہی۔ باہر سخت کرفیو ہے!"

ان سطروں میں منصور احمد منصور نے تاریخ کے ان لمحات اور حالات و واقعات کو قید کیا ہے جن سے ہر کشمیری واقف ہے۔ سرزمینِ بے آئین میں ہر طرف نا انصافی اور ظلم کا بول بالا ہے۔ بلکہ اب تو یہاں لفظوں کے معنی بھی بدل گئے ہیں۔

پچھلے 25 سالوں میں کشمیر میں پنپنے والے حالات نے یہاں کے ہر فرد کی نفسیات کو متاثر کیا ہے۔ ظلم و ناانصافی نے نجانے کتنے نوجوانوں کو وہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جس کے ہر موڑ پر کانٹوں کا جال بچھایا گیا ہے۔ منزل کی تلاش میں ہزاروں نوجوان راستے میں قربانی دے گئے۔ لیکن ان قربانیوں کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر کبھی جوں تک نہیں رینگی۔ الٹا ظلم و ستم کے نئے ہتھکنڈے ایجاد کیے گئے:
"گریباں چاک ہوا۔ 'نخرے والی'۔ آوازیں اور قہقہے۔ وہ اوندھی منہ گر پڑی۔ کچھ دوری پر لطیف لہولہان پڑا تھا۔ بے حس و حرکت۔ وہ آہستہ سے اٹھیاور لطیف سے لپٹ کر دھاڑیں مارنے لگی، کچھ دن وہ گھر میں کھوئے رہے اور ایک دن یہ کہہ کر گھر سے نکلے۔ میرے لوٹ آنے تک منے کا خیال رکھنا۔“

یہ بھی پڑھیں:   آخری آدمی - انتظار حسین

اور اس طرح لطیف اور دوسرے نہ جانے کردار اس ظلم و ستم سے تنگ آکر جنگلوں کے سناٹوں میں گم ہوگئے جن میں کچھ تو کبھی گھر بھی آئے لیکن ایسے بھی کردار ہیں جن کا یہ آخری سفر ثابت ہوا اور جو کبھی بھی پھر اپنے گھر کا منہ نہ دیکھ سکے۔
افسانہ “اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے” میں منصور نے ایک ایسے بزرگ “لالہ“ کے حالات و کوائف بیان کیے ہیں جس کا اکلوتا بیٹا اچانک گھر سے غائب ہوجاتا ہے اور “جوانوں کے اس قافلۂ سخت جاں میں شامل ہوا، جس نے تیر و تفنگ اور سنگینوں کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا۔“ اور اس دوران میں لالہ کی وفات ہوجاتی ہے لیکن اس کا بیٹا اس کا جنازہ نہ دیکھ سکا کہ وہ گھر سے بہت دور ہے اور لالہ کا بیٹا اس کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکا۔ ایسی کتنی ہی سچی کہانیاں ہمارے آس پاس بکھری پڑی ہیں۔ ایسے کتنے ہی کردار ہمارے آس پاس ہیں۔ اور ایسے کتنے ہی لالہ جن کا دل ”قبرستان کی مانند“ بن چکا تھا، اپنے لخت جگر کی شفقت سے بھرا رہتا تھا اور اس میں نہ جانے کتنے خواب اور ارمان تھے۔ افسانے کے واحد متکلم اور لالہ کے درمیان یہ مکالمہ ملاحظہ ہو:
“لالہ! ماضی کے اس قبرستان سے آپ باہر کب نکلیں گے”۔ ایک دن میں نے استفسار کیا۔ “جب میری آنکھوں کا نور گھر لوٹ آئے گا۔” لالہ نے مختصر سا جواب دیا اور خلاؤں میں گھورتے رہے۔“

لیکن لالہ کی وفات اپنے نور نظر کے واپس لوٹنے سے پہلے ہی ہوتی ہے اوریوں لالہ کا اک لوتا لڑکا اس کے جنازے میں بھی شامل نہیں ہوپاتا۔ اس طرح یہ کہانی ان ہزاروں سچی کہانیوں کی ترجمان بن جاتی ہے جو کشمیر کے چپے چپے پر موجود ہیں۔ اور جس کے کردار ہمیں اس مظلوم سرزمین کے ہر موڑ پر ملتے ہیں۔
“قصہ حیرت آباد کا” میں حیرت آباد کی بستی کے باسیوں کے احوال و کوائف کی عکاسی کی گئی ہیں۔ افسانے کے واحدمتکلم یعنی حیرت آباد کے باسی کے یہ معنی خیز جملے ملاحظہ ہوں:
“ میں حیرت آباد کا باسی ہوں۔ ٹھنڈے میٹھے پانیوں کے ذائقے کو ترستا ہو، اپنے خوابوں میں رنگ نہیں بھر سکتا، اپنے تصور کو تصویر میں نہیں اتار سکتا۔ اس کے خواب، آرزوئیں، تمنائیں اور تصورات پابہ زنجیر ہوتے ہیں۔ حیرت آباد میں میرا حال یہی ہے۔“

اور حیرت آباد میں ہم سب کا یہی حال ہے۔ اسی طرح “سند باد جہازی کی ڈائری کے چند اوراق” داستانوی اسلوب میں لکھا گیا ایک بہترین افسانہ ہے۔ ’پہلے ورق‘ کا جملہ بڑا دلچسپ اور معنی سے پُر ہے۔ “اس شاہراہ پر خواجہ سگ پرست کی حکمرانی ہے اس لیے آدمی قید میں ہیں اور کتے آزاد”۔ پانچویں ورق کے یہ جملے ملاحظہ ہوں:
“شہر کی گلیوں اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کے دوران اس بات کا عندیہ ملا کہ شہر کی نئی پود کے اندر خواجہ سگ پرست اور بار بار موقف، نظریہ اور لبادہ بدلنے والوں کے خلاف لاوا پک رہا ہے جو آتش فشاں کی طرح پھٹنے کے لیے بے تاب ہے۔"
اور بالآخر یہ آتش فشاں ’آخری ورق‘ میں پھٹ کر پورے شہر میں پھیل جاتا ہے۔ سند باد کا کیا ہوا اس کے لیے پورے افسانے کا مطالعہ ضروری ہے۔

منصور احمد منصور نے جہاں اپنے افسانوں میں داستانی اسلوب کو اپنایا ہے وہیں ان کے یہاں افسانے کا عام اسلوب یا جسے بعض ناقدین افسانے کے روایتی اسلوب سے بھی تعبیر کرتے ہیں، میں بھی افسانے ہیں۔ اور دونوں اسالیب پر ان کی مضبوط گرفت ہے۔ پلاٹ اور کردار نگاری میں پر بھی منصور کو بھرپور دسترس حاصل ہے۔ کشمیر کے درد و کرب کو منصور نے جس خوبصورتی سے اپنے افسانوں میں سامنے لایا ہے وہ انہیں کا حصہ ہے۔ امید کرتے ہیں کہ افسانے سے آگے نکل کر جلد ہی منصور احمد منصور اردو ادب کو وہ شاہکار ناول دیں گے جس کا انتظار ان کے قارئین کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔ بہرحال اتنی بات طے ہے کہ افسانوی مجموعہ "یہ بستی عذابوں کی" منصور احمد منصور کو عالمی مزاحمتی ادب میں ایک نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔