قطر اور خلیجی ممالک کے اختلافات: حقائق کیا ہیں؟ غلام نبی مدنی

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین ، مصر، یمن، لیبیا، مالدیپ نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں۔ 5 جون2017ء کی صبح کو سعودی عرب کی خبرایجنسی واس نے خبر جاری کی، جس کے مطابق سعودی عرب نے داخلی امن و سلامتی کی خاطر قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ اس خبر کے جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، لیبیا، مالدیپ اور یمن نے بھی سعودی عرب کی حمایت میں قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔ سعودی حکومت کی جانب سے مؤقف اپنایاگیا کہ قطر چوں کہ مسلسل دہشت گرد تنظیموں حمایت اور مدد کر رہا تھا اور خلیجی ممالک کے برعکس ایران کے ساتھ قربتیں بڑھا رہا تھا جو نہ صرف سعودی امن و سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے، بلکہ دیگر خلیجی ممالک کے متفقہ منشور سے ہٹ کر ہے، اس لیے سعودی عرب نے مجبورا طویل صبر اور گہری سوچ و بچار کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سعودی حکومت نے قطر کے ساتھ زمینی، فضائی اور بحری راستے بند کرنے کے ساتھ قطر میں موجود سعودی سفارتی عملے، عام شہریوں اور مقیمین کو بھی ہدایات جاری کر دیں کہ وہ جلد از جلد قطر چھوڑ دیں۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ تمام سرحدیں بندکرتے ہوئے سعودی عرب میں موجود قطری شہریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چودہ دن کے اندرسعودی عرب سے نکل جائیں۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور یمن نے بھی الگ الگ بیان میں سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کیا اور اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو جلد ازجلد قطر چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ قطر کے سفارتی بائیکاٹ سے قطر کا مالی نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ ترکی اور امریکہ نے معاملے کو سلجھانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، لیکن کیا خلیج اور قطر کے اختلافات ختم ہوجائیں گے؟ اس کے لیے قطر اور خلیجی ممالک کے حالیہ اختلافات کی اصل کہانی کا جاننا ضروری ہے۔

قطر کے ساتھ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے حالیہ اختلافات کی کہانی دراصل اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب دورے کے موقع پر اسلامی کانفرنس میں سعودی عرب نے ایک قرارداد میں ایران کو عالمی دہشت گردی کا سردار قرار دیا۔ اس قرارداد کے دو دن بعد یعنی 23 مئی 2017ء کو قطر کے بادشاہ تمیم بن حمد آل ثانی کی طرف منسوب ایک بیان قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی سے نشر ہوا جس میں کہا گیا کہ ”قطر میں امریکا نے فوجی اڈے قطر کو ہمسائیہ ممالک کے ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے بنائے ہوئے ہیں اور ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے جس کے ساتھ اختلافات رکھنا حکمت کے خلاف ہے“۔ سعودی عرب نے جب قطر سے اس بیان کے بارے وضاحت طلب کی تو قطری حکومت کی طرف سے اس بیان کا انکار کیاگیا اور مؤقف اپنایاگیا کہ دراصل ہیکروں نے قطر کی نیوز ایجنسی کو ہیک کر کے قطر کے بادشاہ کی طرف منسوب یہ من گھڑت بیان نشر کیا ہے۔ لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس وضاحت کو رد کردیا اور قطر کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے صحافتی حلقوں کی جانب سے لفظی جنگ شروع کر دی گئی۔ دوسری طرف قطر کے صحافتی حلقے بھی دوبدو اس جنگ میں حصہ لیتے رہے۔ چنانچہ سعودی عرب کے ایک معروف اخبار نے ایک دن سرخی لگائی کہ ”قطر نے خلیج کی صف کو پھاڑ دیا اور امت کے دشمنوں کو سپوٹ کرنا شروع کر دیا“۔ اگلے دن قطر کے ایک اخبار نے شاہ سلمان کا ہتک آمیز خاکہ بنا کر سعودی عرب کی کلاس لی۔ صحافتی کھینچاتانی میں معاملہ یہاں تک بھی پہنچا کہ قطر کے ایک اخبار نے یہ سرخی بھی جمائی کہ ”تم جتنا چاہو بھونک لو، قطر کو اس کے حق سے نہیں روک سکتے“۔ دوسری طرف سعودی عرب، بحرین، مصر اور عرب امارات نے قطر کے مشہور میڈیا گروپ الجزیرہ نیٹ ورک کی نشریات مکمل طور پر اپنے ملکوں میں بند کر دیں۔ ایک طرف دونوں ملکوں کے درمیان یہ صحافتی جنگ جاری تھی اور معاملہ ٹھنڈا نہیں ہونے پا رہا تھا کہ قطر کے بادشاہ نے ایران کے حالیہ انتخابات میں دوسری مرتبہ کامیاب ہونے والے صدر حسن روحانی کو فون کال کر کے مبارک باد دےدی۔ چوں کہ یہ تہنیتی پیغام ایران کے خلاف دیگر خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے متفقہ منشور سے ہٹ کر تھا، اس لیے سعودی عرب اور قطرمیں اختلافات شدید تر ہوگئے۔ بعدازاں قطر نے سعودی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ عبداللہ العتیبی (جس پر قطر میں غیرقانونی کاروبار کرنے کاالزام تھا) کو ملک بدر کر دیا، جس پر سعودی عرب نے قطر سے شدید احتجاج کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کا یہ دور 12دن تک چلتارہا، یہاں تک کہ 5جون 2017ء کو سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کیوں نہیں جیتی؟ سجاد سلیم

قطر اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 2002ء تک دونوں ملکوں کے تعلقات ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ اچھے نہیں رہے. 1913ء میں جب خلافت عثمانیہ کے بخیے ادھیڑے جا رہے تھے تو سعودی عرب اور قطر کے امراء کے درمیان سرحدی تنازعہ کھڑا ہوا، جس میں سعودی عرب نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ قطر سعودی عرب کے علاقے احساء کا حصہ ہے لہذا اسے سعودی عرب کے حوالے کیا جائے۔ برطانیہ کے انکار کے دوسال بعد سعودی عرب نے نہ چاہتے ہوئے مجبورا قطر کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا۔ لیکن وقتا فوقتا مختلف معاملات پر دونوں ملکوں میں نوک جھونک چلتی رہی۔ 2002ء میں دونوں ملکوں نے نئے سرے سے تعلقات کا آغاز کیا، چنانچہ 2002ء کے بعد سے 2014ء تک دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سماجی اور سیاحتی تعلقات انتہائی شاندار رہے۔ 2014ء میں دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت اختلافات پیدا ہوئے جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے مل کر قطر سے اپنے سفیر یہ کہہ کر واپس بلا لیے کہ قطر ہمارے متفقہ معاہدات کی پاسداری نہیں کر رہا۔ 8 مہینے کی سردمہری کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات پھر بحال ہوگئے لیکن چوں کہ قطر اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسی میں آزادی کا خواہش مند ہے، اس لیے اپنے ہمسایہ ممالک اور دنیا کے دیگر ملکوں اور تنظیموں کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے میں دیگر خلیجی ملکوں کی خواہش کے برعکس آزاد فیصلے کرنے کا عادی ہو چکا ہے، چنانچہ ایک طرف قطر حماس اور اخوان المسلمین جیسی جماعتوں کے بارے میں دیگر خلیجی ممالک کی بہ نسبت نرم گوشہ اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ حماس اور اخوان کو دوحا میں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی مراسم قائم کیے ہوئے ہے۔ میڈیا کی اور اظہار رائے کی آزادی اور عام مقیمین کے ساتھ بھی قطر کا رویہ دیگر عرب ملکوں کی بہ نسبت کافی اچھا ہے۔ شاید اسی وجہ سے عرب دنیا کے دیگر ملکوں کی بنسبت قطر کو انسانی حقوق اور آزادی اظہاررائے کے حوالے سے دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سے فرازِ دار ہوا سر فراز ہے - صلاح الدین فاروقی

اختلافات کی اصل وجہ قطر کا دیگر خلیجی ملکوں سے ہٹ کر ایران کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا ہے۔ 24 فروری 2010ء کو قطر کے بادشاہ نے ایران کا دورہ کیا اور دفاعی معاہدات کیے۔ ان معاہدات کا ایک دور 2015ء میں بھی چلا جس میں دونوں ممالک نے مشترکہ حدود کی حفاظت کے لیے دفاعی معاہدات کیے۔ قطر اور ایران کے تعلقات میں مشترکہ چیز طبعی گیس کے وہ کنویں ہیں جو ایران اور قطر کی حدود میں واقع خلیج عربی میں 9700 کلومیٹر مربع تک پھیلے ہوئے ہیں، جن میں سے 6000 کلومیٹر مربع پر پھیلے کنویں قطر کی ملکیت ہیں اور باقی کے 3700 کلومیٹر مربع پر واقع کنویں ایران کے پاس ہیں۔ یہ طبعی گیس دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی ہے۔ 2007ء میں قطر نے خلیج کانفرنس میں دیگر خلیجی ممالک کے نہ چاہنے کے باوجود ایرانی صدر احمدی نژاد کو بطور مہمان بلایا۔ دوسری طرف ایران قطر کے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات اور ایران مخالف قراردادوں پر آج تک خاموش ہے۔

مفادات کی اس سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہے کہ قطر اور خلیجی ممالک کے مابین حالیہ اختلافات محض مفاداتی ہیں جو بہت جلد ختم ہوجائیں گے۔ لیکن دوسری طرف المیہ یہ بن چکا ہے کہ آج کے دور میں ہر ملک اپنے مفادات کو ترجیح دینے لگ گیا ہے، بالخصوص اسلامی ملکوں کے ہاں تو نظریات ثانوی درجے کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ مفادات کو سامنے رکھ کر خارجہ پالیسی بنانے سے قطعا اختلاف نہیں، مگر افسوس تب ہوتا ہے جب نظریات، عقائد اور روایات کو بھلا کر مفادات ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جائے۔ امت مسلمہ کے زوال اور مغلوبیت کی اصل وجہ یہی بنی کہ امت مسلمہ نے نظریات کی جگہ مفادات کو ترجیح دی۔ اگر مفاد اپنے بھائی کے قاتل سے بھی وابستہ ہوا تو کشادہ دلی کے ساتھ اسے گلے لگا لیا اور جب کبھی نظریات اس بات پر مجبور کریں کہ اپنے مظلوم بھائی کے قاتل سے ظلم کاحساب لیاجائے تو فورا تاویلات اور مصلحت و حکمت کو گلے لگا لیا۔ امت مسلمہ میں انتشار و افتراق سے قرآن و سنت میں بہت ڈرایا گیا ہے۔ اتحاد و اتفاق نے امت مسلمہ کو جو شناخت دی تھی، اسی میں آج عالم اسلام کی بھلائی ہے۔ خلیجی ممالک ہوں یا دیگر اسلامی ممالک، سب کواپنے مشترکہ نظریات اور عقائد کی خاطر اتحاد کی رسی کومضبوطی سے پکڑنا چاہیے اور محض مفادات کی خاطر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے گریز کرناچاہیے۔ اسی میں عالم اسلام اور امت کی بھلائی ہے۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں