خواتین اور تفسیر قرآن اور علم حدیث - عالم خان

ایک دوست نے دو بنیادی سوالات اٹھائے ہیں، جو کہ عورتوں کی دینی تعلیم اور خدمات سے متعلقہ ہیں، کہ انھوں نے قرآن کی تفسیر کی شکل میں دین کی خدمت کی ہے یا نہیں اور ساتھ تاریخ اسلام یا برصغیر سے مثال طلب کی ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر کرنا ہی صرف دین کی خدمت نہیں ہے، اور نہ دین کی خدمت کو صرف اسی کے ساتھ مقید کیا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ یہ دین کا ایک ڈپارٹمنٹ (شعبہ) ہے، اس لیے اس میں خواتین نے کام کیا کہ نہیں؟ اس پر بات کی جا سکتی ہے۔ تو علوم التفسیر کے متخصصین کو اچھی طرح علم ہے، کہ تفسیر نسائی اور ذکوری ایک مستقل موضوع ہے، اور اس پر کئی کتابیں، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات موجود ہیں، کہ خواتین کا قرآن کریم کی تفسیر میں کیا کردار رہا ہے. اس ضمن میں عادل نہویض کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ”معجم المفسرین من صدر الاسلام حتی العصر آلحاضر“ اور ڈاکٹر عفاف عبد الغفور حمید کی کتاب ”جہود المراۃ فی تفسیر القرآن“ قابل ذکر ہیں۔

قرآن کی تفسیر سے مراد اگر انفرادی آیات یا سورتوں کی تفسیر اور تدریس ہو، تو یہ تاریخ امہات المؤمنین سے شروع ہوتی ہے، اور تاحال جاری ہے، اس فہرست میں سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہن ، اور تابعات میں حفصہ بنت سیرین، ملکہ زبیدہ زوجہ ہارون الرشید اور عرب و عجم کی دیگر خواتین کی طرح پاکستان کی فرحت ہاشمی صاحبہ شامل ہیں، لیکن اگر ہمارے دوست کا مطلب یہ ہو، کہ ایسی خواتین جنہوں نے مستقل تفسیر لکھی ہو، اور کتابی صورت میں موجود ہو، تو اس کی بھی ایک طویل فہرست ہے، طوالت کے خوف سے چند ایک پر اکتفا کرتا ہوں۔

1_ زینب النساء بنت محی الدین اورنگزیب نے ”زیب التفاسیر“ کی نام سے تفسیر تحریر کی ہے۔
2_ ڈاکٹر/ عائشہ بنت عبد الرحمن آلشاطئ نے ”التفسیر البیانی للقرآن الکریم“ لکھی ہے۔
3_ زینب الغزالی الجبیلی کی تفسیر ”نظرات فی کتاب اللہ“ کے نام سے 2003م میں شائع ہوئی ہے۔
4_ فوقیہ ابراھیم الشربینی کی تفسیر ”تیسیر التفسیر“ کے نام سے 2008م میں جامعہ ازہر کے علماء کے تعریفی کلمات کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔
5_ کریمان حمزہ کی تفسیر ”اللؤلؤ والمرجان فی تفسیر القرآن“ کے نام سے 2010م میں تین جلدوں میں منظر عام پر آئی ہے۔
6_ ایک فلسطینی عالمہ نائلہ ہاشم کی تفسیر ”المبصر لنور القرآن“ 2003م میں شائع ہوئی ہے۔
7_ ایک ترکش محققہ سیدہ سمرا کورون کی تفسیر ”تفسیر القاری“ 13 جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوش رہنے کے لیے تم کیا کرتی ہو؟ جویریہ سعید

لہذا خواتین نے جہاں دین کے دیگر شعبوں میں اپنی خدمات پیش کی ہیں، اسی طرح قرآن کی تفسیر میں بھی ان کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، ان کی خدمات کو چیلنج کرنا کم علمی و کم ظرفی ہوگی.

خواتین اور علم حدیث
یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ قرن اوّل، جو صحابہ اور کبار تابعین کا دور تھا، کے بعد خواتین کے لے تعلیم و تعلم کا کوئی بندوبست تھا یا نہیں؟ اگر تھا تو ہمیں احادیث کی اسانید میں صحابیات کے علاوہ تابعیات یا مابعد دور کی خواتین کیوں نہیں ملتیں؟

حقیقت یہ ہے کہ علم تفسیر کی طرح علم حدیث میں خواتین کے کردار پر بھی بہت کام ہوا ہے، جن میں ڈاکٹر محمد بن عزوز کی (۳۸۷) صفحات پر مشتمل کتاب ”صفحات مشرقۃ من عنایۃ المراۃ بصحیح البخاری روایۃ وتدریسا“، اور ڈاکٹر صاحب کی دوسری کتاب ”جہود المراۃ الدمشقیۃ فی روایۃ الحدیث“، ایم فل کا ایک مقالہ ”تراجم المحدثات من التابعیات ومرویاتھن فی الکتب السنہ“، انگریزی زبان میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی (۳۳۷) صفحات پر مشتمل کتاب ”Al-Muhaddithat the women scholars in Islam“ قابل ذکر ہیں۔

پہلی بات کہ قرن اوّل کے بعد خواتین کے لے تعلیم و تعلم کا کوئی نظام تھا، تو جواب اثبات میں ہے، مشہور اموی مسجد ”جامع دمشق“ خواتین کی باقاعدہ درسگاہ تھی، جہاں ام الدرداء رضی اللہ (۸۱ھ) اور بعد میں، زینب بنت احمد بن عبد الرحیم اور عائشہ بنت عبد الہادی (816ھ) اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مقامی مدارس تھے، جہاں خواتین علم حدیث حاصل کر رہی تھیں۔

صحابیات اور تابعیات کے بعد علم الحدیث کی طلب کا سلسلہ جاری تھا. نویں صدی ہجری کے ممتاز محدث ابن حجر العسقلانی (۸۵۲ھ) نے اپنی کتاب ”المعجم المؤسس للمعجم المفہرس“ میں ان خواتین کا ذکر کیا ہے، جن سے انہوں نے علم حدیث حاصل کیا ہے، یا ان کی کلاس فیلوز ہیں. پہلی صدی ہجری کے بعد علم حدیث کی ماہر خواتین کی ایک لمبی فہرست ہے، جن میں روایت حدیث پر مشہور چند ایک یہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت اور ہمارے سطحی زاویے - عاطف الیاس

1. مشہور عالم تقی الدین السبکی کے اساتذہ میں سے زینب بنت سلیمان بن ابراہیم ( ۷۰۵ھ) شامل ہیں۔
2. جرح و تعدیل کے امام حافظ ابن حجر کے شیوخ میں سے زینب بنت عبد اللہ بن عبد الحلیم بن تمیہ ( ۷۲۵ھ) اور عائشہ بنت محمد بن عبد الہادی شامل ہیں۔
3. مشہور مفسر اور محدث جلال الدین السیوطی (۹۱۱ھ ) کے اساتذہ میں سے ام ہانی بنت الہورینی، ہاجر بنت محمد المصریہ، امۃ الخالق بنت عبد اللطیف العقبی اور نشوان بنت عبد اللہ الکنانی ہیں۔

اس کے علاوہ بھی بہت سی محدثات ہیں، طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کیا جا رہا، البتہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اس دور کی خواتین ہیں، جس میں اہل مغرب ”عورت کے انسان ہونے اور نہ ہونے پر“ بحث و تحقیق کر رہے تھے۔