آپ کا پرائس ٹیگ کہاں ہے؟ رضوان اللہ خان

میں ناکامی کی وجوہات پر سیشن ڈلیور کرکے آڈینس کی جانب سے سوالات کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک نوجوان نے سوال کیا:
سر میں نے ماسٹرز کیا ہے، مارکیٹنگ میرا شعبہ ہے اور 2 سال کا تجربہ رکھتا ہوں، بتائیے میری قیمت کیا ہونی چاہیے؟

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان کی قیمت کیا ہونی چاہیے؟ کیا میں آپ کی قیمت بتا سکتا ہوں؟ میں اور آپ کوئی آلو، مٹر، سیب یا انگور نہیں جن کی قیمت مارکیٹ سٹینڈرڈ کے مطابق لگے گی، جن کی ریٹ لسٹ ہر جگہ ایک سی رہے گی۔ کبھی آپ ’’چکن‘‘ خریدنے گئے ہیں؟ منہ میں پانی لانے کا کوئی فائدہ نہیں، میں چکن کڑاہی کی نہیں بلکہ صرف گوشت کی بات کر رہا ہوں۔ کیا آپ نے وہاں لگی ریٹ لسٹ پڑھی ہے؟ اگر نہیں، تو اب ضرور پڑھیے گا۔ مکمل مرغی کی قیمت الگ اور ’’بون لیس‘‘ کی قیمت الگ وغیرہ وغیرہ، لیکن یہ سٹینڈرڈ بھی طے ہوکر آتا ہے اور تمام چکن سیل پوائنٹس پر یہی ریٹ لسٹ نظر آئے گی۔ جب ریٹ بدلے گا تو پوری مارکیٹ میں بدلے گا وگرنہ نہیں۔

اب آپ بتائیے ان صاحب کو کیا جواب دیتا؟ کیا مارکیٹ سکوپ اور مارکیٹ کی ریٹ لسٹ میں سے ان کی قیمت دیکھ کر بتاتا؟ تجربے کے بغیر قیمت، ایک سالہ تجربے کی قیمت، دو سالہ تجربے کی قیمت، اور تین سالہ تجربے کی قیمت، یعنی مکمل مرغی اور ’’بون لیس‘‘۔ ایسا نہیں ہے، نہ ایسا ہوسکتا ہے، ہم اشرف المخلوقات ہیں، ہماری قیمت کوئی دوسرا لگا سکتا ہے نہ بتا سکتا ہے۔ ہمارا پرائس ٹیگ اندر سے ابھرتا ہے، میں خود کو کتنی ویلیو دیتا ہوں اور خود کو کتنی قیمت کا حق دار سمجھتا ہوں، اسی سے طے ہوگا کہ دوسرے لوگ میری کیا قیمت لگائیں گے۔ مارکیٹ میں بے شمار شرٹس Display میں لگی ہوتی ہیں، کچھ کو فوکس کرکے سامنے رکھا جاتا ہے، کچھ تھوڑی پیچھے، کچھ شیشے کے نیچے جبکہ کچھ سب سے الگ تھلگ۔ ان کی قیمت کسٹمر نہیں طے کرتا، ان پر پرائس ٹیگ کوئی باہر سے آکر نہیں لگاتا، ان کی قیمت شرٹس کے مالک کی جانب سے طے ہوتی ہے اور ان کو نمایاں کرنا دکاندار کا کام۔

کسی دانشور کا قول ہے کہ:
کوئی شخص تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں کمتری کا احساس نہیں دلا سکتا.

ارے واہ! بہت خوبصورت بات۔ بھلا جب مجھے اپنی قیمت معلوم ہوگی تو دوسروں کی تنقید میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ جب میں اپنی ویلیو جانتا ہوں گا تو کوئی مجھے ڈی گریڈ کیسے کرسکتا ہے؟ جب آپ خود اپنی عزت کریں گے تو بھلا کوئی کیسے آپ کو بے عزت کر سکتا ہے؟ جب آپ نے پرائس ٹیگ خود لگایا ہے تو بھلا کون قیمت گراسکے گا؟ قیمت صرف اس وقت گرنا شروع ہوگی جب آپ وقت پر خود کو بیچنے کے لیے پیش نہ کرسکیں۔ ایک کدو آپ باغ میں اگائیں اور ایک کسی بوتل میں، تو سائز کس کا بڑا ہوگا؟ ظاہر ہے باغ والا کدو سائز میں بڑا ہوگا۔ اس کی وجہ ہے زیادہ Space، ذرا خود کو بھی زیادہ Space دیجیے، پھلنے پھولنے دیجیے اور ذہن کو بھی اتنا ہی کشادہ رکھیں تاکہ خود اپنی قیمت تو اچھی لگا سکیں۔

بعض اوقات آپ اپنی قیمت آسانی سے نہیں طے کر پائیں گے، جانتے ہیں کیوں؟ کیوں کہ آپ کو معلوم ہے خود آپ بھی اپنی قیمت کم ہی لگائیں گے، اس کی وجہ علم اور مہارت میں کمی ہوسکتی ہے۔ جب انسان کو خود معلوم ہو کہ میری سکلز ابھی کمزور ہیں تو وہ اپنی قیمت بھی کم لگانا شروع کردیتا ہے اور سستا بکنا بھی پسند کرلیتا ہے۔ لیکن اگر آپ سستا نہیں بکنا چاہتے تو تحمل سے کام لیجیے، خود کو بڑھنے دیجیے۔ خود کو Space دے کر بڑھوتری پر کام کریں، مہارتوں کے پودے اُگائیں اور تحمل کا پانی دیتے رہیں۔ برائن ایڈمز کا کہنا ہے:
تحمل اعتماد کو جنم دیتا ہے، اس سے انسان میں فیصلہ کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے، وہ بلند سوچنے کے قابل ہوتا ہے اور اس کا رزلٹ صرف کامیابی ہے۔

جب جب ایسا لگے کہ ابھی بہت ہے سیکھنے کو لیکن صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوجائے، تو ایسے میں چینی بانس کو یاد کرلیا کیجیے۔ چین میں جب بانس اُگائے جاتے ہیں تو کسان کو بہت تحمل اور برداشت سے کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ بانس کے پودے کو پانی دیتا ہے، لگاتار اور بروقت محنت کرتا ہے، ایک ماہ، دو ماہ، چھ ماہ۔ ایک سال اور اسی طرح دو سال گذر جاتے ہیں، لیکن نتیجہ صفر، مگر کسان ہمت نہیں ہارتا وہ اپنی محنت اسی انداز سے جاری رکھتا ہے، تین سال، چار سال، اور پھر پانچواں سال شروع ہوتا ہے، پانچ سال پانی لگنے کے بعد اب جب بانس کا پودا زمین کا سینہ چیر کر نکلتا ہے تو صرف چھ ہفتوں میں 90 فٹ لمبا ہوجاتا ہے، اسے کاٹا جاتا ہے اور پھر اگلے چھ ہفتے میں 90 فٹ۔

ذرا سوچیں کہ کیا یہ بانس جو اب اس قدر جلدی بڑھتا ہے اور کسان کو منافع دیتا ہے، یہ پانچویں سال کے پانی کی وجہ سے ہے؟ اگر کسان پہلے چار سال پانی نہ دیتا تو کیا بانس کا یہ تیزی سے بڑھ جانے والا پودا اسے مل پاتا؟ کسان جانتا تھا کہ اگر میں نے ان پانچ سالوں میں اسے پانی اور کھاد نہ دیا تو پانچ سال تو کیا دس سال بعد بھی مجھے کچھ نہیں ملنے والا۔ یاد رکھیں محنت اور سیکھنے کا ایک ایک لمحہ اپنے اندر بہت طاقت لیے ہوئے ہے، یہاں ایک ایک سیکنڈ کو بھی بے حد اہمیت حاصل ہے۔ تو حوصلہ ہارنے کے بجائے، اپنی قیمت اور ویلیو بڑھانے کے لیے اپنی مہارتوں کو بڑھائیں اور ہاں دیکھا دیکھی کسی بھی میدان میں کود جانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ آپ اسی پروڈکٹ کو High Price میں فروخت کر پاتے ہیں جسے آپ نے خود دل و جان سے تیار کیا ہو اور خود اپنے خوابوں کے مطابق تیار کیا ہو۔

Comments

FB Login Required

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

Protected by WP Anti Spam