میڈیا چینلز کی رمضان کی دکان - حافظ محمد زبیر

کچھ سالوں سے الیکٹرانک میڈیا سے دور ہوں۔ موویز، ڈرامے تو کجا، اب تو نیوز چینلز، ٹاک شوز اور رمضان ٹرانسمیشن پر بھی کبھی بھولے سے نظر پڑ جائے تو سر درد شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن اہل فکر کو شر سے واقف ہونا چاہیے کیونکہ وہ شر سے واقف نہ ہوں گے تو لوگوں کی رہنمائی کیسے کریں گے؟ ہمارے ہاں علماء میں بس اسی چیز کی کمی ہے کہ ان کے پاس شر کا علم نہیں ہے، لہذا بڑے خلوص سے ایک دوسرے کو ٹی وی چینلز پر جا کر اسلام کی تبلیغ کا فرض سر انجام دینے کے فضائل و مناقب بیان کر رہے ہوتے ہیں۔
پس اسی سوچ سے رمضان کی کچھ ٹرانسمیشن دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ مختلف چینلز رمضان میں اپنی اپنی دکان پر کیا کیا پراڈکٹس بیچ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو لچر اور واہیات پروگرام ہیں کہ جو رمضان کے تقدس کو بری طرح پامال کرنے والے ہیں۔ سارا سال گانے بجانے والے، رمضان میں آپ کو دین سکھا رہے ہوتے ہیں۔ کوئی سنجیدگی اور وقار نام کی شے ہے ہی نہیں۔ کوئی زبردستی آم کھلا رہا ہے، کوئی کپڑے پھڑوا کر کہہ رہا ہے کہ پاگل بن کر دکھاؤ، کوئی میاں بیوی کو کہہ رہا ہے کہ اسٹیج پر آ کر ایک دوسرے کو بوسہ (kiss) دیں، کوئی ڈانس کروا رہا ہے، کوئی موٹر سائیکلیں انعام پر لگائے لڑکیوں کو جگتیں مار رہا ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ رمضان مغرب تک ہوتا ہے، اس کے بعد ہیرو بن کر انڈین فلموں کے گانے گا رہا ہے۔

عامر لیاقت ہوں یا فہد مصطفی، یہ اینکر کم اور جوکر اور مسخرے زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ اور ان تمام رمضان جوکروں کے امام بلاشبہ ڈاکٹر عامر لیاقت ہی ہیں۔ وہی پاکستان میں رمضان ٹرانسمیشن کے نہ صرف بانی ہیں بلکہ یہ سب مداری اینکرز آج بھی انہی کی حرکتوں کو کاپی بھی کرتے ہیں اور انہیں سیلوٹ بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ اینکرز رمضان کے نام پر اپنے شو میں بہت کم ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرتے ہیں۔ اور وقار ذکا، تو اس کا پروگرام تو دجال کا پروگرام معلوم ہوتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں خوب بے حیائی پھیلا رہا ہے کہ ہر دوسرے مہمان سے، چاہے لڑکی ہو یا بچہ، ڈیٹ مارنے اور محبت کرنے کا طریقہ بتلانے اور ڈانس کر کے دکھانے کا مطالبہ ضرور کرتا ہے۔ اور اپنے سیٹ پر خوب شیطانی علامات (symbols) سجا کر دجالیت کو فروغ دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مارکیٹنگ اور کمرشلائزیشن کب مفید ہوگی؟ محمد سلیم

دوسری طرف بظاہر کچھ سنجیدہ پروگرام کرنے والے ہیں جیسے بلال قطب وغیرہ تو یہ بھی دین سے ایک قسم کا مذاق ہی ہے کہ فل میک اپ میں خواتین بٹھا کر ان کے ساتھ مفتی صاحبان کو بٹھا دیں۔ اور ڈرائیونگ سیٹ پر جناب اینکر صاحب ہیں کہ جس طرف مفتی صاحبان کی گاڑی لے کر جانا چاہیں، لے جائیں، ان کی حیثیت سے سواریوں سے زیادہ نہیں ہے۔ ایسے رمضان ٹاک شوز میں بعض مفتی صاحبان انگریزی بولنے کی بھی کوشش کرتے ہیں تا کہ عوام کو معلوم ہو کہ مفتی صاحبان اتنے جاہل بھی نہیں ہیں، انہیں انگریزی بھی آتی ہے اور دلہن بنی بیٹھی میزبان واہ واہ، کیا کہنے، جیسے الفاظ سے داد کے ٹوکرے برسا رہی ہوتی ہے۔

ہر مکتب فکر سے ایک مہمان عالم دین بلوایا جاتا ہے کہ جس کا مقصد اپنے ناظرین کی تعداد بڑھانا ہے کہ ہر مسلک کے لوگوں نے اپنے عالم دین کی بات ہی تو سننی ہے۔ اور ہر ٹی وی چینل پر اپنی ریٹنگ بڑھانے کا ایک جنون سوار ہے بلکہ ان پر بھی جو ریٹنگ کے اس جنون پر کھلم کھلا تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ہر مہمان عالم دین کچھ بولنے کے لیے یوں بے تاب اور بے چین بیٹھا ہوتا ہے کہ جیسے اینکر صاحب کے اشارے کا منتظر ہو۔ ایسے پروگراموں سے کسی قسم کی اصلاح یا تربیت کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ البتہ یہ ہے کہ شر کسی قدر کم کیا جا سکتا ہے کہ یہ پروگرام صریح ہلڑ بازی والے پروگراموں کی نسبت سنجیدہ پروگرام کہلانے جانے کے مستحق نظر آتے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد مسعود جو کہ معروف اینکر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں نے ایک مرتبہ رمضان ٹرانسمیشن میں شریک ہونے کا گناہ کیا تھا، بعد میں اس کی معافی مانگ لی، اگرچہ مفتی صاحب اس شرکت کو جہاد قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ کینسر کے ایک بچے کو ایک اشتہار میں مصنوعی طور رونے کو کہا گیا لیکن اسے رونا نہ آیا تو دوسرے روتے بچے کو دکھا دیا گیا۔ بہر حال رمضان ٹرانسمیشن میں کیا کچھ دکھایا جا رہا ہے، اس پر کافی ویڈیوز موجود ہیں۔ کاش! کہ لوگ رمضان میں اپنا زیادہ وقت ان ٹرانسمیشنز کے دیکھنے میں ضائع کرنے کی بجائے، نوافل، تلاوت قرآن مجید، تسبیح وتہلیل اور دیگر عبادات میں گزاریں۔ [صالح اور مصلح: ص 425-427]