رمضان المبارک اور نیکیوں کی بہار - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے21-رمضان-1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ”رمضان المبارک اور نیکیوں کی بہار“ کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ہم پر اللہ تعالی کی رحمتیں اور نعمتیں تسلسل کے ساتھ سایہ فگن ہیں وہ دن رات ہمیں نوازتا ہے پھر بھی اس کے خزانوں میں ذرہ کمی نہیں آتی، لہذا صرف اسی کی بندگی اور حمد و ذکر اللہ تعالی کا ہم پر حق ہے۔ نیز گناہوں سے معافی بھی اللہ کی بیش قیمت عنایت ہے، بلکہ تھوڑے عمل پر زیادہ اجر اس سے بھی بڑی نعمت ہے، مثلاً: رمضان میں قیام اللیل، صدقہ خیرات اور عمرے کا ثواب بہت زیادہ ہے، اس ماہ میں دعا، قرآن کریم کی تلاوت، فہمِ قرآن کی کوشش اور صلہ رحمی سمیت دیگر تمام نیکیوں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ: یہ مہینہ ختم ہونے جا رہا ہے اور آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے نبی ﷺ آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی جستجو میں دیگر ایام سے بڑھ کر محنت فرماتے اور اس کیلیے اعتکاف بیٹھتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: اعتکاف کرنے والوں کو مخلوق سے کٹ کا خالق سے رابطہ استوار اور مضبوط کرنے کیلیے پوری کوشش کرنی چاہیے حقیقت میں یہی اعتکاف کی روح ہے، پھر انہوں نے کہا کہ : لیلۃ القدر کی برکت کی وجہ سے اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور اس رات میں آئندہ پورے سال کے فیصلے کئے جاتے ہیں، آخر میں انہوں نے کہا کہ رمضان کی خیر و برکت سے محروم ہونے والا شخص ہی حقیقی محروم ہے، سب سے آخر میں انہوں نے تمام مسلمانوں کیلیے دعا کروائی۔
عربی زبان میں آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! کما حقہ اللہ سے ڈرو اور خلوت و جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان سمجھو۔
مسلمانو!
اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر نعمتیں برسائیں اور انہیں اپنے احسانات اور عنایات سے مسلسل بہرہ ور فرمایا، حتی کہ اس کی نوازشوں کی کوئی حد نہیں ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، اللہ تعالی کے دینے سے اس میں کمی نہیں آتی، وہ دن رات سخاوت کرنے والا ہے) متفق علیہ
وہ خیر و بھلائی عطا کرنے والا ہے، تمام مخلوقات پر اس کی فیاضی چھائی ہوئی ہے، اللہ تعالی کی طرف سے خیرات اور رزق دائمی طور پر ملتے رہیں گے، کیونکہ اللہ تعالی بندوں کو بنا مانگے بھی عطا فرماتا ہے، بلکہ ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر نواز دیتا ہے، آسمان یا زمین میں کوئی بھی اس کی عنایتوں سے بالا تر نہیں ہے۔
حمد اور ذکر پر اللہ تعالی کا سب سے زیادہ حق ہے ، پر خلوص محبت اور خالص عبادت پر اسی کے لائق ہیں، تمام نعمتوں کی نسبت اللہ کی جانب کرنا اور ان نعمتوں کو اسی کی اطاعت میں صرف کرنا ضروری ہے، یہ بھی اللہ تعالی کی عنایت ہے کہ وہ جسے چاہے اپنے بندوں میں سے معاف کر دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ} بیشک اللہ تعالی معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔[الحج: 60] تو اللہ تعالی اپنے بندوں کے بہت سے گناہوں پر سزا نہ دے کر معافی اب بھی دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور بہت سی خطاؤں کو معاف کر دیتا ، اور وہ تمہارے سب اعمال جانتا ہے۔[الشورى: 25]
اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے اور اسے مخلوق کی جانب سے حصولِ معافی کیلیے استغفار، توبہ، رجوع الی اللہ اور اعمال صالحہ کی صورت میں کوششیں بھی پسند ہیں ۔
رمضان میں اللہ تعالی کی کرم نوازی اور معافی واضح نظر آتی ہے ، رمضان میں اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے اور گناہ معاف کئے جاتے ہیں، یہ مہینہ روزے رکھنے، قرآن پڑھنے، نیکی اور بھلائی کرنے کا مہینہ ہے، اس مہینے میں اللہ تعالی کے ساتھ تجارت بڑھ جاتی ہے، ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "فضیلت والے وقت کی وجہ سے نیکی کا ثواب بھی اسی طرح بڑھ جاتا ہے جیسے حاضر قلبی اور اخلاص سے بڑھتا ہے"
ماہِ رمضان میں قیام اللیل کی شان ہی کچھ الگ ہے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اور جو شخص رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی امید کرتے ہوئے قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) متفق علیہ
رات کو قیام کی پابندی کرنے والا شخص سلامتی کے ساتھ جنت کا مستحق بن جاتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو قیام کرو، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے) احمد
صدقہ انسان کے ایمان کی علامت اور دلیل ہے، بلکہ قیامت کے دن انسان اپنے صدقے کے سائے تلے ہو گا، نیز راہِ الہی میں خرچ کرنے والے شخص سے عزت اور مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ} اور جو کچھ بھی تم [راہِ الہی میں] خرچ کرو یا کوئی نذر مانو تو اللہ تعالی اسے جانتا ہے۔[البقرة: 270]
صدقے کا اجر فضیلت والے ایام میں مزید زیادہ ہو جاتا ہے اور آپ ﷺ کی یہ حالت ہوتی تھی کہ : (آپ لوگوں میں سب سے سخی تھے لیکن رمضان میں آپ کی سخاوت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی) متفق علیہ
اسی طرح رمضان میں عمرے کا ثواب بھی بہت عظیم ملتا ہے چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: (رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے) متفق علیہ
دعا خود عبادت ہے اور عبادت کا مغز بھی، دعا کے ذریعے خوشحالی مانگی جاتی ہے اور مشکل کشائی کا مطالبہ ہوتا ہے، نیز روزے دار کی دعا تو ویسے ہی رد نہیں ہوتی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تین لوگ ایسے ہیں جن کی دعا کبھی مسترد نہیں ہوتی: روزے دار کی روزہ افطار کرنے تک کی دعا ، عادل حکمران کی دعا ، جبکہ مظلوم کی دعا کو اللہ تعالی بادلوں سے اوپر لے جا کر اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتا ہے اور پروردگار فرماتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا چاہے کچھ دیر کے بعد) ترمذی
قرآن کریم حجت ، شافع، ہادی اور باعثِ شفا ہے، اللہ تعالی نے قرآن کی تلاوت کرنے والوں کے ساتھ بہترین بدلے اور اپنے فضل میں سے مزید دینے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے: {إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ (29) لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ} بیشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں یہی لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے میں نہیں جائے گی [29] تا کہ اللہ انہیں ان کا اجر پورا دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے۔[فاطر: 29، 30]
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو تدبر اور غور و فکر کیلیے نازل فرمایا، قرآن کریم میں وعظ و نصیحت ہے، یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جس وقت نماز کی امامت کرواتے تو خشیتِ الہی کی وجہ سے [آواز اتنی دب جاتی اور]پیچھے کھڑے ہوئے لوگوں کو آپ کی آواز سنائی نہ دیتی۔
بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرنے والوں کیلیے ماہ رمضان وسیع تر میدان ہے، اس دوران نیکی اور صلہ رحمی بڑھ جاتی ہے، تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اخلاقی اقدار بلند ہوتی ہیں، لوگ ایک دوسرے کے قریب تر ہو جاتے ہیں، سب ایک دوسرے کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں ۔
اس بابرکت مہینے کے دنوں نے کوچ کا نقارہ بجا دیا ہے ، اب عقل مند وہی ہے جو آخری عشرے کو غنیمت سمجھے اور اس عشرے میں نیکیاں اور عبادات کرے ، دن میں گناہوں سے محفوظ رہے اور رات کو شب بیداری کرے، اس کیلیے نبی ﷺ بہترین اسوہ اور نمونہ ہیں، آپ ﷺ (اس عشرے میں دیگر ایام سے بڑھ کر عبادات فرماتے) مسلم
اسی طرح: (جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو آپ ﷺ شب بیداری فرماتے، اپنے اہل خانہ کا جگاتے اور کمر کس لینے کے بعد خوب عبادات فرماتے) متفق علیہ
باقی ماندہ ان با برکت راتوں میں کثرت سے ذکر الہی اور تلاوت قرآن مستحب عمل ہے، چنانچہ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: "رمضان جیسے افضل اوقات بلکہ رمضان کی وہ راتیں جن میں لیلۃ القدر تلاش کی جاتی ہے ان اوقات کو غنیمت سمجھتے ہوئے تلاوت قرآن کرنا مستحب عمل ہے"
مسلمان کو اس رات میں مفید اور جامع ترین دعا کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: "اللہ کے رسول! اگر میں لیلۃ القدر پا لوں تو اس رات میں کیا کہوں؟ "تو آپ ﷺ نے فرمایا: (تم کہو: "اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ"[یا اللہ! بیشک توں معاف کرنے والا ہے، معافی پسند بھی کرتا ہے مجھے تو معاف فرما دے!]) احمد
اعتکاف درجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی کا بہترین ذریعہ ہے: (آپ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا) متفق علیہ
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: " مسلمانوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کرنا ہی چھوڑ دیا! حالانکہ نبی ﷺ جب سے مدینہ آئے اس وقت سے کبھی بھی اعتکاف ترک نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کی روح قبض فرما لی"
اعتکاف بیٹھنے والے افراد کو چاہیے کہ عبادت کیلیے یکسو ہو جائیں اور اپنے بنیادی ہدف کو سامنے رکھیں، اس کے علاوہ دیگر فضول باتیں اور سونا ترک کر دیں، نیز مسجد سے باہر انتہائی شدید ضرورت کی بنا پر ہی جائیں، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" اعتکاف کا مقصد اور اس کی اصل روح یہ ہے کہ دل کو صرف اللہ تعالی کی جانب متوجہ کر دیں، دل کا تعلق صرف اللہ تعالی کے ساتھ باقی رہے، دیگر مصروفیات سے کٹ کر صرف ایک اللہ سے لو لگا لیں کہ صرف ذکرِ الہی اور حب الہی سودائے قلب اور دل کی دھڑکن میں سما جائے"
مسلمان آخری عشرے میں لیلۃ القدر تلاش کرتے ہیں؛ کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر تلاش کرو) متفق علیہ
لیلۃ القدر ایک عظیم رات ہے اس رات کی عظمت اور شان کے بارے میں اللہ تعالی نے مکمل ایک سورت نازل کی اور فرمایا: {وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ} اور آپ کو کیا معلوم لیلۃ القدر [کی شان]کیا ہے؟ [القدر: 2] اللہ تعالی نے اس رات کو بابرکت اور خیر کثیر کی حامل رات قرار دیا اور فرمایا: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ} بیشک ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل کیا۔[الدخان: 3] اس رات کی برکت میں یہ بھی شامل ہے کہ اس میں قرآن مجید نازل ہوا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} بے شک ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا۔[القدر: 1]
اس رات میں فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں: {تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ} فرشتے اور روح [یعنی: جبریل] اس رات میں اپنے پروردگار کے حکم سے تمام امور لیکر اترتے ہیں۔[القدر: 4] ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس رات کی برکت کی وجہ سے اس رات میں فرشتوں کا نزول کثرت سے ہوتا ہے، برکت اور رحمت کے نزول کے ساتھ فرشتوں کا نزول ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کہ تلاوت قرآن کے وقت فرشتے اترتے ہیں ، جیسے ذکر الہی کے حلقوں کو گھیرے میں لینے کیلیے فرشتے اترتے ہیں، اور جیسے سچے طالب علم کی عزت افزائی کیلیے اس کے قدموں تلے اپنے پر بچھانے کیلیے فرشتے آتے ہیں"
یہ رات سلامتی، امن اور اطمینان والی ہوتی ہے: {سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ} طلوعِ فجر تک یہ رات سلامتی والی ہے۔[القدر: 5] یعنی ہر قسم کے شر سے پاک ہوتی ہے۔
اس رات کو عبادت کے ذریعے شب بیداری بہت بڑی سعادت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ}لیلۃ القدر ہزار ماہ سے بھی بہتر ہے۔ [القدر: 3]
اسی رات میں پورے سال کے صحیح تخمینے لگائے جاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (4) أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا} اس رات میں ہر حکمت بھرے معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے [4] یہ ہماری طرف سے حکم ہوتا ہے[الدخان: 4، 5]

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!
اعمال کا دارو مدار ان کے انجام پر ہوتا ہے، لہذا کسی بھی کام میں ابتدائی کمی کوتاہی معتبر نہیں ہوتی بلکہ کامل اختتام معتبر ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی گزشتہ دنوں میں کوتاہی کا شکار رہا ہے تو بقیہ دنوں میں کوتاہی سے توبہ کر لے ؛ کیونکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے نوازشیں جاری و ساری ہیں: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} اور تقوی الہی اپنانے والے کیلیے اللہ راستہ بنا دیتا ہے۔[الطلاق: 2]

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ} اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں قوت تمیز عطا کرے گا، تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے [الأنفال: 29]
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دعائے عجیب اور جہادِ اسلامی - حافظ یوسف سراج

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانو!
دنیا لمحوں اور دنوں کا نام ہے، یہی لمحے اور دن کتاب زندگی کے صفحات ہیں، اور انسانی کارکردگی ہی اصل انسانی زندگی ہے، لہذا سعادت مند وہی ہے جو اپنی زندگی کو حسن کارکردگی سے بھر پور رکھے، کامیاب وہی ہے جو اپنے لمحات کو بھلائی کیلیے غنیمت جانے اور ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔ اور وہ شخص خسارے میں ہے جو اپنے معاملات میں سستی کا مظاہرہ کرے ، جس کا دل غافل ہو اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلے۔

رمضان کی خیر و برکت سے محروم شخص ہی حقیقی محروم ہے اور بد بخت وہی ہے جو ماہ رمضان آنے کے بعد بھی بد بخت رہ جائے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اس شخص کا ستیاناس ہو جسے ماہ رمضان ملے اور اس کی بخشش سے پہلے رمضان چلا جائے) ترمذی
یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]
اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین: ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!
یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
یا اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو جہنم سے آزاد فرمائے گا، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما، اعتکاف بیٹھنے والے مرد و زن کی بخشش فرما، نیز ہمیں اور اعتکاف بیٹھنے والوں کو تمام خیر و بھلائی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔
یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ فرما۔
یا اللہ! تجھے تیری عزت کا واسطہ ہے! یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! مسلمانوں کے علاقوں کو امن و امان والا اور خوشحال بنا، یا ذو الجلال و الاکرام!
یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنی رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]
تم عظیم و جلیل اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   دعائے عجیب اور جہادِ اسلامی - حافظ یوسف سراج

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کیلیے کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں