رمضان المبارک کا آخری عشرہ – بشارت حمید

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوا ہی چاہتا ہے یہ وہ عشرہ ہے جس میں ہزار مہینوں سے افضل شب قدر بھی ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو یہ رات عطا فرمائے۔

اس بات سے قطع نظر کہ یہ رات کونسی طاق رات ہے عوام الناس کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ چاہے سارا سال جو مرضی گناہ کرتے رہیں بس یہ ایک رات جاگ لئے (چاہے سوائے جگ رتے کے کچھ حاصل بھی نہ ہو) تو بس کافی ہے۔

جان لینا چاہیے کہ اس رات میں صرف جاگنا مقصود نہیں ہے بلکہ پورے شعور کے ساتھ اللہ کی پہچان اور اس کے دربار میں حاضری کا تصور کرتے ہوئے اپنے گناہوں کو میموری میں ری کال کر کے ان کی معافی کی درخواست اور آئندہ کے لئے پکی توبہ اور اپنے آپ میں تبدیلی کے عزم (کہ آئندہ زندگی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق گذاریں گے) کا دلی ارادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ رات مل گئی۔

اسی طرح اس بابرکت رات میں زیادہ سے زیادہ دعا کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ دعا اللہ اور بندے کا آپس کے تعلق کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ حقیقی دعا وہ ہے جو بندے کے دل سے نکلے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی ہی وہ ہستی ہے جو مجھے سب کچھ عطا کر سکتی ہے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں اور اس نے کسی اور سے لے کر نہیں دینا بلکہ اپنی جناب سے عطا کرنا ہے۔ دعا میں بھی ہم دنیا کی آسائیشوں کو ہی مدنظر رکھتے ہیں حالانکہ اصل مانگنے کی چیز آخرت میں مغفرت اور اللہ کی خوشنودی ہے۔

معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ ہمارے ہاں اب اجتماعی سطح پر مساجد میں شب بیداریوں کا جو سلسلہ پچھلے کچھ سالوں سے چل نکلا ہے وہ شب بیداری کا مطلوب نہیں ہے کہ اس میں اب عبادت کی بجائے کچھ اور ہی کام شروع کر دئیے گئے ہیں ۔ شب بیداری سراسر انفرادی اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر کرنے والا عمل ہے۔ اس لئے کوشش یہ کی جائے کہ طاق راتیں اردگرد میں منعقد ہونے والی اجتماعی محافل کی بجائے انفرادی سطح پر اپنا جائزہ لیتے ہوئے گزاری جائیں۔ اللہ تعالٰی ہمیں اپنا قرب حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری عبادات کو قبول فرمائے کہ اس کی بارگاہ میں اگر قبولیت نہ ہوئی تو ہم برباد ہو جائیں گے۔

Comments

FB Login Required

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

Protected by WP Anti Spam