”اکرام رمضان“، نئے عذر اور تصور دین کا مسئلہ – محمد زاہد صدیق مغل

روزہ رکھنے کی مشکلات میں اضافہ کرنے والے کچھ پہلو وہ ہیں جو ”ہر فرد“ کی قدرت سے باہر ہیں (مثلا کسی مرض میں مبتلا ہوجانا) اور کچھ کا کسی بیرونی مجبوری سے لاحق ہونا ہے۔ ان بیرونی مجبوریوں میں سے کچھ ایسی ہیں جو فرد کو کسی لازمی ضرورت کے تحت لاحق ہوسکتی ہے (مثلا کسی مجبوری یا ضرورت کے تحت سفر کی ضرورت لاحق ہونا، نہ کہ مثلا پہاڑی علاقوں کی سیر کو جانے کے لیے ”مسافر“ بن جانا) جبکہ کچھ کا تعلق افراد کے معاشرتی و ادارتی روابط و تشکیل سے ہوتا ہے۔ اگر شرعی احکامات (خصوصا فرائض) پر عمل درآمد کے لیے اس ادارتی صف بندی کی ترتیب کو بدلنا ضروری ہو اور ساتھ ہی ساتھ یہ ممکن بھی ہو، تو ایسے حالات میں شرع کا “اصل تقاضا” اس معاشرتی صف بندی کو بدلنا ہوتا ہے نہ کہ موجودہ ادارتی صف بندی سے نکلنے والے نئے نئے عذر کے تناظر میں شرعی احکامات و فرائض تک کو معطل و ترک کردینے کی رخصتوں کی لسٹ میں اضافہ کرتے چلے جانا۔

یہ جسے ”اکرام رمضان“ کہتے ہیں تو اس کا اصل تناظر یہی ہے کہ مسلمان ”بحیثیت مجموعی“ رمضان کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ بہت سے ”مسائل“ (یعنی ”عذر کی لسٹ“) کا تعلق اس ”اکرام رمضان“ سے بھی ہے، مثلا کام کے اوقات میں کمی کردینا (جس کی حدیث میں ترغیب دی گئی ہے)، زیادہ مشقت والے کاموں کو پلاننگ کے تحت دیگر ایام پر منتقل کردینا، مسلمانوں کا ایک دوسرے کا اس لحاظ سے خیال رکھنا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے لہذا تھوڑا کام بھی چلے گا وغیرہ۔ الغرض اکرام رمضان کا مقصد ایک ایسی بیرونی فضا کا قیام ہوتا ہے جس میں لوگوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب و آسانی میسر آئے۔

اب یہ جو ”نئے ذہن والے“ لوگ آگئے ہیں انہیں اولا یہ ”اکرام رمضان“ نامی چیز ہی سمجھ نہیں آتی، یہ اسی کے ناقد ہیں، ان کے خیال میں سب کچھ (معاشرتی صف بندی) جیسا ہے اسے ویسے ہی جاری رکھو اور روزہ تو بس ایک انفرادی فعل ہے، اللہ اللہ خیر سلا۔ ایک قانونی طور پر اسلامی ریاست میں بیٹھ کر یہ کہنے کے بجائے کہ ریاست شہریوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لیے سہولت فراہم کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے، یہ الٹا امتحان کی تیاری کی ”کیٹیگری“ بطور عذر متعارف کروا دینے پر سارا زور صرف کئے ہوئے ہیں۔ اگر بالفرض ”نوجوان کے لیے“ امتحان کی تیاری کچھ ایسی ہی مشکل ہے (جس پر تحفظات اپنی جگہ کیونکہ یہ تیاری رات کو بھی ممکن ہے) تو ریاست سے اس تقاضے کی آواز کیوں نہیں بلند ہوتی کہ مسلمان ریاست کو چاہیے کہ طلبہ کو رمضان میں امتحان کی مشقت میں نہ ڈالے بلکہ انکی آسانی کی خاطر امتحانات کو کچھ آگے پیچھے کرلے؟ بجائے اتنے لاکھوں طلبہ کے لیے روزہ رکھنے کی فیسیلٹی مانگنے کے یہ اسے ترک کرنے کے عذر کی فیسیلیٹی پر متوجہ ہیں، کیوں؟

اس کی بنیادی وجہ وہ غلط تصور دین ہے جو انہیں سکھا دیا گیا ہے کہ قیام دین کے لیے کسی اجتماعی صف بندی کی اولا تو کوئی ضرورت ہی نہیں (کیونکہ ان کے تصور دین میں اس کا کوئی ادراک ہی نہیں) اور اگر بالفرض ہے بھی تو اس کے لئے کسی قسم کی جدوجہد کرنا کوئی دینی تقاضا نہیں۔ آپ ادارتی صف بندی تبدیل کرنے کی بات نہیں کریں گے تو آئے روز نئی نئی کیٹیگریز (کھیل کود، شاپنگ) میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور ایسے ”تصور دین“ سے برآمد ہونے والا دین انہیں ”اکاموڈیٹ“ کرنے کے اجتہادات کرتے کرتے پسپائی کی راہوں پر چلتا ہوا ایک دن معدوم ہو کر چند فارغ البال (ویہلے) قسم کے لوگوں کا مسئلہ رہ جائے گا۔

”روزہ رکھنا“ یقینا ایک انفرادی فرض ہے مگر ”روزہ رکھنے کی صلاحیت“ محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی نظم پر بھی منحصر ہے اور اس کے تناظر میں بعض صورتوں میں گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ اس صلاحیت کو قائم رکھنے کے لئے اس اجتماعی صف بندی کی تطہیر بھی لازم ہے، بصورت دیگر روزہ رکھنے کی یہ صلاحیت بدستور کم اور عذر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جو معاشرتی صف بندی مثلا روزے جیسے ”فرض“ کو بطور مقصد قبول کیے بغیر تعمیر کی گئی ہو وہ روزہ رکھنے کی صلاحیت قطعا قائم نہیں رکھ سکتی۔ شرعی احکامات کے قیام کے لئے اسی چیز کو ”ادارتی صف بندی کا قیام“ کہتے ہیں جو ان احکامات ہی کی طرح لازم ہے۔ ایک غلط تصور دین کے تناظر میں جو لوگ اس صف بندی کی تعمیر کا انکار کرتے ہیں، وہ درحقیقت بالواسطہ طور پر ان احکامات ہی کا انکار رہے ہوتے ہیں جن کی ادائیگی کی صلاحیت اس صف بندی سے مشروط ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ دین کا مخاطب فرد ہے مگر فرد خلا میں نہیں لازما معاشرتی و ریاستی تعلقات میں بستا ہے۔

Comments

FB Login Required

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

Protected by WP Anti Spam