اضطرار کا عذر یا خالی چیک؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اضطرار کے قاعدے کے تحت اگرچہ بعض شرعی احکام سے بعض صورتوں میں وقتی انحراف کی گنجائش نکل سکتی ہے لیکن اس قاعدے کے تحت ہر شرعی حکم کو معطل نہیں کیا جاسکتا اور اس قاعدے کی اپنی شرائط اور قیود ہیں جن کی بہر حال پابندی کرنا لازم ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ یہ حالتِ اضطرار یا حالتِ ضرورت ہے کیا؟

اضطرار کیا ہے؟
امام جصاص کہتے ہیں: ”ضرورت سے مراد یہ ہے کہ نہ کھانے کی صورت میں جان یا کسی عضو کو خطرہ لاحق ہو۔ پس جب اس نے اتنی مقدار میں کھالیا کہ فی الحال وہ خوف زائل ہوگیا تو ضرورت بھی زائل ہوگئی۔ اس میں بھوک مٹانے کو نہیں دیکھا جائے گا کیونکہ بھوک ابتدا میں مردار کھانے کو جائز نہیں کرتی جب تک اس کے نہ کھانے پر ضرر کا خوف نہ ہو۔“
اس قانونی پوزیشن کو فقہاء دو قواعد عامہ کے ذریعے تعبیر کرتے ہیں:
الضرورات تبیح المحظورات: ضرورت ناجائز کاموں کو جائز کردیتی ہے۔
الضرورات تقدر بقدرھا: ضرورت کو اس کی مقررہ حدود کے اندر رکھا جاتا ہے۔
چونکہ اضطرار کی حالت میں مردار کی حرمت مرتفع ہوئی ہوتی ہے اور حالتِ اضطرار میں گھرے ہوئے شخص کے لیے مردار کے کھانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہوتا، اس لیے اگر اس مردار کو نہ کھایا اور اس کی موت واقع ہوئی، تو وہ خود کشی کا مرتکب ہوگا اور گنہگار ہوگا۔
یہ حکم صرف قدرتی آفت کی صورت میں ہی نہیں بلکہ اکراہ کی صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ البتہ اگر کسی مؤمن کو قتل کی دھمکی دے کر اسے کلمۂ کفر بولنے پر مجبور کیا جائے تو اسے کلمۂ کفر بولنے کی اجازت تو مل جاتی ہے لیکن کلمۂ کفر کی حرمت بدستور برقرار رہتی ہے۔ اس لیے اگر اس نے کلمۂ کفر نہیں کہا اور اسے قتل کردیا گیا تو اسے خودکشی کا مرتکب نہیں کہا جائے گا، بلکہ وہ شہید ہوگا اور اجر کا مستحق ہوگا۔
امام جصاص آگے ذکر کرتے ہیں کہ بعض حرام کام ایسے ہوتے ہیں جو اضطرار کی حالت میں بھی جائز نہیں ہوتے:
”فقہاء نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی کے قتل یا کسی عورت کے ساتھ زنا پر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کاموں کا ارتکاب کرے کیونکہ یہ انسانوں کے حقوق ہیں اور بحیثیت انسان یہ مجبور شخص اور جس کے ساتھ اسے زیادتی پر مجبور کیا جارہا ہے، برابر ہیں۔ پس اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے بغیر حق کے وہ کسی دوسرے کو قتل کردے۔ اسی طرح کسی عورت کے ساتھ زنا کرنے میں اس کی بے حرمتی ہوتی ہے اور اس کو رسوا کیا جاتا ہے جس کو ضرورت بھی جائز نہیں کرسکتی۔“

اس بحث کا خلاصہ امام جصاص آخر میں یہ نکالتے ہیں کہ حرام کاموں کی تین قسمیں ہیں:
1۔ بعض حرام کاموں کی حرمت حالت اضطرار و اکراہ میں رفع ہوجاتی ہے اور اس وجہ سے ان کا ارتکاب واجب ہوجاتا ہے، جیسے مردار کا کھانا؛
2۔ بعض حرام کاموں کی حرمت حالت اضطرار و اکراہ میں رفع نہیں ہوتی، نہ ہی اس کے ارتکاب کی رخصت ہوتی ہے، جیسے قتلِ ناحق یا زنا؛
3۔ بعض حرام کاموں کی حرمت حالت اضطرار و اکراہ میں رفع نہیں ہوتی لیکن ان کے ارتکاب کی رخصت مل جاتی ہے، اگر چہ ان کا ترک افضل ہوتا ہے، جیسے کلمۂ کفر کا کہنا۔
واضح رہے کہ بعض صورتوں میں حرام کے ارتکاب کی اجازت تو مل جاتی ہے مگر حرام کی حرمت برقرار رہتی ہے اور بعض صورتوں میں حرمت ہی مرتفع ہوجاتی ہے۔ یہاں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ رخصت اور عزیمت کے متعلق امام سرخسی کی تحقیق کے اہم نکات پیش کیے جائیں۔

عزیمت اور رخصت کی بحث
امام سرخسی عزیمت کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”شرعی احکام میں عزیمت اسے کہتے ہیں جو ابتدا میں کسی عارض کے بغیر اصلاً مشروع ہوا ہو۔ ” پھر رخصت کی تعریف وہ یوں کرتے ہیں: “رخصت وہ کام ہے جس کی بنا بندوں کے کسی عذر پر ہو اور جو عذر کی وجہ سے جائز ہوجاتا ہے ، باوجود اس کے کہ اسے حرام کرنے والی دلیل قائم ہوتی ہے۔ پھر چونکہ بندوں کے عذروں میں تفاوت ہوتی ہے اسی لیے رخصت کا حکم بھی مختلف لوگوں اور حالات کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ ” اس کے بعد وہ رخصت کی قسموں کا ذکر کرتے ہیں: “رخصت کی دو بڑی قسمیں ہیں: حقیقی رخصت اور مجازی رخصت۔ پھر حقیقی رخصت کی دو قسمیں ہیں جن میں ایک دوسرے کی بہ نسبت رخصت کہلانے کی زیادہ مستحق ہے۔ اسی طرح مجازی رخصت کی بھی دو قسمیں ہیں جن میں ایک کا مجاز ہونا دوسرے کی بہ نسبت زیادہ واضح ہے۔ ”

پہلی قسم کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں:
”جہاں تک پہلی نوع کا تعلق ہے تو یہ وہ کام ہے جو جائز کر دیا جاتا ہے باوجود اس کے کہ حرمت کا سبب بھی قائم ہوتا ہے اور اس کا قانونی اثر بھی۔ پس یہ کامل رخصت ہے کہ حرمت کے سبب اور اس کے قانونی اثر کی موجودگی کے باوجود بندے کے کسی عذر کی بنا پر جواز مل جاتا ہے۔“
اس کی تشریح میں وہ کلمۂ کفر کہنے کے علاوہ ایک اور اہم مثال پیش کرتے ہیں: ”اسی طرح اضطرار میں گھرے ہوئے شخص کے لیے موت کے خوف کی حالت میں کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا جائز ہوجاتا ہے۔ یہ رخصت حرمت کے سبب اور اس کے قانونی اثر، جو مالک کا حق ہے، کے باوجود ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے حق کا لحاظ رکھتے ہوئے لازم ہوتا ہے کہ اس کے نقصان کی تلافی کی جائے۔“

یہی حکم اکراہ کی صورت میں کسی کا مال تلف کردینے کے متعلق بھی ہے۔ کئی اور مثالیں ذکر کرنے کے بعد وہ اس رخصت کی قانونی پوزیشن ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
”ان سب صورتوں میں حکم ایک ہی ہے: وہ اپنے آپ سے ہلاکت دور کرنے کے لیے رخصت پر عمل کرسکتا ہے کیونکہ اسے اس کی اجازت ہوتی ہے جو شریعت نے اس کی آسانی کے لیے دی ہے۔ تاہم اگر وہ اس سے باز رہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اس باز رہنے کی وجہ سے اگر اس کی موت واقع ہو تو وہ خود کشی کا مرتکب نہیں ہوگا بلکہ اصل شرعی حکم (عزیمت) پر عمل کرکے اجر کا مستحق ہوگا۔“

اس کے بعد وہ دوسری قسم کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”دوسری قسم یہ ہے کہ کام تو جائز ہوجاتا ہے باوجود اس کے کہ حرمت کا سبب قائم ہوتا ہے مگر اس کا قانونی اثر مؤخر ہوجاتا ہے۔ پس قانونی اثر پیدا کرنے والے سبب کے قائم ہونے کی وجہ سے یہ جواز عذر رکھنے والے شخص کے لیے رخصت کا درجہ رکھتا ہے، اور قانونی اثر کے اپنے سبب سے مؤخر ہونے کی بنا پر یہ رخصت کی یہ قسم پہلی قسم سے ہلکی ہوتی ہے۔“
اس کی مثال میں وہ مسافر اور مریض کے لیے رمضان کے روزے نہ رکھنے کی رخصت کا ذکر کرتے ہیں۔ ”پس روزے کی فرضیت کا سبب، یعنی رمضان کے مہینے کا پانا، موجود ہے۔ اسی لیے اگر مسافر اور مریض نے روزہ رکھا تو فرض روزہ ہی ادا ہوگا (نہ کہ نفلی یا کوئی اور واجب روزہ) لیکن چونکہ اس سبب کا قانونی اثر رمضان کے بعد دیگر دنوں کے شمار تک مؤخر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ رمضان کے ختم ہونے سے پہلے فوت ہوجائیں تو ان پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔ اگر سفر یا مرض کے باوجود وجوب ان پر ثابت ہوتا (سبب کا قانونی اثر قائم ہوتا) تو ان پر فدیہ ادا کرنا لازم ہوتا کیونکہ عذر کے سبب سے واجب کے ترک کرنے پر گناہ تو مرفوع ہوجاتا ہے مگر اس واجب کا بدل، یعنی قضاء یا فدیہ، ساقط نہیں ہوتا۔ (اگر کوئی یہ کہے کہ قانونی اثر کے مؤخر ہونے کی صورت میں کا روزہ ادا کرنا صحیح کیسے ہوسکتا ہے تو) جب سبب پورا ہوجائے تو چاہے اس کا قانونی اثر مؤخر ہو اس کی ادائیگی میں تعجیل صحیح ہوتی ہے جیسے دین مؤجل کی ادائیگی اجل کے پورا ہونے سے پہلے بھی صحیح ہوتی ہے۔“

یہاں امام سرخسی یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کہ اس صورت میں رخصت پر عمل افضل ہے یا عزیمت پر؟ وہ واضح کرتے ہیں کہ چونکہ روزے کا حکم مؤخر ہوچکا ہے لیکن سبب قائم ہے اس لیے روزہ رکھنا افضل ہے کیونکہ روزہ چھوڑنے والا گویا اپنے لیے اسے چھوڑ رہا ہے اور روزہ رکھنے والا اللہ کے لیے اسے رکھ رہا ہے۔ پس اگرچہ روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے لیکن رکھنا افضل ہوا۔ اب ایک جانب روزہ رکھنے میں مشقت ہے لیکن چونکہ سبھی روزے سے ہیں اس لیے ایک نوع کی آسانی بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف روزہ بعد میں رکھنے میں اس کے لیے آسانی ہوگی مگر ایک نوع کی مشکل بھی ہوگی کیونکہ باقی لوگ کھائیں پئیں گے اور یہ تنہا روزہ رکھے گا۔ یہاں سے بحث کا رخ اس بات کی طرف مڑجاتا ہے جو ہمارے موضوع زیر بحث سے براہ راست متعلق ہے:
”پس جب دونوں صورتوں میں اس کے لیے تخفیف ہے تو اس کی آسانی کے لیے اسے دونوں صورتوں میں کسی کو بھی اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ پھر جب روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں تعارض واقع ہوا تو روزہ رکھنے کو ترجیح حاصل ہوگئی کیونکہ اس طرح وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے لیے عمل کرتا ہے، سوائے اس حالت کے جب اسے روزہ رکھنے کی صورت میں ہلاکت کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اس پر روزہ نہ رکھنا لازم ہوگا کیونکہ اگر روزہ رکھنے کی صورت میں اس کی موت واقع ہوئی تو گویا وہ روزے کی وجہ سے قتل ہوا، اور چونکہ روزہ رکھنا اس کا فعل ہے اس لیے وہ خود کشی کا مرتکب ہوگا، اور انسان پر لازم ہے کہ خود کشی سے گریز کرے۔ اس کے برعکس اگر کسی ظالم نے اسے روزہ توڑنے پر مجبور کرنا چاہا اور اس کے روزہ نہ توڑنے پر اسے قتل کیا تو یہاں قتل اس ظالم کے فعل کی طرف منسوب ہوگا، جبکہ روزہ توڑنے سے گریز کرکے وہ عبادت پر دوام کرتا ہے اور اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں جان دیتا ہے جو کہ مجاہدین کا کام ہے۔“

اس کے بعد وہ ان رخصتوں کا ذکر کرتے ہیں جن کو مجازاً رخصت کہا جاتا ہے اور جو حقیقتاً رخصت نہیں ہیں۔ ان میں ایک قسم وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی شریعت میں بہت سے ان احکام کو منسوخ کردیا گیا جو پچھلی امتوں کو دیے گئے تھے اور یوں انسانیت کو اضافی بوجھ سے نجات دلائی گئی۔
”پس یہ نوع حقیقت میں ہمارے حق میں مشروع ہی نہیں ہے، ہمارے کسی عذر کی بنا پر نہیں بلکہ ہماری آسانی اور تخفیف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا۔ پس نام کے لحاظ سے یہ مجازاً رخصت ہے گو کہ حقیقت میں رخصت نہیں ہے کیونکہ منسوخ ہونے اور اٹھائے جانے کی وجہ سے حرمت کا سبب اور اس کا قانونی اثر ہمارے حق میں قائم ہی نہیں، جبکہ حقیقت میں رخصت اسے کہا جاتا ہے جو حرمت کے سبب کا قائم ہونے کے باوجود جائز ہو۔“

ایسی رخصتوں پر عمل واجب ہے۔ اس نوع کی دوسری قسم میں وہ ان رخصتوں کا ذکر کرتے ہیں جو ایک لحاظ سے حقیقت اور ایک دوسرے لحاظ سے مجاز ہیں۔
”چوتھی قسم وہ ہے جو بندوں کی آسانی کے لیے حرمت کے سبب سے خارج ہونے کی بنا پر جائز کردی جاتی ہے باوجود اس کے اس سبب کا قانونی اثر فی الجملہ باقی رہتا ہے۔ پس قانونی اثر کے سبب کے معدوم ہونے کی وجہ سے یہ قسم تیسری قسم سے مشابہ ہے اور مجاز ہے، جبکہ سبب کے فی الجملہ قائم ہونے کی بنا پر یہ دوسری قسم کی مشابہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ بندوں کے عذر کی بنا پر رخصت دی جائے۔ پس اس میں ایک لحاظ سے رخصت کا مفہوم حقیقی ہے اور ایک لحاظ سے مجازی۔“

اس نوع کی مثالوں میں وہ بیع سلم کا ذکر کرتے ہیں۔ بیع کی صحت کی عمومی شرائط میں ایک مبیع کا عین ہونا ہے۔ تاہم یہ شرط بیع سلم کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس میں عینیت بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ اسی طرح وہ مسح علی الخفین کا ذکر کرتے ہیں:
”اسی طرح موزوں پر مسح کا حکم آسانی خاطر دی جانے والی رخصت ہے جس کی بنیاد یہ قانونی مفروضہ ہے کہ جب پیروں کو موزوں سے چھپالیا گیا تو وہ موزے حدث کو پیروں تک نہیں پہنچنے دیتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ موزوں پر مسح سے پیروں کے دھونے کے حکم پر عمل ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ شرائط رکھی گئی ہیں کہ موزے اس حالت میں پہنے جائیں کہ پیر پاک ہوں، پہلا حدث اس وقت طاری ہو جب اس نے کامل طہارت کے بعد موزے پہن لیے ہوں، اور اگر اس نے مسح کے بعد موزہ اتار لیا تو اس پر دونوں پیروں کا دھونا واجب ہوتا ہے۔“

اسی آخری نوع میں وہ موت کے خوف کی بنا پر مردار کھانے یا شراب پینے کا ذکر کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ اگر اس نے مردار کھا کر یا شراب پی کر اپنی جان بچانے سے گریز کیا اور اس کی موت واقع ہوئی تو وہ گنہگار ہوگا۔ اس کی تفصیل اوپر امام جصاص کے حوالے سے گزر چکی ہے۔

رخصت اور عزیمت کے متعلق امام سرخسی کی اس تحقیق سے یہ بات قطعی طور پر واضح ہوگئی کہ بعض لوگوں کی جانب سے ہر ناجائز کام کو ضرورت اور مجبوری کے نام پر جائز قرار دیے جانے کا عمل باطل ہے اور شرعی نصوص اور احکام سے بے خبری اور عدم واقفیت کی دلیل ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بعض ناجائز کاموں کا ارتکاب اضطرار اور اکراہ کی صورت میں جائز ہوجاتا ہے اور عزیمت پر عمل ناجائز ہوجاتا ہے۔ تاہم بعض ناجائز کام ایسے ہیں جن کا ارتکاب اضطرار اور اکراہ کی صورت میں جائز تو ہوجاتا ہے لیکن عزیمت پر عمل پھر بھی افضل رہتا ہے۔ اسی طرح بعض ناجائز کام کا ارتکاب اضطرار اور اکراہ کی صورت میں بھی جائز نہیں ہوتا۔

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

Protected by WP Anti Spam