اپنے بچوں پر نظر رکھیں - اعجاز سالار

آج کے اس تخیّلاتی دور میں کون کیا کر رہا ہے؟ کسی کو نہیں معلوم۔ بظاہر تو ہم فیس بک پر ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور اندازہ لگاتے ہیں کہ کس کی کیا سرگرمیاں ہیں، لیکن فیس بک کے پروفائل کے پیچھے کون ہے، یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم جو کچھ لائک کرتے ہیں یا جو کچھ شیئر کرتے ہیں اس سے ہماری ذہنیت کا کسی کو بھی علم ہو سکتا ہے۔ حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی کچھ بھی کر سکتا ہے، کسی بھی گروپ میں جانے سے پہلے کم از کم یہ تسلی ضرور کرنی چاہیے کہ اس گروپ کا ایڈمن کون ہے اور اس کا کیا مقصد ہے؟

اس معاملے میں اپنے بچوں کی بھی خوب نگرانی کرنی چاہیے۔ بچوں کے فیس بک اکاؤنٹ چیک کرنا اور ان کی ذہنیت کو جان کر دو فوائد لئے جا سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مثبت ذہنیت ہو تو ان کو وہ ماحول مہیا کیا جاسکتا ہے جن سے وہ آگے بڑھ سکیں اور دوسری بات یہ کہ ان کو مختلف طریقوں سے تحفظ بھی دیا جا سکتا ہے۔ یعنی خطرہ محسوس کر کے بچے کو بر وقت اپنے ساۓ میں رکھا جا سکتا ہے۔

آج کل ہم بچوں کو جتنا کنٹرول میں لانے کی کوشش ہونی چاہیے، ہم اتنے ہی ان سے بے پروا ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں زور دیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں میں مقبول ہونے والا سوشل میڈیا پرتشدد ذہنیت اور احساس کمتری کے پھیلنے کی وجہ بن رہا ہے۔

لہٰذا تمام والدین سے عرض ہے کہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نہ صرف نظر رکھیں بلکہ ان کو اپنی پسند کے مطابق عملی زندگی میں بھی مواقع فراہم کریں اور اجتماعی زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کریں، ان کی مثبت رہنمائی کریں۔ تبھی ہی ہمارا مستقبل ہماری اپنی سوچ کے مطابق ہوگا اور تب ہی یہ مملکت خداداد پاکستان آگے بڑھے گی۔