جی ہاں،اب سحر ٹوٹنے لگا ہے! مولانا اسرار الحق قاسمی

بی جے پی نے اقتدار میں آنے کے لئے ملک کے عوام سے جو بے شمارخوشنما وعدے کئے تھے انہیں پورا کرنا آسمان سے تارے توڑ کر ہتھیلیوں پر سجا دینے کے وعدے کی طرح ناممکن نہیں تھا۔صالح حکمرانی،پختہ عزم ، مسلسل کوشش اور خلوص نیت کے ذریعہ ان میں سے بیشتر وعدے پورے کئے جا سکتے تھے لیکن 2014کے پارلیمانی انتخابات میں امید سے بڑی کامیابی نے بی جے پی رہنمائوں میں بردباری اور احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے بجائے شاید انہیں اس یقین میں مبتلا کردیا کہ ان کو جو اقتدار حاصل ہوا ہے وہ عارضی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے اور وہ جو چاہیں سو کریں ،انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کے بعد یو پی کی جیت نے انکی اس خام خیالی کو دو گنا کردیا۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی شاید اس احساس میں بھی مبتلا ہو گئی کہ وہ ملک میں پہلی بار ہندوئوں کی حکومت قائم کررہی ہے اور وہ ایسے تمام کام کرے گی جس سے ہندو دھرم کا فروغ ہو۔چنانچہ کبھی گیتا کو قومی کتاب، تو کبھی گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے ہوتے رہے۔یوگی آدتیہ ناتھ جب صرف ممبر پارلیمنٹ تھے توانہوں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ وزیر اعظم مودی کے دربار میں حاضر ہوکر گیتا کو قومی کتاب قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔خود وزیر اعظم بیرون ملکوں کے دورے پر جاتے تو اپنے ہم منصبوں کو تحفہ میں گیتا پیش کرتے ہیں۔ ایک موقع پر تو حکومتی وزیر سشما سوراج نے یہاں تک کہ دیا کہ مودی جی نے گیتا کو قومی کتاب کا درجہ تو دے ہی دیا ہے اب صرف اس کا اعلان کیا جانا باقی ہے۔اسی طرح گائے کو قومی جانور بنانے سے متعلق بی جے پی رہنمائوں کی مسلسل بیان بازیوں نے عدلیہ کے کچھ جاہ پسند جج صاحبان تک کے ذہنوں کو پراگندہ کردیا ہے۔ مختلف سطح کے لیڈروں کی جانب سے ملک کو ہندو راشٹر قرار دینے کا بھی بار بارمطالبہ ہوتا رہاہے۔ اور اب تو اتر پردیش کے ایک وزیر سوریہ پرتاپ شاہی نے یہ عجیب و غریب دعوی کیا ہے کہ کہ ہندوستان تاریخی اور ثقافتی وراثت کے اعتبار سے زمانہ قدیم سے ہندو راشٹر تو ہے ہی ، اسلئے اسے ہندو راشٹر قرار دینے کا مطالبہ غیر ضروری ہے۔

بی جے پی کے ساتھ ساتھ کچھ اپوزیشن جماعتوں تک کو شاید یہ گمان ہونے لگا کہ بی جے پی کی فتوحات کا سلسلہ اب رکنے والا نہیں ہے۔چنانچہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے اتر پردیش میں بی جے پی کی کامیابی سے متاثر ہوکر بہت ہی سادگی سے یہ بیان دے ڈالاتھاکہ ملک بھر میں اپوزیشن کے پاس کوئی ایسا رہنما نہیں جو مودی کا مقابلہ کرسکے، یہ مودی کی لہر نہیں سونامی ہے، اپوزیشن کو 2019کے پرلیمانی انتخابات بھول کر 2024کے الیکشن کی تیاری کرنی چاہئے۔ لیکن وقت حسب معمول اپنی رفتار سے چلتا رہا، دوسری طرف بی جے پی حکومت اقتدار کے نشہ میں بدمست ہوکر ملک و قوم کے لئے فلاح و ترقی کے کام کرنے کے بجائے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کے آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کرتی رہی اور اس خوش گمانی میں رہی کہ مودی جیسے قد آور اور مقبول و مضبوط عوامی قائد سے سوال پوچھنے کی ہمت آخر کون کرے گا۔
اپوزیشن کے حوصلے تو پست تھے ہی، میڈیا کے بیشتر اداروںکو اشتہارات،قیمت دیکریا ڈرا دھمکاکر خرید لیا گیا۔ یا جنہوں نے قیمت نہیں لی، انہیں اپنی اس جسارت اور حوصلہ کی قیمت خود چکانی پڑرہی ہے۔این ڈی ٹی وی کے خلاف سی بی آئی کی کارروائی آخر اور کیا ظاہر کرتی ہے؟ چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی حکومت نے گزشتہ ہفتہ ہی ہندی کے پانچ موقر روزناموں کو کانگریس پارٹی کا دو صفحات کا اشتہار شائع کرنے سے روک دیا۔ ظاہر ہیکہ وہ حکومتی دبائو کے آگے سرنگوں ہوکر کانگریس کا اشتہار شائع کردیتے تو انہیں عتاب جھیلنا پڑتا۔عام تاثر یہی ہیکہ اکثر ٹیلی ویزن چینل ، اخبارات و رسائل پر وزیر اعظم کا غلبہ ہے ۔ بی جے پی کے ہی ناراض لیڈرارون شوری جو انڈیا ایکسپریس کے سابق مدیر اعلی ہیں،آج یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مودی پورے میڈیا پراپنا مکمل غلبہ اور کنٹرول چاہتے ہیں۔عالمی میڈیا پر نظر رکھنے والے ادارے ورلڈ پریس فریڈم نے اپنی ایل حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہندوستام میں میڈیا والوں کو ہندو قوم پرستوں کی دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے اور صحافتی آزادی کے معاملے میں 180ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام 136 واں ہے۔ اس وقت ملک میں ہندو قوم پرستوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیںہے۔
بہر حال جو بھی بچاکھچا میڈیا ہے، اب سوال کر رہا ہے، حکومت سے اس کے وعدوں کی روشنی میں حساب مانگ رہا ہے۔ ایک دو سال نہیں پورے تین سال گزر گئے۔ آخران تین برسوں میں کیا کچھ حاصل کر لیا گیا ہے؟عوام پر بھی مودی میجک کا اثر کم ہو رہا ہے، سحر رفتہ رفتہ ٹوٹ رہا ہے۔وہ بھی وعدوں پر کب تک جئیں گے۔ اب جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کالا دھن جسے 100 دنوں کے اندربیرون ملکوں سے واپس لانے کا وعدہ کیا گیا تھا، تین سال گزرنے کے بعد بھی کیوں نہیں لایا جا سکا ہے؟ مہنگائی بھی کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے جسے حکومت ہاتھ میں آتے ہی چھو منتر کردینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اوپر سے ٹیکسوں کے بوجھ سے عام لوگوں کی کمر ٹوٹتی جارہی ہے۔جی ایس ٹی ملک کے عوام کو حکومت کا نیا تحفہ ہے۔ لیکن بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی خود کہ رہے ہیں کہ موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے جی ایس ٹی نافذ کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہ دیا کہ ابھی جی ایس ٹی لاگو کیا گیا تو یہ حکومت کے لئے واٹر لو ثابت ہوگا۔
مودی نے اقتدار میں آنے کی صورت میں ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ تھا۔یہ وعدہ بھی تکمیل کے کسی مرحلے سے نہیں گزرا ہے۔بلکہ وعدے کے برعکس مہنگائی کی طرح ہی بیروزگاری میں بھی اضافہ ہی ہوا ہے۔نوٹ بندی کا یکلخت اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا اس کی تکلیف صرف 50 دنوں تک جھیلنی ہوگی،اسکے بعد اس قدم کے بے شمار فوائد عام لوگوں کو ملیں گے۔ لیکن یہ یقین دہانی بھی کھوکھلی ثابت ہوئی اور نتیجہ وہ سامنے آیا جسکی پیشگوئی اسی وقت منموہن سنگھ نے کردی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ڈی جی پی میں تین فیصد کی گراوٹ آجائیگی اور چھوٹی صنعتیں متاثر ہوں گی۔ ہم سب واقف ہیں کہ نوٹ بندی کے نتیجے میں چھوٹے اور غیر منظم سیکٹر کے روزگار بری طرح متاثر ہوئے اور ابھی خود حکومت کے وزیر مالیات ارون جیٹلی نے جی ڈی پی میں گراوٹ یعنی معیشت میں کمزوری کا اعتراف کیا ۔
حکومت کی حصولیابی شاید یہی ہیکہ اس نے ملک کے بیشتر طبقات کو پریشان کررکھا ہے۔ اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں پر تو مختلف بہانوں سے ظلم و ستم کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ہی کیونکہ ہندو راشٹر کے نفاذ میںحکومت کو سب سے زیادہ مخالفت انہیں طبقات کی جانب سے جھیلنی پڑ سکتی ہے۔جئے جوان اور جئے کسان کا نعرہ بھی محض نمائشی بن کر رہ گیا ہے۔ مودی جی سرحد پر جوانوں کی شہادت روکنے میں ناکام ہیں اور کسانوں کے حالات تو یہ ہیں کہ انہیں انکے جائز مطالبات کے بدلے گولیاں مل رہی ہیں۔ صرف معدودے چند امیر کبیر لوگوں اور گھرانوں کا مزید پھلنا پھولنا اس بات کی قطعی غمازی نہیں کرتا کہ دیش آگے بڑھ رہا ہے۔
گائے، گائے کے گوبر اور گائے کے پیشاب کی خوبیوں کو منوانے کی کوششوں میں الجھے بی جے پی اور حکومت کے ارباب حل و عقد نے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی عقل پر دبیز پردہ ڈال رکھا ہے۔ ان الجھاووں میں الجھ کر جو لوگ انکے ہمنوا بن گئے تھے، آخر کب تک وہ حقائق سے آنکھیں پھیرے رہیں گے۔ اچھے دنوں کی ضرورت سب کو ہے اور وہ محض ہندوتوا کی سیاست کرکے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے۔ تین سال تو ضائع ہو گئے ۔ حکومت کی آنکھیں کب کھلیں گی، کہنا مشکل ہے۔ہاں یہ ضرور ہو رہا ہیکہ اسکے وعدوں کے سحر سے عوام الناس نے اپنی آنکھیں جو موند رکھی تھیں، وہ اب رفتہ رفتہ کھلنے لگی ہیں۔ پورے ملک کے کسان پریشان ہیں اور مرکزسمیت بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں،الٹاظلم یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں احتجاج کرنے والے کسانوں پر گولی چلوادی گئی جس میں کئی لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔کرناٹک سے کسانوں کی جوتحریک شروع ہوئی تھی،وہ دھیرے دھیرے مہاراشٹر،مدھیہ پردیش ہوتے ہوئے اب چھتیس گڑھ کابھی رخ کرنے والی ہے اور بی جے پی جو کسانوں کا قرض معاف کرنے اور ان کوسہولیات فراہم کرنے کے نام پر اقتدار میں آئی تھی اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔یہ تمام حالات یقیناً بی جے پی اور اس کے طریقۂ حکمرانی پر سوالات کھڑے کرتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد مودی حکومت پر سے تیزی سے اٹھتاجارہاہے۔