پیش تو پھر ہونا پڑتا ہے محمدعامرخاکوانی

معاملات دلچسپ صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جے آئی ٹی نے جناب وزیراعظم کو بھی تفتیش کے لیے بلوا لیا۔ مسلم لیگ ن کی صفوں میں کہرام مچا ہے۔ ہر روز شام کو لیگی رہنماؤں کا ایک ٹولہ سرخ آنکھوں، چمکتے دانتوں اور کٹیلے تیوروں کے ساتھ ٹی وی کیمروں کے سامنے نمودار ہوکر کف اڑاتے ہوئے عدلیہ اور جے آئی ٹی پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ن لیگ کی حکمت عملی تین نکات کے گرد گھوم رہی ہے۔ جے آئی ٹی پر سخت اور تند وتیز حملے کیے جائیں تاکہ اس کا امیج تباہ ہوجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ پر تنقید جاری رکھی جائے اور میاں نواز شریف کے خلاف کیسز کو سیاستدانوں کے خلاف چلی آنے والی مہم کا حصہ ثابت کیا جائے، تیسرا نکتہ میاں صاحب کو عظیم جمہوری روایات کا پیکر ثابت کرنا ہے۔ یہ سب تگ ودو اسی ایجنڈے کے لیے ہو رہی ہے۔ اس میں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ تیزی، تندی اور جارحیت آ رہی ہے۔ ایک بات کی داد البتہ دینا پڑے گی کہ مسلم لیگی تھنک ٹینک بڑے منظم انداز میں پلاننگ کر کے اسے عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ ان کی محنت، ہوشیاری اور ڈسپلن کو سراہنا ہی پڑے گا۔ ہر روز ایک نئے زاویے سے لائن لی جاتی ہے۔ ایک دو لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں، اس میں بھی چہرے بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی دانیال عزیز، طلال چودھری، کبھی وزیرا طلاعات مریم اورنگ زیب خود زحمت فرما لیتی ہیں۔ پریس کانفرنس کی ذمہ داری کبھی مشاہد اللہ خان کو سونپی جاتی ہے تواگلے روز کوئی اور مسلم لیگی رہنما یہ فرض نبھاتا ہے۔ یہی لائن دو تین مختلف اخبارات کے کالم نگاروں کے کالم میں ملتی ہے تو بعض ٹاک شوز کے پس پردہ بھی یہی سوچی سمجھی حکمت عملی کارفرما نظر آتی ہے۔

سوال مگر یہ ہے کہ اس سب پروپیگنڈے اور شورشرابا کرنے، گرد اڑانے سے کیا حقیقت نظروں سے اوجھل ہوجائے گی؟ ہرگز نہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ڈس انفارمیشن کے ان حربوں سے آخر قوم کو کب تک باربار بے وقوف بنایا جا سکے گا؟ مسلم لیگ ن کے منصوبہ سازوں کے فرسودہ طریقے اور ازکار رفتہ فارمولے آخر اپنا اثر کھو بیٹھے ہیں۔

اب میاں نواز شریف کا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ سپریم کورٹ کا پانامہ ایشو پر فیصلہ آیا تو حکمران خاندان نے جشن منایا۔ مسلم لیگی کارکنوں کو خطرہ تھا کہ کہیں وزیراعظم کو نااہل نہ کر دیا جائے، جب ایسا نہ ہوا تو شہر شہر مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ اس اکثریتی فیصلے میں واضح تھا کہ میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے معاملات کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم یعنی جے آئی ٹی بنائی جائے گی۔ جے آئی ٹی نے ظاہر ہے اس فیصلے کے بعد بننا تھا اور اس کے سامنے متعلقہ شخصیات نے پیش ہونا ہی تھا۔ وزیراعظم تو مرکزی شخصیت ہیں، وہ کیسے بچ سکتے تھے؟ جے آئی ٹی کی تشکیل کومسلسل متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ ایس ای سی پی جو ایک ریاستی ادارہ ہے، اس کے سربراہ نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو لپیٹ میں لینے کی کوشش کی۔ سٹارپلس کے ڈراموں جیسی ایک بھونڈی کہانی بنائی گئی کہ رجسٹرار نے واٹس ایپ پر بات کی، یعنی یہ تاثر دیا گیا کہ کوئی پراسرار معاملہ تھا، جس کے لیے واٹس ایپ پر دانستہ بات کی گئی، تاکہ وہ ریکارڈ نہ ہو۔ عمران خان کے کئی الزامات اب تک غلط ثابت ہوچکے ہیں، وہ اکثر سوچے سمجھے بغیر بیان داغ دیتے ہیں، جن میں سے بہت سے باؤنس ہوجاتے ہیں، یہ بات مگر عمران خان کی مکمل طور پر درست ثابت ہوئی ہے کہ میاں نواز شریف کو وزیراعظم کے منصب سے ہٹائے بغیر آزادانہ تحقیقات ہونا ممکن نہیں۔ واقعی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ریاستی اداروں کے سربراہ جن کی حمایت اور ہمدردی ریاست کے ساتھ ہونی چاہیے، وہ گویا حکومتی ملازمین اور شریف خاندان کے ذاتی ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب اسی واٹس ایپ والے معاملے میں ان صاحب نے رجسٹرار کو لکھا جانے والا خط رپورٹر کو پکڑا دیا۔ اس فسانے سے بعد میں کچھ نہ نکلا۔ سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ نے صاف کہہ دیا کہ ہاں! ہم نے خود کہا تھا کہ ان لوگوں کو جے آئی ٹی میں شامل کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے شائد حکومت کو مزید شرمندہ ہونے سے بچانے کے لیے وجہ بیان نہیں کی۔ ورنہ وہ بھی واضح تھی کہ جے آئی ٹی میں کچھ تو وہ لوگ ہوں جو مضبوط اور حکومت کے دباؤ کا مقابلہ کر سکیں، وائٹ کالر کرائم کے جو ایکسپرٹ ہوں اور جن کی وجہ سے جے آئی ٹی کی کریڈیبلٹی بن سکے۔ ایک حلقہ یہ الزام لگا رہا ہے کہ آئی بی کو جے آئی ٹی میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ یہ بات بے تکی ہے، جے آئی ٹی میں پہلے ہی نیب، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف آئی اے کے نمائندے شامل ہیں، یہ چاروں سویلین ادارے ہیں اور ان پر حکومت کی گرفت بڑی مضبوط ہے، دو عسکری ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہی اس لیے کیے گئے تاکہ کچھ چیک رہ سکے اور اپوزیشن کو بھی اطمینان ہو ۔ ایف آئی اے کی جگہ آئی بی شامل ہوسکتی تھی، مگر ایف آئی اے کا دائرہ کار بنتا تھا، اس لیے اسے شامل کیا گیا۔

جے آئی ٹی کی تحقیقات کو بھی متنازع بنانے کی مسلسل کوشش جاری ہے۔ حسین نواز پیش ہوئے تو خبریں لگوائیں کہ چھ گھنٹے، سات گھنٹے تفتیش ہوتی رہی۔ خبر چلی کہ شوگر لیول لو ہوگیا ہے، ایمبولینس پہنچ گئی۔ اگلے روز سے مسلم لیگ ن کے رہنما مسلسل اس پر شور مچاتے رہے کہ آخر ایمبولینس کیوں منگوائی گئی، جبکہ حسین نواز کی طبیعت تو اتنی خراب نہیں ہوئی تھی۔ رانا ثنا اللہ شعلہ بار بیانات دیتے رہے۔ تین چار دن بعد آخر وفاقی وزیر طارق فضل چودھری کو ماننا پڑا کہ ایمبولینس انہوں نے خود بھیجی تھی۔ خود بھیجی تھی تو پھر یہ ڈرامہ بازی کیوں، احتجاج کس بات کا؟ اسی طرح لیک ہونے والی تصویر کا معاملہ ہے۔ یہ تصویر چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ اسے حکومتی سپن ڈاکٹرز نے لیک کرایا ہے۔ اس کا واحد مقصد جے آئی ٹی کو متنازع بنانا اور مسلم لیگ ن کو پروپیگنڈے کے لئے موقعہ فراہم کرنا تھا۔ یہ کام بخوبی احسن طریقے سے ہوگیا۔ ایک ہفتہ اس پر صف ماتم بچھی رہی ہے۔

لیک ہونے والی تصویر سے حسین نواز کو پیکر غم ثابت کیا گیا۔ حسین نوازکو لگتا ہے سیاست میں لانچ کیا جا رہا ہے۔ مخصوص انداز میں وہ واسکٹ پہن کر، ہاتھ لہراتے، کارکنوں کی نعروں کا جواب دیتے آتے ہیں۔ رپورٹروں سے گفتگو، تمتماتا چہرہ، انقلابی فقرے۔ جن لوگوں نے دونوں بھائیوں، حسین نواز، حسن نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کا منظر دیکھا، وہ اتفاق کرے گا کہ حسن نواز کو لو پروفائل رکھا گیا، جبکہ حسین کو خاص انداز میں کوریج دلائی گئی۔ لگتا ہے کہ مریم بی بی کے ساتھ بڑے صاحبزادے کو بھی کسی نوعیت کا کردار سونپنے پر غور ہو رہا ہے۔ ممکن ہے لاہور کے کسی محفوظ حلقے سے اس بار حسین نواز بھی امیدوار ہوں۔ جے آئی ٹی پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے طارق شفیع پر وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ دنیا بھر میں تفتیشی ادارے ملزم کو توڑنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ ایک روایتی طریقہ تو چھترول کا ہے، جس کے ذریعے پکے مجرم بھی مان جاتے ہیں۔ مہذب طریقے سے تفتیش ہو تو پھر نفسیاتی طریقے ہی استعمال کیے جائیں گے۔ اگر یہ بھی قبول نہیں تو کھل کر کہہ دیں کہ اسلام آباد کے کسی فائیو سٹار ہوٹل کی ہائی ٹی میں وزیراعظم کے صاحبزادوں کو مدعو کر کے ان کی خوب خاطر تواضع کی جائے اور پھر ساتھ کھڑے ہو کر سیلفی بنوا لی جائے۔ اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہوجائے۔ مسلم لیگ ن کے لوگ اتنے بھولے بھی نہیں کہ ان سادہ باتوں کو نہ سمجھیں۔جب نیت ہی سمجھنے کی نہ ہو پھر ایسے ہی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔

آج کل مسلم لیگی رہنما میاں نواز شریف کے پیش ہونے کے معاملے کو گلوریفائی کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کو تاریخ ساز شخصیات ثابت کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، قصیدے رقم ہو رہے ہیں کہ میاں صاحب انوکھی مثال قائم کر رہے ہیں۔ یہ سب مبالغہ آمیز بیکار باتیں ہیں۔ میاں صاحب کوئی تاریخ ساز کام کرنے جا رہے ہیں نہ ہی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے کسی کا قد بلند ہوجائے گا۔ پانامہ جیسے معاملات میں ملوث ہوں گے، منی لانڈرنگ کے الزامات لگیں گے، قومی خزانہ لوٹے جانے کا ایشو اٹھے گا تو پھر جے آئی ٹی بھی ہوگی اور اس کے سامنے پیش بھی ہونا پڑے گا۔ اس میں بھیا کیسی عظمت، کہاں کے گیت اور بھجن؟ یہ تو شرمندہ ہونے، سرجھکانے، نظریں نیچی کرنے اور عبرت پکڑنے کا مقام ہے۔

Comments

FB Login Required

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

Protected by WP Anti Spam