مریم جمیلہ: حیات و فکر کا تعارف - مجتبی فاروق

انیسویں اور بیسویں صدی مغرب کے اسلام کو گلے لگا نے کے لحاظ سے لوگوں کے لیے (بالخصوص امریکہ، آسٹر یلیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور نیوزی لینڈ کے لیے) بڑی خوش گوار اور تاریخی ثابت ہوئی ہے۔ ان میں کچھ لوگوں نے روحانی پیاس بجھانے کے لیے ذاتی طور سے اسلام کو پڑھنے، سمجھنے اور پھر دل میں اتارنے کی سعی مشکور کی۔ اور کچھ لوگوں کے لیے اسلام کے آفاتی پیغام رحمت کو قبول کرنے میں داعیان اسلام کی دعوت و تبلیغ وجہ تحریک بنی۔ بیسویں صدی میں جہاں اسلام کی آغوش رحمت میں مغرب اور یورپ کے متلاشیانِ حق آئے وہیں بڑے بڑے مفکرینِ، دانشوران اور اسکالرز نے اسلام ہی میں دین و دنیا کی عافیت سمجھی۔ ان مفکرین میں ہنگری سے ڈاکٹر عبدالکریم، لندن سے محمد پکتھال، جرمنی سے محمد اسد اور مراد ہاف مین، فرانس سے روجے گاڑے، جمیکا سے ڈاکٹر بلال فلپس، امریکہ سے یوسف اسلام، مالک شہباز اور مریم جمیلہ قابلِ ذِکر ہیں۔ سطور ذیل میں ان میں سے صرف مریم جمیلہ کی حیات و فکر کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

مریم جمیلہ وہ خوش بخت خاتون ہیں جنھوں نے نہ صرف یہودیت کو چھوڑ کر اسلام کی آغوش رحمت میں پناہ لی بلکہ اسلام کی خاطر کفرستان سے پاکستان ہجرت بھی کی. اتنا ہی نہیں بلکہ مغربی فکر و تہذیب کا بے لاگ اور بے باک تنقیدی جائزہ لے کر اس کی خرابیوں کو منظرعام پر لانے کی قابل قدر کوشش کی۔ علاوہ بریں محکم دلائل اور پوری قوت سے اسلام کا بھرپور دفاع کیا۔ وہ صرف گفتار کی غازی نہ تھیں بلکہ عمل کی خوگر بھی تھیں۔ انھوں نے جونہی اسلام قبول کیا، فوراً ہی اس کے فکر و تہذیب کے سانچے میں ڈھل گئیں۔

قبل از اسلام حالاتِ زندگی
مریم جمیلہ کا پرانا نام مارگریٹ مارکوس تھا۔ ان کی ولادت امریکی ریاست نیویارک کے مضافاتی خوشحال شہر نیو روشلا (New Rochhalle) میں 23 مئی 1934ء میں ہوئی، آوریسٹ چیسٹر (Westchester) میں پرورش پائی۔ والد کا نام ہربرٹ مارکوس سڈنی ہے جو جرمنی کے یہودی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ مارکس مارگریٹ کے آباؤاجداد جرمنی میں چار نسلوں سے سکونت پذیر تھے۔ ان کے پردادا نے 1848ء - 1861ء کے درمیان اقتصادی خوشحالی کے مواقع کی تلاش میں امریکہ کی طرف نقل مکانی کی۔ (1)

مارگریٹ مارکوس کے والدین جرمنی کے یہودی النسل ہونے کے باوجود برائے نام یہودی تھے۔ بالفاظ دیگر راسخ العقیدہ یہودی نہیں تھے۔ بلکہ اسکولر پسند (Non-observent) تھے۔ وہ اگرچہ یہودیت پر عمل پیرا نہیں تھے لیکن اس کے باوجود اخلاقی حدود کے پابند تھے، انھوں نے دراصل امریکہ میں سکونت پذیر ہونے کی وجہ سے فکر و عمل اور طرز حیات کے لحاظ سے ہو بہو روایتی امریکیوں کی طر ح بود و باش اختیار کر لی۔ بقول خود مارگریٹ مارکوس ــ’’میں ایک کٹر مذہبی گھرانے میں نہیں بلکہ اصلاح یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئی، جو سچے معاشرے میں بڑی حد تک جذب ہو چکا تھا۔ میر ے والدین یہودی شریعت پر عمل کرتے تھے نہ میرے قریبی رشتہ دار‘‘۔ (2)

مارگریٹ مارکوس کے والدین نے پہلے یہودیت سے رسمی تعلق منقطع کیا، پھر وہ ایک انسان دوست تنظیم (Ethical Cultural Sociaty)میں شامل ہوگئیں لیکن جلد ہی اس تنظیم سے بےاطمینانی کا شکار ہو کر آخرکار ذات باری تعالی کی وحدانیت کی قائل ہو کر (Unitarian Church) میں شمولیت اختیار کر لی۔ (3)

مارگریٹ مارکوس بچپن ہی سے متلاشی ذہنیت، سنجیدہ اور حساس واقع ہوئی تھیں۔ بچپن ہی سے موسیقی سے بے حد لگاؤ تھا اور اسکول میں موسیقی کے مضمون میں دیگر مضامین کے مقابلے میں زیادہ نمبر حاصل کرتی تھیں۔ وہ موسیقی کو اس وقت مغربی تہذیب کے لیے نیک شگون سمجھتی تھیں۔ نیز بچپن میں وہ عربی موسیقی بھی سُنا کرتی تھیں۔ دس سال کی عمر میں مارگریٹ نے مذہب میں دلچسپی لینا شروع کی، جب یہودی اصلاح یافتہ اسکول میں داخلہ لیا تو وہاں یہودیوں اور عر بوں کی باہمی قرابت کے تاریخی رشتے سے مانوس ہوئیں۔ اس سلسلے میں اپنے ایک انٹرویو میں وہ کہتی ہیں کہ ’’میں یہودیوں اور عربوں کے درمیان تاریخی قربت سے مسحور ہوئی، یہودی کتابوں میں، میں نے پڑھا تھا کہ ابراہیم ؑان دونوں قوموں کے باپ ہیں. میں نے یہ بھی جانا کہ صدیوں بعد یورپ میں ستم رانی نے کیسے زندگیوں کو ناقابل برداشت بنایا۔ یہودیوں کا مسلم اسپین میں پرتپاک استقبال کیا گیا. یہ اسلامی تہذیب کی اعلیٰ ظرفی ہے جس نے عبرانی تہذیب کے عروج کے حصول میں مہمیز کا کام کیا‘‘۔ (4)

مارگریٹ مارکوس اسکول میں (مینڈے اسکول) پہلے پہل یہودیت کے اصل چہرے سے بالکل نا آشنا تھیں۔ کم عمری اور سادہ لوحی کی وجہ سے وہ یہ سمجھ رہی تھیں کہ یہودی فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اپنے تاریخی رشتے کو بحال کرنے کی طرف لوٹ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے مشرق وسطی میں اعلی تہذیب کے حصول کے لیے کام کریں گے لیکن عملاً ایسا ہو نہیں پایا۔ مارگریٹ یہودیت کے سیاہ چہرے سے آشنا ہوئیں اور انھیں یہ جان کر بڑا دکھ ہوا کہ قوم یہود اقوام عالم میں سب سے زیادہ مفاد پرست اور خود غرض قوم ہے۔ مارگریٹ نے دس سال کی عمر میں عربی تہذیب اور عرب میں یہودیوں کے درمیان تاریخی رشتے کے متعلق کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ انھوں نے مذکورہ موضوعات پر جو کتابیں پڑھیں، وہ سب عیسائی مشنری، مستشرقین اور یہودیت کے خیالات کے متعلق پائیں جن میں اسلام کے خلاف زوردار پروپیگنڈہ اور مغالطہ پر مبنی مطالعہ جمع کیا گیا ہے۔
مارگریٹ مارکوس اس حوالے سے رقمطراز ہیں کہ:
’’عربوں کی تاریخ اور تہذیب و ثقافت سے متعلق بپلک لائبریریوں میں جس قدر کتابیں ملیں، میں نے پڑھ ڈالیں۔ اکثر مضامین کا لب و لہجہ بڑی حد تک معاندانہ تھا۔ ان کتابوں کے مطالعے سے مجھے یقین ہوگیا کہ عربوں کے خلاف یہودیوں کا پروپیگنڈا یکسر ناانصافی پر مبنی ہے‘‘۔ (5)

اس دوران وہ یہودیت کی کارستانیوں سے بد دل ہوگئیں، اور مسلمانوں کی صورتحال خاص کر فلسطینی مسلمانوں کی حالت ِزار پر بہت ملول ہوئیں، جس کے لیے انہوں نے صرف 12 سال کی عمر میں ’’احمد خلیل‘‘ کے نام سے ایک ناول لکھا۔ اس ناول میں انھوں نے فلسطین سے بے دخل کیے گئے ایک مظلوم لڑ کے کی کہانی بیان کی ہے۔ مارگریٹ مارکوس نے 15 سال کی عمر میں گریجویشن مکمل کیا۔گریجویشن کی تکمیل کے بعد 1953ء میں نیویارک یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ 1952ء میں صیہونیت کے جوانوں پر مشتمل تحریک ’’مسزرا کی ہت زیر‘‘ کی رکن بنیں، لیکن فوراً صیہونیت کا گھناؤنا چہرہ آشکارا ہوگیا۔ اس تحریک نے یہودیوں اور عربوں کی ہم آہنگی اور موافقت میں کشیدگی پیدا کی چنانچہ اسے فوراً چھوڑ دیا۔ نیویارک یونیورسٹی میں حصول تعلیم کے دوران ایک مضمون ’’اسلام میں یہودیت‘‘ کا انتخاب کیا۔ پروفیسر ابراہیم اسحق کاٹش جو وہاں عبرانی تعلیمات کے شعبہ کے سربراہ تھے، ان کی چند باتوں سے مارگریٹ مارکوس متاثر ہوئیں، وہ ان کی باتیں اپنے ایک انٹرویو میں اس طر ح نقل کرتی ہیں: ’’ہمیں آخرت کے دن خُدا کی بارگاہ میں ضرور پیش ہونا ہے۔ اپنی زندگی کے تمام اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی، صرف وہی لوگ اپنی ذات پر قابو رکھیں گے جو اخروی انعام کے حصول کے لیے عارضی خوشیوں کو قربان اور مصائب کو برداشت کریں گے۔‘‘ (6) دوسری طرف یہی پروفیسر موصوف اسلام کو یہودیت سے ماخوذ مذہب قرار دینے میں تمام صلاحیتیں صرف کرتے تھے۔ مارگریٹ مارکوس اس کے درس و تدریس کے منہج اور استدلال کے متعلق یوں اظہار خیال کرتی ہیں:
Our text books written by him took each verse from the Quraan painstakingly tracing it to its allegedly jewish source. Although his real aim was to prove to his students the superiorty of judaism over islam, he convinced me diametrically of the opposit.(7)
ہماری نصابی کتابیں، جو ان کی لکھی ہوئی تھیں، وہ قرآن کی ہر آیت کا ماخذ یہودیت کو قرار دیتے تھے۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد اپنے شاگردوں کے سامنے یہودیت کو اسلام سے برتر مذہب ثابت کرنا تھا۔ اس نے مجھے متضاد طریقے سے یا برعکس سمت میں اسلام کی طرف مائل کیا۔

بعد ازاں وہ دل سے یہودی نہ رہیں، اگرچہ لوگ ان کو یہودی تصور کرتے تھے۔ وہ حق کی تلاش میں مسلسل سرگرداں رہیں، مذاہب عالم کے مطالعہ اور ان کے حسن و قبح پر غور و فکر کرنے کے ساتھ باریک بینی سے ان کا جائزہ بھی لیتی رہیں۔ والدین کی طرف سے بھی انہیں حوصلہ افزائی کا خوشگوار ماحول میسر آیا۔ 1953ء میں وہ سخت بیماری میں مبتلا ہوئیں، یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ ان کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ زندگی کے آخری لمحات گزار رہی ہیں، اس وقت وہ شدید تناؤ اور مایوسی کے عالم میں تھیں اور ان کا ذہن مضطرب، متزلزل اور بے چین تھا۔ راہ حق کی تلاش میں یہ عظیم مجاہدہ یہودیت، عیسائیت اور بہائیت کی مذہبی کتابوں کو کھنگال چکی تھیں اور مذہب کے پیشواؤں سے بھی مسلسل رابطہ میں رہتی تھیں، لیکن مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوتا تھا. وہ اس اضطراری اور تذبذب کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
I was simply adrip to see not knowing what to do next or where to go ? Neither reformed judaism,orthodox judaism, ethical culture or bhai consoled me in my plight. (8)
’’مجھے لگ رہا تھا کہ میں سمندر میں تیر رہی ہوں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں اور کہاں جاؤں، میری حالت زار پر نہ ہی اصلاح یافتہ یہودیت، بنیاد پرست یہودیت اور نہ ہی اتھیکل کلچر اور بہائیت نے کوئی تسکین اور دلاسہ دیا‘‘۔

تلاش حق کا سفر
اس دوران مارگریٹ مارکوس نے یہودیت کے علاوہ مذاہب کو توجہ کا مرکز و محور بنایا، بالخصوص اسلام کو سمجھنے کے لیے بھرپور توجہ دی، بیماری میں مبتلا رہنے کی وجہ سے انھیں کچھ وقت کے لیے تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ ایک دن ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ میں پبلک لائبریری جارہی ہوں، اگر کوئی کتاب منگوانی ہو تو بتاؤ۔ انھوں نے اپنی والدہ سے قرآن کا نسخہ لانے کو کہا۔ ایک گھنٹہ بعد ایک عیسائی عالم اور مبلغ جارج سیل (George sale) کا ترجمہ قرآن ان کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے ترجمہ محرفانہ انداز اور عیسائی نقطہ نظر سے کیا تھا۔ اس میں فرسودہ زبان استعمال کی گئی ہے جسے پڑ ھ کر وہ کچھ نہ سمجھ سکیں۔

تلاش حق کے دوران ایک دن ایک دکان پر انھیں محمد پکتھال کا ترجمہ قرآن ملا، جس کے دیباچہ اور متن کو پڑھ کر وہ بےحد متاثر ہوئیں۔ وحی الہی سے انھیں حقیقی آگاہی ہوئی۔ محمد پکتھال (1936-1875) عالم اسلام کے ایک مایہ ناز سپوت اور درخشاں ستارے کی حیثیت سے دنیا بھر میں معروف ہیں، انھوں نے 1917ء میں اسلام قبول کیا۔ ان کا ترجمہ قرآن 1930ء میں The meaning of the Glorious Quraan کے نام سے بیک وقت لندن اور امر یکہ میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر عبد الرحیم قدوائی کے مطا بق 2002ء تک اس کے 150سے زائد ایڈیشن مغربی ممالک اور برصغیر میں شائع ہوئے تھے، جن سے اب تک لاکھوں کروڑوں لوگوں نے استفادہ کیا ہے۔ (9) مارگریٹ مارکوس ان میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے دوسرے تراجم قرآن کا بھی مطالعہ کیا جن میں عبد اللہ یوسف علی اور مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے تراجم قابل ذکر ہیں۔ عبدالماجد دریا آبادی کے ترجمہ قرآن سے وہ بےحد متاثر ہوئیں کیونکہ اس کا لہجہ اور زبان خوبصورت ہے، انھوں نے اس ترجمہ و تفسیر سے خوب استفادہ کیا بالخصوص ان حصوں سے جو تقابل ادیان کے موضوع پر ہیں۔ عبد اللہ یوسف علی کی تفسیر کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ قرآن مجید کی معذرت خواہانہ تشریح ہے۔ ہسپتال میں زیرعلاج انھوں نے پکتھال کے ترجمہ سے خوب استفادہ کیا۔ اپنی ذہنی الجھنوں کو سلجھاتی رہیں. دھیرے دھیرے اسلام کی حقانیت اور اس کے پیغام رحمت کی عالم گیریت ان پر واضح اور منقح ہوتی چلی گئی. اس دوران ان کو مشہور نومسلم اسکالر اور مفسر قرآن محمد اسد (1900-1992) کی کتاب (The Road to Mecca) کے مطالعہ کا موقع ملا جس میں انھوں نے اپنے قبول اسلام کی روداد دلچسپ اور عمدہ پیرائے میں بیان کی ہے اور اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے پُر زور دلائل دیے ہیں۔ مذکورہ کتاب سے وہ کافی متاثر ہوئیں، اور اسلام کی صداقت و حقانیت اور حقیقی تصویر ان کے دل و ماغ پر مرتسم ہوگئی۔ بقول پروفیسر جان ایسپوزیٹو اور جان وول ’’دو یہودی مفکرین نے مارگریٹ مارکوس کے مشرف بہ اسلام ہونے میں انتہائی اہم رول ادا کیا، ایک محمد اسد جو قابل احترام مسلم مفکر اور مسلم حکومتوں کے مشیر رہے ہیں۔ ان کی کتاب (The Road to Mecca) مارگریٹ مارکوس کے اسلام قبول کرنے کی راہ میں بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوئی، اسی طرح ابراہیم اسحٰق کاٹش کا مضمون ’اسلام میں یہودیت‘ جو وہ نیویارک یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ اس مضمون سے مارگریٹ مارکوس یہودیت سے متاثر ہونے کے بجائے اسلام کی طرف مائل ہوگئیں۔‘‘ (10) لیکن نومسلم دانشور اور مترجم قرآن محمد پکتھال کے ترجمہ قرآن نے بھی مارگریٹ مارکوس کے اسلام کی قبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ محمد پکتھال کا ترجمہ قرآن تھا جس نے مارگریٹ مارکوس کو اسلام کی حقیقی روح سے قریب کیا۔

مارگریٹ مارکوس 1957ء میں شدید نفسیاتی عارضہ (Schizophrenio) میں مبتلا ہوئیں، جس میں خیالات، جذبات اور افعال کا باہمی ربط بگڑ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے انھیں دو سال تک ہسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔ اس سخت آزمائش کے باوجود اس اللہ کی بندی نے تلاش حق کی خاطر جستجو اور مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1959ء میں ہسپتال سے چھٹی ملی۔ اس کے بعد وہ نیویارک کی پبلک لائبریری میں اسلام کا مطالعہ کرنے جاتی تھیں، وہیں پر چار جلدوں پر مشتمل مشکوٰۃ المصابیح کا انگریزی ترجمہ از مولوی الحاج فضل الرحمن (کلکتہ)، مارگریٹ کی نظروں سے گزرا، انھوں نے اس کا بڑی گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا. بقول مارگریٹ مارکوس ’’مجھے پتہ تھا کہ قرآن کو مفصل انداز میں سمجھنے کے لیے احادیث کا مطالعہ بہت ضروری ہے کیونکہ یہی قرآن کی سب سے عمدہ اور اولین تفسیر ہے‘‘۔ مشکوٰۃ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’’قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے اور یہ بھی کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے نہ کہ محمد ؐ کا کلام۔ اس نے میری زندگی کے ان تمام سوالوں کا جواب فراہم کر دیا جن کا جواب مجھے کہیں اور نہیں مل سکا تھا۔ (11)

اسلام کو مزید سمجھنے کے لیے انھوں نے مستند اور معتبر مسلم اہلِ علم سے بھی مراسلت کی، جن میں اسلامی فقہ اور قانون کے ماہر مصنف ڈاکٹر حمید اللہ پیرس، اسلامک سنٹر واشنگٹن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حب اللہ، الجزائر علماء کونسل کے سرخیل شیخ محمود بشیر ابراہیمی، الازہر کے ڈاکٹر محمد الیلی، شام کے ڈاکٹر معروف دوابی اور الاخوان المسلمون کے ڈاکٹر سعید رمضان قابلِ ذکر ہیں۔ (12)

سید مودودی سے تعارف
اس دوران مارگریٹ نے 1960ء میں کنتھ مارگن کی ایڈٹ کی ہوئی کتاب ’Islam the straght path‘ میں مظہرالدین صدیقی (پاکستان) کا ایک مقالہ پڑھا جس میں سید مودودی کا تذکرہ تھا۔ مظہرالدین صدیقی بعد میں جدیدیت پسند اسکالر بن گئے لیکن مارگر یٹ مارکوس کے سید مودودی سے رابطہ کرنے کا ذریعہ بنے۔ پھر اتفاق سے 1960ء کے اوائل میں ڈربن سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’The Muslim Dygest‘ میں مولانا مودودی کا ایک مضمون بعنوان ’’زندگی بعد موت‘‘ (life after death) پڑھا۔ مذکورہ مضمون کو پڑھ کر مارگریٹ مارکوس اتنی متاثر ہوئیں کہ انھوں نے اسی وقت مذکورہ ڈائجسٹ کے مدیر کو خط لکھ کر سید مودودی کا پتہ دریافت کیا۔ ڈائجسٹ کے مدیر نے انھیں سید مودودی کا پتہ بھج دیا۔ یہاں سے مارگریٹ مارکوس کا سید مودودی سے خط و کتابت کا ایک طو یل سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ (13) مارگریٹ نے پہلے خط میں اپنا تعارف پیش کرنے کے ساتھ جدیدیت پسند دانشوروں کی کارستانیوں کا بھی تذکرہ کیا۔ اس خط سے پہلے مارگریٹ 6 اعلی پائے کے مضامین لکھ چکی تھیں جو مسلم ڈائجسٹ اور اسلامک ریویو میں شائع ہو چکے تھے۔ انھوں نے یہ مضامین بھی سید مودودی کو خط کے ساتھ ارسال کر دیے۔

سید مودودی کے جواب سے مارگریٹ مارکوس کا حوصلہ اور بڑھا اور خط و کتابت کا یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ سید مودودی نے خط کے جواب میں یہ بھی لکھا کہ جب میں آپ کے مضامین پڑھ رہا تھا تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا میں اپنی تحریر پڑھ رہا ہوں۔ (14) یوں تو محترمہ نے کلمہ شہادت پڑھنے کا مصمم ارادہ اسپتال میں علاج کے دوران ہی کر لیا تھا لیکن اس ارادہ کی تکمیل کے لیے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھیں۔ بالآخر وہ وقت آگیا جب عالم اسلام کی اس عظیم داعیہ اور مفکرہ نے دین فطرت کو اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنانے کا اعلان مغربی دنیا کی شہہ رگ امر یکہ میں کر دیا۔ انھوں نے 24 مئی1961ء میں (عید الاضحی کے روز) 27 برس کی عمر میں بروکلین نیویارک کے اسلامی مشن کے ڈائریکٹر شیخ داؤد احمد صیقل سے کلمہ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور مریم جمیلہ نام پسند کیا۔ مریم جمیلہ نے سید مودودی کو پہلے جو چار خطوط لکھے، وہ مارگریٹ مارکوس کے نام سے تھے، اب پانچواں خط مریم جمیلہ کے نام سے بھیجا جس پر سید مودودی بہت خوش ہوئے اور ان کے لیے استقامت کی دعا کی۔ مریم جمیلہ قبول اسلام کے متعلق کہتی ہیں کہ میں نے اسلام اپنے آباؤ اجداد کی میراث اور قوم سے نفرت کی بنیاد پر قبول نہیں کیا، میری خواہش کے پیچھے رد کرنا نہیں بلکہ تکمیل کا جذبہ کارفرما تھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ:
:To me it meant a transformation for moribond and parocial to a dynamic and revotionary faith content with nothing less than universal supermacy.(15)
میں نے قریب المرگ اور محدود مذہب کو چھوڑ کر ایک ایسے متحرک، آفاقی اور انقلابی مذہب کو اختیار کیا جو عالمگیر اقتدار اعلیٰ سے کمتر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا۔

ہجرت پاکستان
سید مودودی سے مریم جمیلہ کی مراسلت دسمبر 1961ء سے شروع ہو کر 7 اپر یل 1962ء کو اختتام پذیر ہوئی۔ سید مودودی نے انہیں امریکہ سے ہجرت کرکے پاکستان آنے کی دعوت دی اور ہر ممکن طریقے سے تعاون دینے کا وعدہ فر مایا۔ اس دعوت کو مریم جمیلہ نے فورا قبول کیا، اور 18مئی 1962ء کو نیویارک سے ایک بحری جہاز سے روانہ ہو کر 26 جون 1962ء کو کرا چی کی بندرگاہ پر پہنچیں جہاں جماعت اسلامی کے ارکان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ان کو اپنے یہاں مہمان رکھا۔ جون کے اواخر میں لاہور میں میاں طفیل محمد صاحب نے استقبالیہ دیا۔ اور انہیں سید مودودی کے گھر پہنچا دیا گیا۔ سیدمودودی اپنی علمی اور تنظیمی کاموں میں بےحد مصروفیات کے باعث خود نہ آ سکے۔ سید مودودی نے انہیں اپنے گھر میں ایک بیٹی اور فیملی ممبر کی حیثیت سے ٹھہرایا، ہجرت سے متعلق مر یم جمیلہ کا احساس ہے کہ ’’امریکہ جس کا مستقبل بہت ہی بھیانک ہے، جہاں مجھ جیسے انسان کے لیے کوئی جگہ نہیں، اس طبقے میں وہاں سے ہجرت کر کے پاکستان آئی۔ اگرچہ پا کستان دوسرے مسلم ممالک کی طرح یورپ اور امریکہ کی تہذیبی آلودگیوں میں ڈوبا رہا ہے، پھر بھی مناسب تعداد میں پاکستانی لوگ اچھے مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں‘‘۔ (16)

اسلام کی خاطر ہجرت اپنے آپ میں ایک بہت بڑی قربانی ہے جو اس عظیم خاتون نے دور حاضر میں پیش کی۔ انہوں نے اسلام کی خاطر سب کچھ چھوڑا۔ گھر کی آسائشیں چھوڑ دیں۔ زیب و زینت سے منہ موڑا، ظاہری چمک دمک سے لیس مغربی تہذیب کو ٹھکرایا۔ مغربی فکر و عمل سے بےنیازی کی راہ اپنا لی۔ سب سے بڑھ کر اپنے والدین اور اعزاء و اقرباء کو چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی صاحب عزیمت بندوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے: جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں اپنے لیے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے، پھر راستے میں اسے موت آجائے، اس کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہوگیا۔ (النساء:۱۰۰)

مریم جمیلہ نے نہ صرف یہودیت اور مغربی فکر و تہذ یب سے ہجرت کی بلکہ وہاں کی بودوباش اور رہن سہن سے بھی ہجرت کی۔ تصویر کشی اور ڈرائنگ کی انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی اور وہ اس کی بےحد شوقین تھیں۔ جب سید مودودی نے ان سے کہا کہ یہ اسلام میں مستحسن اور جائز نہیں ہے تو بلا توقف اسلام کا حکم سمجھ کر اس کو چھوڑ دیا اور تصینف و تالیف اور علمی و فکری کاموں کو اپنے دائرہ کار ٹھہرایا۔ مریم جمیلہ نے سید مودودی کے گھر میں 30 جو ن سے 4 اگست 1962ء تک قیام کیا، وہ مولانا کے گھر میں اپنے آپ کو زیادہ ہم آہنگ نہ کر پائی تھیں، جس کی وجہ سے سید مودودی نے انہیں ایک دوست حکیم نعمت رائے کے ہاں قیام کروایا، جہاں وہ ایک سال تک رہیں۔ اس دوران بیمار ہوگئیں اور ہسپتال میں کچھ عرصے تک زیر علاج رہنا پڑا۔ سید مودودی اپنی بےپناہ مصروفیات کے باوجود ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد کرتے رہے، جس کا مریم جمیلہ نے خود بھی اعتراف کیا ہے۔

مثالی ازدواجی زندگی
مریم جمیلہ کا نکاح جماعت اسلامی کے مخلص کارکن اور مثالی رکن محمد یوسف خان سے ہوا۔ محمد یوسف خان 1923ء میں جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پٹھان خاندان سے تعلق رکھتے تھے، پھر ترک وطن کر کے لاہور میں سکونت پذیر ہوگئے۔ نوجوانی ہی میں سید مودودی کی فکر سے متاثر ہوئے اور جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کر کے 1950ء میں باقاعدہ اس کے رکن بنے۔ رکن بن کر فنا فی الجماعت ہو گئے اور اقامت دین کی راہ میں 50 سے زائد سال گزار کر 15 دسمبر 2014ء میں 92 سال کی عمر میں اپنے رب کے حضور پیش ہوئے ۔انا للہ وانا الیہِ راجعون۔

محمد یوسف خان صاحب ثروت، پر اعتماد، باایمان اور تحریک اسلامی کے نہایت مخلص کار کن تھے۔ ان کے عقد میں پہلے سے ایک بیوی شفیقہ تھی۔ سید مودودی مریم جمیلہ کا نکاح محمد یوسف خان سے کرانا چاہتے تھے۔ انھوں نے اس حوالے سے محمد یوسف سے بات کی جس کے متعلق محمد یوسف خان نے ایک انٹرویو میں کہا ’’میں نے مو لانا سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں، آپ جو چاہتے ہیں وہی ہوگا۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں گھر جاؤں چنانچہ گھر جا کر بیوی سے بات کی تو اس نے کہا کہ میں تو پہلے ہی سو چ رہی تھی۔ وہ بہت اچھی ہے، مولانا کے بچوں کا رویہ بھی ٹھیک نہیں، اور مولانا کو اصل صورتحال کا پتہ نہیں، بس میں نے کہا کہ مریم کو پیغام دے دو، اس نے جا کر مریم جمیلہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب آپ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ مریم جمیلہ نے کہا مولانا کی مر ضی کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی، پھر مولانا نے مریم جمیلہ سے کہا کہ نکاح کر لو، یوسف خان اچھا آدمی ہے۔‘‘ (17) مولانا مودودی نے 18 اگست 1963ء میں مریم جمیلہ کا نکاح محمد یوسف خان سے پڑھایا۔ ان کی عمر اس وقت 39 سال جبکہ مریم جمیلہ کی عمر 29 سال تھی۔ یہ نکاح مثالی ثابت ہوا۔ ابتدا ہی سے ان تینوں (محمد یوسف، شفیقہ اور مریم جمیلہ ) کی آپسی محبت اعلی درجہ کی تھی۔ کوئی بھی عورت عموما یہ برداشت نہیں کرتی کہ اس کے گھر میں سوکن کی حیثیت سے دوسری عورت آجائے، لیکن شفیقہ صاحبہ مولانا سے رشتہ مانگنے کے لیے خود گئیں۔ اور یوں بیسویں صدی میں ایک اعلیٰ مثال قائم کر کے مریم جمیلہ سے پہلے اس فانی دنیا کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملیں۔ محمد یوسف کی پہلی بیوی شفیقہ کے بطن سے 8 اور مریم جمیلہ کے بطن سے 4 بچے پیدا ہوئے۔ محمد یوسف خان کے بچے شفیقہ کو امی اور مریم جمیلہ کو آپا کہہ کر پکارتے تھے۔ شفیقہ اور مریم جمیلہ کی آپس میں سگی بہنوں کی طرح راسخ محبت تھی اور سگی بہنوں کی طرح دونوں رہتی تھیں۔ شفیقہ کی وفات کے بعد مریم جمیلہ نے وصیت کی تھی کہ ان کو شفیقہ کے قریب دفن کیا جائے۔ محمد یوسف خان کا یہ گھر مثالی اسلامی گھرانہ تھا۔ محمد یوسف نے مریم جمیلہ کو بہترین اور سازگار علمی اور فکری ماحول فراہم کیا، جس کی ضروت ان کو تھی۔ وہ ان کے لیے کتابیں منگواتے تھے، ان کی تحریروں اور کتابوں کو خود سے شائع کرتے تھے۔ مریم جمیلہ کو سید مودودی سے استفادہ کی ضرورت پڑتی تو محمد یوسف خان ان کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ اس حوالے سے مریم جمیلہ رقمطراز ہیں: میرے خان صاحب (19) مجھے سید مودودی کے گھر عصر کے وقت باقاعدگی سے لے جاتے، وہاں میں رات کا کھانا کھاتی اور مغرب سے عشاء تک مولانا مودودی اور میں باہم مختلف معاملات پر گفتگو کرتے، ہر بحث تمام موضوعات پر مشتمل ہوتی، زیادہ تر وقت ہم پاکستان میں سیاسی صورتحال اور مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں معاندانہ حکومتوں کے تحت اسلامی تحریکات کی حالت زار پر گفتگو کرتے۔ (20)
بالآخر یہ عظیم داعیہ، مؤمنہ اور چمکتا ہوا تارا 31 اکتو بر 2012ء کو زندگی کی 78 بہاریں گزار کر لاہور میں انتقال کرگئیں. ان کی نماز جنازہ حافظ محمد ادریس نے پڑھائی۔ انا للہ و انا الیہ رجعون۔

تصنیفی کام
مریم جمیلہ نے مختلف موضوعات پر 34 کتابیں لکھیں جن میں ایک بڑا حصّہ مغربی فکر و تہذیب پر انتہائی تلخ اور چبھتی ہوئی تنقید پر مشتمل ہے۔ انہوں نے فکر اسلامی کے احیاء اور اس کے دفاع، مغربی مفکرین اور مستشرقین کی کارستانیوں کا بہترین اور شائستہ اسلوب میں مسکت جواب دیا ہے اور متجددین کے ناپختہ خیالات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ اس تعلق سے موصوفہ نے اسلامی لٹریچر میں انتہائی اہم اور قیمتی اضافہ کیا جو راہِ راست کی خدمت انجام دینے کے لیے مؤثر اور قابل استفادہ ثابت ہوا اور ہو رہا ہے .اس عظیم کار خیر کے لیے امت مسلمہ ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ سطور ذیل میں ان کی چند اہم کتابوں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

1. Islam in theory and practice.
یہ مریم جمیلہ کی سب سے اہم تصنیف ہے جو سب سے پہلے 1967ء میں شائع ہوئی۔ اس کا خوبصورت اردو ترجمہ آباد شاہ پوری نے ’’اسلام ایک نظریہ ایک تحریک‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔ اس کتاب کو مصنفہ نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں انھوں نے ایمانی سفر کی داستان بیان کرنے کے ساتھ مسلمانوں کی اسلام کی نمائندگی کرنے پر ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ دوسرے باب میں اسلام کو ایک نظریہ کے طور پر بیان کیا ہے۔ تیسرے باب میں اسلامی تحریکوں اور مفکرین کے کام کا جائزہ لیا ہے جو اسلام کو عملا قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ آخر میں اہل علم کی ذمہ داریوں پر بحث کی ہے۔
2. Islam Verses the West.
یہ بھی مریم جمیلہ کی ایک قابل قدر تصنیف ہے جو ان 18؍ مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے 1954ء سے 1962ء کے درمیان لکھے تھے۔ ان مضامین میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جدید مغربی فکر و تہذیب نے کس طرح مسلم معاشرہ میں مرعوبانہ اثرات قائم کیے۔
3. Islam and Modernism
یہ 26 مضامین پر مشتمل کتاب ہے جس میں انہوں نے مغربی فلسفہ کے زہریلے اثرات بیان کرکے بتایاہے کہ ان زہریلے اثرات نے کس طرح مُسلم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔
4. Islam verses Ahl al-kitab past and present
اس کتاب میں مصنفہ نے تفصیل سے یہودیت، عیسائیت (تورات، انجیل) کا قُرآن کے تناظر میں جائزہ پیش کیا ہے اور ان مذاہب پر گفتگو کر کے اسلام کی حقانیت ثابت کی ہے۔
5. Western Civilization Condemned by it self:
اس کتاب میں مریم جمیلہ قدیم روم، گریس اور جدید مغربی مصنفین کے حوالوں سے جدید تہذیب کی کج رویاں اور اس کی خرابیاں سامنے لائی ہیں۔
6. Ahmad Khalil:
یہ مریم جمیلہ کا ایک ناول ہے جس میں انہوں نے احمد خلیل نامی ایک نوجوان کا کردار دکھایا ہے کہ کس طرح اس نے مغربی فکر و تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنی تہذیب کو ٹھکرادیا۔
7. Islam and Orientalism:
یہ کتاب ان تبصروں پر مشتمل ہے جن میں انہوں نے مشہور مستشرقین ڈاکٹر فلپ کے حتی، ڈاکٹر کنتھ، ایس جی گویٹن، ایچ آر گب، ڈاکٹر ویلفریڈ، کانٹ ویل سیمتھ، فری لیٹر ایوٹ، اور نادر سفران کی کتابوں کا تنقیدی جائزہ لے کر دلائل کی بنیاد پر ان کی موشگافیوں کو رد کیا ہے۔
8.is westeren civilization universal
مغرب کا دعوی ہے کہ اس کی تہذیب عالمگیر ہے۔ مریم جمیلہ نے اپنی اس کتاب میں مدلل جواب دے کر بتایا کہ مغربی تہذیب فکری، اخلاقی اور روحانی اعتبارسے بالکل کھوکھلی ہے۔ موصوفہ نے اس کتاب میں واضح کیا ہے کہ الہی اور بنیادی قدروں کے بغیر ایک تہذیب کبھی بھی عالمگیر نہیں ہوسکتی۔
9 .Who is moudoodi?
یہ کتاب دراصل مولانا مودودی کی حیات و خدمات اور ان کی فکر پر ان کا ایک جامع مقالہ ہے۔
10.Sheikh Hassanul Banna and AL- Akhwan ul Muslemeen
اس کتابچے میں امام حسن البنا شہید اور ان کی برپا کردہ تحریک الاخوان المسلمون کے رول پر انتہائی جامع گفتگو کی ہے۔
11. The Feminist Movement and the muslim women
اس کتابچہ میں موصوفہ نے آزادی نسواں کی تحریکوں کی کارستانیوں کا اجمالی طو پر تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام کے تصور مساوات پر گفتگو کرتے ہوئے اسلام میں مرد و زن کے الگ الگ دائرہ کار کی اہمیت و افادیت واضح کی ہے۔
12. The Prospects of an Islamic Ranaissance
مذکورہ مقالے میں مریم جمیلہ نے اسلام کی نشأۃ پر مدلل اور جامع گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے نصوص یعنی قرآن و سنت محفوظ ہیں نیز اسلام مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ وہ نہ صرف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کیسے کرنا ہے۔
13. Westernization and human welfare:
زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے تفصیل سے مغربی مصنفین کے حوالے دے کر مغربی فکر و تہذیب کی خرابیوں کو بیان کیا ہے مثلا ً ایک جگہ لکھتی ہیں کہ مغربی تہذیب کی وجہ سے خاندان اور خاندانی نظام کی تباہی نے انسانی رشتوں کو رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔
14. Islam Face to Face with Current crises :
یہ بھی موصوفہ کی ایک قابل تحسین تصنیف ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے بتایا ہے کہ مذاہب عالم اور افکار و نظریات انسانی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اسلام ہی وہ طریق زندگی ہے جو انسانی مسائل حل کرسکتا ہے۔

حوالہ جات
(1) Maryam Jameelah,Islam and Orientalism (New Dehli: Adam Publishers and distributors, 2010), p. 9.
(2) مریم جمیلہ، اسلام ایک نظریہ ایک تحریک، (مترجم آباد شاہ پوری ) مرکزی اسلامی پبلیشرزدہلی ، 2013، ص:12
(3) John Espositio, John O- Voll, Makers of Contemporary Islamic thought, oxford University press, P : 54.
(4) Al-Dawah, May, 2004 P : 30 .
(5) Maryam Jameelah, Islam and Orientalism, P : 10.
(6) Al Dawah May, 2004, P :31.
(7) Ibid, P : 32.
(8) Maryam Jameelah, The Story of one Western Converts Quest for the Truth, Lahore Muhammad Yousuf P : 91 .
(9) ڈاکٹر عبدالرحیم قدوائی،ہند پاک میں قرآنی تراجم و تفاسیر، شش ماہی علوم القرآن، علی گڑھ، جولائی تا دسمبر، ص:61
(10) Makers of Contemporary Islamic Thought P : 56.
(11) Maryam Jameelah, why I embraced Islam,New Crescent Publishing Co, P:9.
(12) مریم جمیلہ، مریم جمیلہ اور مولانا مودودی کی مراسلت، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، 2010ء، ص:3
(13) تذکرہ سید مودودی، تدوین و ترتیب :جمیل احمد رانا، سلیم منصور خالد، ادارہ معارف اسلامی لاہور، 1998، جلد2، ص: 865 (14) مریم جمیلہ اور مولانا مودودی کی مراسلت، ص: 10
(15) Maryam Jameelah, islam Theory and Practice Lahore 1976, P:11, see also Al Dawah ,May 2004 P : 33
(16) Why I embraced Islam,New Crescent Publishing Co, P : 9,
(17) فرائیڈے اسپیشل، نومبر 2016ء (
(18) تذکرہ سید مودودی، منشورات لاہور، ج اول 785
(19) مریم جمیلہ ہمیشہ اپنے شوہر کو پیار و محبت سے میرے خان صاحب سے پکارتی تھیں
(20) تذکرہ سید موددی ، جلد اول: 578

Comments

مجتبی فاروق

مجتبی فاروق

مجتبی فاروق کا تعلق کشمیر سے ہے۔ ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ انڈیا سے بطور ریسرچ اسکالر وابستہ ہیں۔ اسلامی نظام تعلیم اور معاصر اسلامی فکر ان کی تحقیق کا میدان ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */