عید کارڈز، ایک روایت کا خاتمہ - محمد انیس

مسلمانوں کے دو بڑے تہوار عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہیں۔ ویسے تو یہ دونوں عیدیں ہمارے لیے خوب خوشیاں لاتے ہیں اور سال بھر ان کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن عید الفطر، جسے چھوٹی یا میٹھی عید بھی کہتے ہیں، اس کی خوشی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں روزے رکھنے اور خصوصی عبادات کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ اس عید پر خریداری بھی خوب ہوتی ہے اور پکوان اور عید کی تیاریاں بھی زور و شور سے کی جاتی ہیں۔

انٹرنیٹ اور موبائل کے آنے سے پہلے عید کی ان تیاریوں میں ایک اچھی روایت ہوتی تھی، عید کارڈز۔ عید کے موقع پر دوست احباب، خاندان کے افراد اور چاہنے والوں کو عید کارڈز دیے جاتے تھے۔ ہمیں جابجا عید کارڈوں کے چھوٹے بڑے اسٹالز نظر آتے تھے اور یہ کارڈز عید خریدنا اور انہیں بھیجنا عید کی تیاریوں کا اہم حصہ ہوتا تھا۔ ان کارڈوں پر منفرد اشعار اور دل کا احوال خوبصورت الفاظ میں لکھا جاتا تھا اور رمضان کے آخری ایام میں تو عزیز و اقارب کی جانب سے عید کارڈوں کا بے چینی سے انتظار بھی ہوتا تھا۔

اس منفرد اور خوبصورت روایت اب ہم محروم ہوگئے ہیں۔ اب شاید ہی کوئی عید کی مبارک باد کارڈز کے ذریعے دیتا ہو۔ اب زمانہ ای-کارڈز کا ہے یا پھر ایس ایم ایس یا سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے مبارک باد دینے کا۔ صرف ایک پیغام، وہ بھی فارورڈڈ، ہماری اخلاقی فریضہ پورا کر دیتا ہے۔ اس احساس کا اب نئی نسل کو علم ہی نہیں جو دل سے نکلتا تھا اور قلم کے ذریعے کاغذ پر ثبت ہو جاتا تھا۔ اگر آج اس زمانے میں بھی آپ ایسا کریں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ کس کے لیے کیا احساسات رکھتے ہیں اور انہیں بیان کس طرح بیان کرتے ہیں۔