قید خانۂ شیاطین - ام شافعہ

ویرانے میں بنی اس بہت بڑی عمارت میں رات کے اس پہر مکمل تاریکی کا راج تھا۔ سوائے کمروں کے داخلی اور خارجی مشترکہ راستوں کے، جہاں چھوٹی چھوٹی مشعلیں تاریکی کو کم کرنے کی نامکمل سعی کر رہی تھیں۔ دھیمی اور ٹمٹماتی ہوئی روشنی ان کمروں کی دیواروں سے جب ٹکراتی تو ان کی بد ہیئتی اور پھیکی رنگت میں اور اضافہ ہو جاتا مگر وہاں موجود نفوس اس ماحول کے عادی ہو چکے تھے۔ جب ہر طرف نیند اور تاریکی ایک دوسرے سے لپٹے بےخواب کیفیت میں اونگھ رہے تھے، تب کمروں کی داہنی قطار میں پہلے کمرے میں کچھ ہلچل پیدا ہوئی۔ زنجیروں کی ہل جل کی آواز نے چار دیواری میں موجود "وجود" کو چوکنا کردیا۔ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ اسے پتہ چل گیا تھا کہ ساتھ والے کمرے میں "چھوٹو" اپنی چار دیواری کے جنگلے تک آ گیا ہے۔ یہی سوچ رہا تھا کہ چھوٹی کی استفہامیہ صدا گونجی "استاد!"

بول، سن رہا ہوں

استاد، اس دفعہ کا کیا منصوبہ ہے؟

وہی منصوبہ ہے، وہی جال ہیں جو پہلے ہم پھینکتے تھے، وہی لالچ، جو پہلے دیتے تھے، اب اور نیا کیا ہونا ہے؟ استاد بے پروائی سے بولا

استاد تو بھول رہا ہے اب کی بار تو میچ بھی ہو رہے ہیں، پھیکی روشنی میں چھوٹو کے پیلے دانت واضح ہوئے

ہاہاہاہا۔۔ ہے تو تُو چھوٹو لیکن بات بڑے پتے کی کی ہے۔ صحیح کہا تُو نے۔ پہلے رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر لوگ اپنے اعمال برباد کرتے تھے، اب تو میچ کا تڑکا بھی لگا ہے۔ استاد فوراً یاد آنے پر خوش ہو کے بولا۔

استاد میں وہ منظر ذہن میں لا رہا ہوں جب رمضان ٹرانسمیشن میں جہاں اچھا مسلمان بننے اور نیکیوں کی ترویج پر درس ہوتا ہے، تو وہیں روزہ کھلنے کے بعد کیسے ہر طرف طوفان بدتمیزی برپا ہو جاتا ہوگا؟ ہی ہی ہی!! چھوٹو کی مکروہ ہنسی کمرے میں گونجی۔

یہ بھی پڑھیں:   ما بعد رمضان، بے قید زندگی؟ - ابراہیم جمال بٹ

ہاں، اب کی بار بھی جو جال ہم پھینک کے آئے ہیں اس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پھنس گئی ہوگی، استاد سوچتے ہوئے بولا

چھوٹو میرا سینہ خوشی سے پھول جاتا ہے جب یہ لوگ اس آیت "وکنا نخوض مع الخائضین" کا مصداق بن جاتے ہیں۔ پاکستان انڈیا کا میچ بھی ہونا تھا، مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہو گئے ہوں گے۔ پھر کسے نماز روزہ یاد رہا ہو گا؟ ہاہاہاہا!! استاد نے ناخوشگوار سا قہقہہ لگایا

استاد! قرآن ان لوگوں کے لیے اترا مگر یہ اس سے ہدایت لینے کی بجائے موسمی مسلمانوں سے دین سیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ٹی وی میڈیا ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے، لوگوں کو ورغلانے کے لیے۔ ویسے استاد، جس حکمت عملی سے سارا منصوبہ بنایا ہے اس پر تمهیں داد دینی پڑے گی۔ لوگوں کو نیکی کی آڑ میں جس طرح سے قرآنی احکامات سے غافل کرنے کا انتظام کر کے آئے ہو، اس کا کوئی جواب نہیں۔ چاردیواری کے دونوں جانب دونوں کے سیاہ کھردرے ہونٹوں پہ فاتحانہ مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔

چھوٹو! تجھے پتہ تو ہے ہم ان کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ بس کسی طرح ان کی آخرت برباد کرنا ہی تو سب سے بڑا مقصد ہے اور تجھ جیسے میرے ہونہار شاگرد اس کام میں پورا ساتھ دے رہے ہیں۔

بدہیئت وجود نے دیوار کے اس پار بیٹھے چھوٹو کو شاباش دی، جسے سنتے ہی تاریکی میں چھوٹو کی چھوٹی چھوٹی، عیارانہ آنکھیں فخر کے احساس سے چمک اٹھیں۔

تُو سن ایسے لوگوں کے بارے میں ان کا اللہ کیا کہتا ہے، استاد اپنی رانوں پر جوش سے ہاتھ مارتے بولا، ہاہ، اس منظر کی روداد سن کے مجھے کتنا سکون ملتا ہے؟

جب جنتی جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ تمھیں کس چیز نے سقر (جہنم) میں ڈالا تو وہ کہیں گے :

قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (ہم نماز نہیں پڑھتے تھے)

یہ بھی پڑھیں:   نیکی کر فیس بک پر ڈال - صہیب الرحمن

وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے)

وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (اور(باطل میں) مشغول ہو جانے والوں کے ساتھ مشغول ہو جایا کرتے تھے)

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (اور روز جزاکا انکار کیا کرتے تھے)

یہ لوگ سمجھتے ہیں زبان سے قیامت کا انکار ہی انکار ہوتا ہے، انہیں کیا پتہ قیامت کے دن کی تیاری سے غافل ہو جانا بھی ایک قسم کا انکار ہی ہے اور اس غفلت میں، میں انہیں ڈال آیا ہوں۔ یہ رمضان ٹرانسمیشن کے نام پہ ہونے والی کھیل کود، میچ اور فیس بک نامی پینترے پھینک آیا ہوں۔ دنیا میں وقت کا ضیاع خوب ہو رہا ہو گا۔۔۔۔ ہاہاہاہا

چھوٹو نے جنگلے پہ منہ ٹکاتے دل ہی دل میں استاد کی ذہانت کو داد دی

اور چھوٹو پتہ ہے آگے کیا ہے؟

حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا)

اور پھر انہیں اچانک موت آ جائے گی۔ آنکھیں پھاڑے، ساکت وجود لیے پھر وہ کچھ نہیں کر پائیں گے۔ وائے، ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور میرا سینہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ استاد نے اپنے سینے پہ ہتھڑ مارے، جیسے اسے اپنی کامیابی کا پورا یقین ہو۔ جوش سے اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔

"پھر اچانک موت ان کو اچک لے گی اور وہ پچھتاوے کے علاہ کچھ نہیں کر سکیں گے، ہائے حسرت، ہائے حسرت!!" چھوٹو چاردیواری میں دوڑتے ہوئے،خوشی سے چھلانگیں لگاتے ہوئے اونچی آواز میں بولتا چلا گیا۔

ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔

پوری عمارت دونوں کے خوفناک قہقہوں سے گونج اٹھی۔ وہ عمارت جس کے مرکزی دروازے پر بڑے بڑے الفاظ میں " قید خانۂ شیاطین" لکھا تھا۔