پاکستان میں انصاف کی حالت زار – محمد عبد اللہ

کوئی لمبا چوڑا فلسفہ نہیں، آج وطن عزیز میں انصاف کی حالت زار دیکھتے ہیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اس ملک میں طاقت والے گرچہ ظالم و قاتل ہی کیوں نہ ہوں ان کو “باعزت” بری کردیا جاتا ہے اور مظلوم و غریب گرچہ بے گناہ و بے قصور ہی کیوں نہ ہو اس کا مقدر سلاخوں کے پیچھے ہے۔ کچھ اور نہیں صرف آپ کے ساتھ چند کردار رکھوں گا، بیشتر کو آپ بخوبی جانتے بھی ہوں گے:

1- پاکستان کے سابق مشیر پٹرولیم جو 479 ارب روپے کی کرپشن مین ملوث تھے، سندھ رینجرز اور سیکیورٹی اداروں نے جانوں پر کھیل کر ان کے خلاف ثبوت متعلقہ اداروں کو دیے مگر حضرت 50 لاکھ کے مچلکے جمع کروا کر ضمانت حاصل کی اور انصاف کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے گھر کو رواں دواں ہوگئے۔

2- اوگرا کے سابق چیئرمین جو82 ارب لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے تھے، جن کی گرفتاری دبئی سے عمل میں لائی گئی مگر یہ حضرت بھی فقط 10، 10 لاکھ کے دو مچلکے جمع کروا کر اڈیالہ جیل سے سوئے لاہور روانہ ہوئے۔

3- تیسرا بڑا نام ان حضرت کا ہے جنہوں نے اللہ کے مہمانوں یعنی حاجیوں تک کو بھی نہ بخشا۔ جی ہاں! میری مراد سابق وزیر حامد سعید کاظمی صاحب جو حج کرپشن کیس میں بڑی دھوم دھام سے گرفتار کیے گئے تھے مگر بعد ازاں حسب روایت انصاف و قانون کو گولی کرواتے ہوئے باعزت بری ہوگئے۔

4- سندھ دھرتی کے “عظیم” سپوت جناب شرجیل میمن صاحب جن پر 5 ارب 76 کروڑ روپے کی کرپشن ثابت ہوئی اور ان کو پاکستان آمد پر گرفتار کیا گیا مگر کچھ پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے اور کرپشن کے مزید کیسز کھلنے کے خوف سے کچھ ڈوریاں چیک چینل ڈپلومیسی کے تحت ہلیں اور جناب شرجیل میمن صاحب باعزت بری!

5- رینٹل پاور کی مد میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگانے والے جناب ‘راجہ رینٹل’ پرویز اشرف صاحب کو باقاعدہ ملزم قرار دیا گیا مگر وہ آزادانہ گھومتے پھرتے رہے اور ان کی تفتیش کرنے والا آفیسر اپنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا جس کی تاحال تفتیش نہیں ہوسکی۔

6- اسی طرح کچھ دن پہلے کی رپورٹ آپ لوگوں کو یاد ہوگی کہ پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے (نیب) نے اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے ڈیڑھ سو بڑے مقدمات کی رپورٹ ملکی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف، چوہدری شجاعت، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی، سابق وفاقی وزراء آفتاب شیر پاؤ اور فردوس عاشق اعوان کے علاوہ دیگر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف مالی بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے زیر تفتیش ہیں۔

یہ تو صرف کرپشن کے چند کیسز تھے کہ جن میں قومی خزانے سے اربوں نہیں کھربوں کی خرد برد کی گئی۔ مگر یہ کرپشن کے مہاراج آج بھی آزاد ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

اسی طرح اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی، امن عامہ کو نقص پہنچانے والے اور اس سے بھی بڑھ قومی سلامتی تک بیچ جانے والی کتنی مقدس گائیں ایسی ہیں جن کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ میمو گیٹ اسکینڈل کس کو یاد نہیں ہوگا، ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کیوں منظرعام پر نہیں آتی؟ حسین حقانی کی وفاداریاں کس کو یاد نہیں مگر سبھی آزاد ہیں اور سبھی کی پگڑیاں بدستور سروں پر ہیں۔

اسی طرح سے حال میں لیک ہونے والی خطرناک رپورٹ کہ سارے پاکستانیوں کا مکمل ڈیٹا امریکہ کی ایجنسیوں کو بیچا گیا مگر کوئی اس پر بولنے والا نہیں کیونکہ ان سارے معاملات سے کون سا پاکستان، عوام پاکستان، قومی سلامتی، ملکی عزت کو خطرہ ہے اس لیے سبھی آزاد اور شتر بے مہار ہیں ۔ ہاں! اگر پاکستانی معاشرے کو خطرہ ہے تو حافظ سعید سے ہے، ملکی مفادات کو آنچ آتی ہے تو حافظ سعید کی آواز سے، ہمارے دوست ناراض ہوتے ہیں تو حافظ سعید کی نقل و حمل سے، اس لیے حافظ سعید کو پکڑو اس کو قید کردو اور اگر کوئی پوچھے کہ بھئی! اس کا جرم کیا ہے؟ تو بتلا دو کہ اس سے معاشرے کو خطرہ ہے۔

قارئین آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ حافظ سعید سے ہمارے معاشرے کو کیا خطرہ ہے؟

تھرپارکر جہاں بھوک اور موت رقص کرتی تھی آج وہاں مسکراہٹیں اور ہریالی ہے تو حافظ سعید کی وجہ سے!

بلوچستان جہاں پاکستان کا نام لینا جرم تھا اور شناختی کارڈ دیکھ کر قتل و غارت ہوتی تھی آج وہاں پاکستان کا لہراتا پرچم ہے تو حافظ سعید کی وجہ سے!

سیلابوں، زلزلوں، طوفانوں میں ملک و قوم کو اگر سہارا دیتا ہے تو حافظ سعید!

ضرب عضب آپریشن میں جب فوج پر فتووں کی بارش ہو رہی تھی تو قوم اور سرکردہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو فوج کے پشتیبان بنا کر کھڑا کرتا ہے تو حافظ سعید!

پاکستان میں کہیں آگ لگ جائے، حادثہ ہو جائے یا کوئی بھی مسئلہ بن جائے تو مدد اور ریسکیو کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والے کارکن حافظ سعید کے!

پاکستان ہی کیا اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فلاحی اور ریسکیو کی تنظیم حافظ سعید کی!

برما، صومالیہ، فلسطین، انڈونیشیا، افغانستان، کشمیر، شام اور دنیا میں بسنے والے دیگر مظلوم مسلمانوں کی اگر کوئی مدد کرتا ہے تو وہ حافظ سعید!

امت مسلمہ کے مظلموم مسلمانون کا واحد وکیل ہے تو حافظ سعید!

کشمیریوں کی ترجمانی کرتی مضبوط اور توانا آواز ہے تو حافظ سعید!

فتنوں اور آزمائشوں کے دور میں بھی نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان کا نعرہ اور سبز ہلالی پرچم اٹھا کر جو قوم کا مورال بلند کرتا تو حاٖفظ سعید!

میں حافظ سعید کا کون کون سا جرم بیان کروں جس کی وجہ سے اس کی غیر قانونی اور بلاوجہ کی نظربندی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی اور حکومتی وکلاء عدالت میں فقط حیلوں بہانوں سے ڈنگ ٹپا رہے ہیں۔

میں یہ سب دیکھتا ہوں تو دل سے یہی آہ نکلتی ہے کہ آخر کب تک ہم پاکستانی اپنے محسنوں سے ایسا ہی سلوک کرتے رہیں گے؟

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam