روزے اور مفتیان یوم السبت - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

روزہ رکھنا مسلمانوں پر فرض ہے جس طرح پچھلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا۔ قرآن مجید کی سورۂ بقرہ میں تفصیل کے ساتھ روزوں کے احکامات کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے مقاصد بیان کیے گئے ہیں "لعلکم تتقون" اور "لعلکم تشکرون۔ مسافر اور مریض کو رخصت دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر تم روزہ رکھ لو تو زیادہ بہتر ہے۔ لیکن ماہ مبارک رمضان کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر متجددین کا ایک غول میدان میں نکل آیا ہے جو روزہ ترک کرنے کی شرعی علتوں میں وسعت پیدا کرتے ہوئے ترغیب دے رہا ہے کہ امتحان کی تیاری جیسی مشقت کے لیے روزہ نہ رکھنے کی بھی شرعاً اجازت ہے۔

رمضان کے روزوں کی فضیلت پر صرف یہی ایک بات کافی ہے کہ "روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا خود ہوں۔" حالت رخصت میں اجازت کے با وجود فرمایا: مَنْ صَامَ یوْمًا فِی سَبِیلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِینَ خَرِیفًا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِیامٌ۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ سفر کے آغاز میں روزہ ہی تھا جب دشمن سے مقابلہ قریب ہوا تو آپ ﷺ نے افطار کی رخصت کا اعلان فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جس نے رمضان کا روزہ بغیر عذر شرعی یا مرض ترک کیا اگر وہ پوری زندگی بھی روزہ رکھتا رہے تو وہ اس کے ثواب کو نہیں پا سکتا۔

کہیں بھی قرآن و سنت میں روزہ ترک کرنے کے علتوں کو اتنی توسیع اور ترغیب کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا۔ اس لیے جو بھی ایسا کر رہا ہے اس کا یہ عمل یقیناً قرآن و سنت کی روح کے منافی ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ خواتین کی شاپنگ کو بھی اسی رخصت میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ عبادت اور تجارت میں قرآن کے حکم کو سمجھنا ہو تو سورۃ الجمعہ کو پڑھ کر دیکھیں۔ اذان جمعہ کے بعد خرید و فروخت اور ہر وہ کام جو سعی الی الصلٰوۃ مین رکاوٹ بنتا ہو ناجائز ہے۔ آخر گرمیوں کے موسم میں رات کے ازدحام سے بچنے کے لیے یہ خواتین کی شاپنگ کون سا ایسا عمل ہے جو صبح صادق سے ہی روزہ ترک کرنے کا جواز بن سکتا ہے؟حالانکہ قرآن و سنت کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے ان کو یہ سوال اٹھانا چاہیے تھا کہ کیا روزے کیا حالت میں عید کی شاپنگ کرنا، 100 اوورز کا کرکٹ میچ کھیلنا اور امتحانات منعقد کرانا حرام ہے؟

روزہ رکھنا فرض ہے، دین کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن اور شعائر اسلام و ضروریات دین میں سے ہے جبکہ یہ اعمال طبعی و شرعی ضروریات میں نہیں اور اتنی اہم عبادت میں روزہ شروع ہونے کے بعد رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ روزہ صبح صادق سے رات تک مکمل کیا جا تا ہے۔ ابھی مشقت کا آغاز بھی نہیں ہوا اور اس کو ترک کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی گئی۔ بازاروں میں رمضان کے مہینے میں سکون سے باہر بیٹھ کر بر گر کھانے والی خواتین اگر ایسے ہی کسی فتویے کی پیروی کر رہی ہیں تو یقیناً اس کا ذمہ بھی انہی مفتیان یوم السبت کے سر ہے۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */