فرضیت کا تقدس - صبور فاطمہ

ارشادِباری تعالیٰ ہے: یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ترجمہ:اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پر ہیز گار بنو۔ (سورۃ البقرۃ: آیت ۱۸۳)

رمضان کے روزوں کی حیثیت فرائضِ اسلام میں سے ہے۔ فقہی رو سے فرض سے مراد وہ حکم ہے جس کا کرنا مکلف کے لیے لازمی و حتمی ہو جو دلیلِ قطعی(قرآن وسنتِ متواترہ) سے ثابت ہو، عمل کرنے پر ثواب، چھوڑنے پر گناہ و مذمّت ہو۔ روزے ہجرت کے بعد تحویلِ قبلہ کے دس روز بعد ماہِ شعبان 2 ہجری میں فرض کئے گئے تھے۔ اس فرضیت کا مطلب فرضِ عین ہے یعنی ہر مخاطب (عاقل، بالغ، مسلمان، صحت مند)کے لیے ضروری ہے کہ وہ حکم کو پورا کرے۔ جس طرح نماز کی اہمیت اسی طرح روزہ کی بھی حیثیت ہے، چونکہ مذہبِ اسلام، انسانی طبعیت اور مزاج کے عین مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ جبر کے منافی ہے لہٰذا، مختلف نازک صورتوں میں انسان کو فرض عبادت سے استثناء دیتا ہے۔ ارشا دِ باری تعالیٰ ہے: اَیَّاماً مَّعدُوْدٰتٍ فَمَنْ کَا نَ مِنْکُمْ مَّرِیْضاً اَوْ عَلیٰ سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیّامٍ اُخَرَ وَعَلَی الَّذِےْنَ یُطیْقُوْنَہٗ فِدْ یَۃٌ طَعَا مُ مِسْکیِنٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَخَیْرٌلَّہٗ وَاَنْ تَصُوْخَیْرُ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ترجمہ: گنتی کے چند ہی دن ہیں، لیکن تم سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں اس گنتی کو پورا کرلے، طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دے، اور جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے، لیکن تمہارے حق میں افضل کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم با علم ہو۔ (سورۃالبقرۃ:آیت: ۱۸۴)

فرض روزوں میں شریعت نے جن دو اعذار کا ذکر کرتے ہوئے رخصت دی ہے اس میں مرض اور سفر شامل ہیں لہٰذا اب تیسرے کسی عذر کی گنجائش نہیں ہے اور رخصت کا سبب وہ عذر دور کرنا ہے جس سے مرض بڑھنے یا جان جانے کا خطرہ ہو۔ سفر اگر با مشقت ہو تو روزہ چھوڑدیں وگرنہ زیادہ بہتر روزہ رکھنا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کی ایسی سواری ہو جو اسے منزل تک آسانی اور آرام کے ساتھ پہنچادے تو اسے چاہیے کہ جہاں بھی رمضان آئے روزہ رکھ لے۔ ‘‘

غور طلب بات یہ ہے کہ ان اعذار کا ذکر کرنے کے باوجود قرآن پاک کی آیت وَاَنْ تَصُوُْوْ خَیْرُ لَّکُمْ سے روزہ رکھنے کی ہی ترغیب مل رہی ہے تاکہ فرض روزوں کی برکات و رحمتیں ماہِ رمضان میں حاصل ہوجائیں۔ کیونکہ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ: ’’رمضان کے استقبال کے لیے جنّت شروع سال سے آخر سال تک اپنی زیب و زینت کرتی ہے۔ ‘‘

ہر دور میں نئے مسائل اور فتنے جنم لیتے ہیں جن کا حل قرآن و سنّت کی روشنی میں سائل کے حالات، کیفیت، صحت اور معیار کو جانچتے ہوئے دیاجاتا ہے۔ شمسی ماہ وسال کی تبدیلی سے قمری مہینوں کی عبادات کے موسم میں فرق آجاتا ہے، لیکن عبادات کے احکام کو بقا ہے۔ دنیا کے کسی مذہب میں عبادات کی کمی بیشی کا تعلق گرمی سردی سے نہیں ہے البتہ تکلیف کی صورت میں احتیاط کا حکم ہے۔ عرب گرم ملک ہے اور ان کی معیشت کا مدا ر تجارت پر تھا، فرضیت کا حکم ان کے لیے نیا تھا، چنانچہ سفر اور مرض کی رخصت دی جن کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث سے کردی جس میں تغیر اور تبدیلی ممکن نہیں اور ساتھ یہ بھی فرمادیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ:ـ ’’جس نے رمضان کا روزہ بغیر کسی مرض یا شرعی عذر کے چھوڑا، تو اگر وہ ساری زندگی بھی روزہ رکھتا رہے تو وہ رمضان کے روزہ کا بدل نہیں ہوسکتا۔ ‘‘

عصرِ حاضر میں روزے گرمیوں کے موسم میں آرہے ہیں، اور یہ کوئی پہلی دفعہ گرمی کے موسم میں نہیں ہیں بلکہ ہر صدی میں سیاروں اور ستاروں کے اپنے محور میں گردش سے موسمی تغیر ابدی ہے۔ دن اور موسم اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں۔ اگر گرمی سردی کے روزوں کا الگ قانون ہوتا تو اس کا ذکر واضح قرآن میں موجود ہوتا۔ ہم اللہ کے قانون میں خود سے ردو بدل کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ چند روز سے جس نوعیت کے مسائل پیدا ہورہے ہیں(امتحانات کاگرمیوں میں آنا، گرمی کے موسم میں روزوں کا آنا وٖغیرہ)ان کا غیر شرعی اور قرآن و سنت کے خلاف حل بتا کر نوجوان اذہان کو متوجہ کرکے، اپنے نظریات کا حامی بناتے ہوئے اسلام کے حقیقی و شرعی خاکہ سے متنفر کرتے ہوئے نظریاتی اور علمی انداز سے جاہل بنانے کی ایک ایسی سازش ہے جو slow poisonکاکام دے رہی ہے۔ اور امّت کے نئے اذہان کوtrapکرتے ہوئے فرضیت کے تقدّس کو پامال کرنے کا تمہیدی آغاز نظریاتی، منطقی اور فلسفیانہ انداز میں جائز کرنا شروع کیا جا چکا ہے۔

غیر شرعی حل بتانادین میں موشگافیاں کرنے کے مترادف ہے۔ فرض کو ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے مگر یہ کہ عذر شرعی اورمرض شدید نوعیت کا ہو تو شریعت قضا ء کا حکم دیتی ہے۔ جس پر علماء اور اطباء کا اتفاق ہے۔ فرضیت کھیل تماشہ نہیں ہے کہ ذرا سی مشقّت میں چھوڑ دیا جائے۔ خدانخوستہ اگر ان غیر شرعی فتووں پر عمل ہوا تو دوسرے امور جن میں مشقت پائی جاتی ہے اور ان کا تعلق ہماری روز مرہ زندگی سے ہے تو ان کو بھی قضا کرنا شروع کردیا جائے گا، یوں پوری امّت تدریجاًفرضیت کے تقدس کو پامال کرنا شروع کردے گی جو بہت خطرناک بات ہے۔

غلط انداز سے قرآن و سنت کی تفسیر و تشریح بیان کرنے والے افراد کا پہلے خود معیار جانچا جائے کہ ان کے سابقہ فتا ویٰ کیا دین کے شرعی زمرے میں آتے ہیں یا غیر شرعی زمرے میں آتے ہیں کیونکہ شعور کی نعمت سے ہر مکلف مسلمان کو نوازا گیا ہے جو حق و باطل میں تمیز کا فرق سمجھتی ہے۔