خان صاحب! چور رستے سے نہ آئیں - احسن سرفراز

عنایت خان خیبر پختونخوا کی اتحادی حکومت میں جماعت اسلامی کی طرف سے سینئر وزیر و وزیر بلدیات ہیں۔ جواں سال عنایت خان وہاں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے بنائی گئی تقریباً درجن بھر کمیٹیوں کے سربراہ بھی ہیں۔ نیز اس سے پہلے وہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ اپنی ذہانت، جانفشانی و ایمانداری کی بدولت عمران خان اس سے پہلے عنایت خان کو اپنی جماعت کے وزراء کے لیے مثال اور تبدیلی کی چابی قرار دے چکے ہیں۔ لیکن اب خبریں ہیں کہ عمران خان نے اپنے کچھ لوگوں کے ذمہ یہ ٹاسک لگایا ہے کہ آئندہ صوبائی حکومت میں عنایت خان کو وزارت اعلیٰ کا لالچ دے کر کسی طرح تحریک انصاف میں لایا جائے۔ اس پیشکش کے منظر عام پر آنے سے جہاں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت اسلامی کی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ عمران خان جماعت اسلامی سے براہ راست آئندہ الیکشن میں کسی اشتراک عمل کی بجائے جماعت اسلامی کے لوگوں کو توڑنے کے مشن پر گامزن ہیں۔

ہو سکتا ہے عمران خان کی یہ خواہش پوری بھی ہو جائے اور عنایت خان خیبر پختونخوا کے اگلے وزیر اعلیٰ بن جائیں لیکن تحریک انصاف کی طرف سے نہیں لیکن جماعت اسلامی کی طرف سے کہ جس نے زمانہ طالب علمی سے ہی عنایت خان جیسے ہیرے کی تراش خراش کی اور اسے وزارتوں تک پہنچایا۔ اس لیے عمران خان کو چاہیے کہ اپنی اتحادی جماعت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے اس کے ساتھ مل کر اگلا الیکشن جیتنے کا کوئی فارمولا پیش کریں، تاکہ ایک عنایت خان ہی نہیں جماعت کے لاکھوں کارکنان آپ کے شانہ بشانہ سٹیٹس کو کی پرانی نشانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ ورنہ یہ ذہنیت جماعت کے کارکن کی نظر میں آپ کی عزت کوکم کرے گی کیونکہ تبدیلی سازش سے نہیں بلکہ خلوص اور نیک نیتی سے کی گئی پلاننگ سے ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا کوئی مقابل نہیں - اوریا مقبول جان

اگر خیبر پختونخوا میں ایک وزیر دن رات کی محنت اور منصوبہ بندی سے آپ کی حکومت کے پاس دکھانے کے لیے کچھ کارکردگی ہے تو اس کی وجہ وہ اہلیت ہے جو جماعت اپنی ٹیم کے ہر فردمیں پیدا کرتی ہے خواہ وہ عنایت خان ہو، ناظم کراچی نعمت اللہ خان ہو یا پھر سراج الحق۔ اگر آپ کے پاس اچھی پلاننگ اور دیانتداری سے کام کرنے والی ٹیم کی کمی ہے تو اس کے لیے جماعت کو کوئی قابل عمل فارمولا پیش کریں، جس سے یہ کمی دور ہو۔