عبادتِ روزہ، بندگی کے چار مخصوص عناصر – حامد کمال الدین

عبادتِ روزہ میں بندگی کے یہ چار معانی خصوصی طور پر پائے جاتے ہیں: صبر، شکر، فقر اور ذکر۔ ذیل میں اس کی کچھ تفصیل دی جاتی ہے:

صبر

عبادتِ روزہ پر صبر کا ایک خاص اطلاق ہوتا ہے۔ رُکے رہنا، برداشت کرنا، ڈٹ جانا، منتظر ہونا، سہتے چلے جانا… جس کے پیچھے ایک عظیم ہستی کی چاہت ہو اور جس کی پشت پر کوئی اعلیٰ مقصد کارفرما ہو، صبر کہلاتا ہے۔ روزہ صبر ہی کی ایک صورت ہے یہاں تک کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ رمضان کا ذکر شھر الصبر یعنی صبر کا مہینہ کے نام سے کرتے ہیں (مسند احمد: حدیث 19435، حدیث 19811، سنن النسائی: حدیث 2366، سنن ابن ماجۃ: حدیث 1731، سنن ابی داود: حدیث 2073)۔ چنانچہ روزہ اور صبر قریب قریب ہم معنی ہوجاتے ہیں۔

صبر کی دو صورتیں ہیں: اضطراری اور اختیاری۔ روزہ کا شمار دوسری صنف میں ہوتا ہے۔

اضطراری صبر جانور بھی کرتے ہیں۔ کافر بھی کر لیتے ہیں۔ یعنی جہاں آدمی کا بس ہی نہ چلے وہاں ’صبر‘۔ یہ عبادت نہیں مجبوری ہے۔ صبر جو عبادت ہے وہ ایک اختیاری فعل ہے۔ صبر کی اختیاری صورت، یعنی جہاں انسان کا بس چلتا ہو اور کچھ کرنے یانہ کرنے پر اس کا پورا اِختیار ہو وہاں انسان کا آپ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو خدا کا محدود اورپابند کر لینا اور اس پابندی کو خوشی سے قبول کرنا اور پورے اعتماد سے سہہ جانا اور یہ کرکے اس ذات کبریائی کی نگاہ میں جچ جانا۔ صبر کا یہ مفہوم اگر واضح ہو جائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ صبر دراصل عبادت اور بندگی کا ہی دوسرا نام ہے۔ پس صبر عبادت ہے اور عبادت صبر۔

فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ (مریم: 65)

”پس تم اس کی بندگی کرو اور اسی کی بندگی میں صبر وثابت قدمی اختیار کر“۔

یہ ایک ادا ہے جس کا بدلہ حساب رکھے بغیر دیا جاتا ہے:

إِنَّمَا یوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَیرِ حِسَابٍ (الزمر: 10)

”یہ صبر کرنے والے ہی ہیں جو اپنا اجر بلا حساب پائیں گے“۔

کل عمل ابن آدم یضاعف: الحسنۃ عشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف، قال اللّٰہ عزوجل: اِلا الصوم، فانہ لی و اَنا اَجزی بہ، یدع شھوتہ وطعامہ من اَجلی (صحیح بخاری: کتاب الصیام، باب فضل الصیام، حدیث 1945)

”آدم کا بیٹا اپنے ہر عمل کا کئی کئی گنا پاتا ہے۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک جا پہنچتی ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے: سوائے البتہ روزے کے۔ یہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی بس میرے ہی دینے کا ہے۔ بندہ اپنی لذت و مزہ اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑ لیتا ہے“۔

یوں بندگی صبر اور صلاة سے عبارت ہے۔ سورة البقرہ جس میں پانچوں ارکانِ اسلام کا خوب خوب ذکر ہے اور اس انداز کی جامعیت رکھنے میں قرآن کی یہ ایک منفرد ترین سورت ہے، صبر اور صلوة کا دوبار اکٹھا ذکر کرتی ہے:

وَاسْتَعِینُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَإِنَّهَا لَكَبِیرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِینَ الَّذِینَ یظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلاَقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَیهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: 46، 45)

”اور صبر اور نماز کے۔ ساتھ مدد طلب کرو۔ یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ضرور ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے“۔

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُواْ اسْتَعِینُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِینَ (البقرہ: 153)

”اے ایمان والو! صبر (ثابت قدمی) اور نمازکے ذریعے مدد چاہو۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

چنانچہ صبرِ اختیاری کی ایک بہترین صورت روزہ ہے۔ بلکہ صبر اختیاری کی ایک بہترین مشق بھی۔ سب کچھ انسان کے پاس ہے۔ نفس میں اس کی طلب بھی خوب ہے۔ ضرورت بھی ہے۔ مگر انسان آپ ہی اپنے اختیار سے اور خدا کی محبت میں اس سے یوں پرہیز کئے ہوئے ہے گویا یہ کوئی فرشتہ ہے۔ کیونکہ یہ بندگی کے ایک خاص مفہوم کا مجسم عکس بننا چاہتا ہے اور بھوک پیاس کی اسی کیفیت میں خوشی خوشی دن پار کر دیتا ہے۔ مگر اس کا یہ فعل رزق سے بے رغبتی نہیں بلکہ رازق سے اپنی رغبت بتانے کا ایک طریقہ ہے جو اِس کو خدا کی جانب سے سکھایا گیا ہے۔ رزق سے بے رغبتی ہوتی تو یہ صبح پو پھٹنے سے بھی پہلے اٹھ بیٹھنے کا روادار نہ ہوتا اور رات کے اس آخری پہر میں خدا کا رزق کھانا اور اِس پر اُس کا شکر کرنا یہ اپنے حق میں باعثِ برکت نہ جانتا اور نہ سورج چھپتے ہی ایک لمحہ تاخیر کئے بغیر خدا کا نام لے کر خدا کا رزق کھانے اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا اس کو حکم ہوتا۔

پس رزق سے بے اعتنائی نہیں۔ یہ دراصل رازق کی طمع اور چاہت ہے۔ یہ کھانے پینے سے بےنیازی نہیں بلکہ کھلانے والے کو کھانے پر ترجیح دینے کا ایک اظہار ہے۔ کھانا پینا اگر ایک زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہے تو رازق کو رزق پر مقدم جاننا بھی پھر زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہونا چاہیے اور عمل سے ہی ثابت کر دی جانے والی بات۔ رازق کو رزق پر ترجیح دینے کی ایک عملی صورت اگر زکوٰة اور صدقہ ایسی مالی قربانی ہے تو اس کی ایک دوسری صورت روزہ رکھ کر… طویل ساعتیں آپ اپنی مرضی سے بھوکا اور پیاسا رہ کر مالک کےلیے اپنے لطف اور لذت کی قربانی ہے۔

ان سب جہتوں سے انسان اپنے آپ کو رضاکارانہ خدا کا پابند کرتا ہے اور اپنی بندگی کا یہ پیغام دے کر اس سے اس کے فضل کا خواستگار ہوتا ہے حالانکہ یہ پابندی اختیار نہ کرنے کی اس کو زندگی زندگی پوری آزادی ہے۔

شکر

شکر بنیادی طور پر نعمت کی قدردانی ہے اور منعم کی احسان مندی۔ نعمت سے انسان کی لطف اندوزی عموماً اس کو نعمت کی قدردانی اور منعم کی احسان مندی کی جانب متوجہ نہیں ہونے دیتی۔ اس کی نوبت عموماً تب آتی ہے جب وہ نعمت ہی سرے سے جاتی رہے۔ مگر یہ صبر کا موقعہ ہوتا ہے۔ البتہ اگر آپ کے اور ان نعمتوں میں سے کسی ایک کے مابین جو آپ کو لا تعداد حاصل ہیں محض ایک وقتی فاصلہ آجائے تو آپ نعمتوں کی قدر بھی کر لیتے ہیں اورمنعم کے فضل کا اعتراف بھی خوب کرتے ہیں جبکہ اس نعمت سے بھی آپ محروم نہیں ہوئے ہوتے۔ ایک چیز آپ کے پاس بھی رہی اور آپ اسے کھو کر دوبارہ پا لینے کی کیفیت سے بھی گزر گئے۔

اس لحاظ سے روزہ صبر ہی نہیں روزہ شکر بھی ہے۔ آپ کی یہ بھوک اور پیاس جو آپ نے خود اپنی مرضی سے مالک کی خاطر اختیار کی اس کے شکر واحسان مندی کی بھی یاد دہانی بن جاتی ہے۔کسی نعمت کے یاد آنے کےلیے اس سے کچھ فاصلہ ہو جانا بسا اوقات ضروری ہو جاتا ہے۔ روزہ اس بات کا ایک قدرتی انتظام ہے بلکہ اس طرز احساس کی ایک زبردست مشق بھی۔ آپ کا روزہ رکھنا اگر ایک مشینی عمل نہیں تو کچھ گھنٹوں کی بھوک اور پیاس آپ کے حق میں ایک بہت ہی بامعنی چیز ہے۔ یہ آپ کو بار بار کچھ پیغام دیتی ہے اور آپ کو بندگی کے کچھ ایسے نفیس معانی بیان کرکے دیتی ہے جس کا بیان کرنا کسی اور چیزکے بس میں نہیں۔

فقر

تیسری چیز فقر ہے۔

یا أَیهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِی الْحَمِیدُ (فاطر: 15)

”لوگو!تم ہی خدا کے محتاج ہو، خدا ہی بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔

فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف خدا کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں خدا کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت۔

البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو اِس کی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اِس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحۂ حاضر کا اسیر جاہلِ محض ہے۔ ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل خدا کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا وہ خدا کی معرفت سے بےبہرہ۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف، خدا کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا معترف بھلا کیونکر ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کےلیے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔

اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل خدا کے غنیِ مطلق اور لائقِ حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رُواں رُواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنیِ مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کےلیے دستِ سوال درازکرتی ہے۔

چنانچہ روزہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے ___ اور بھوک بندے کی صفت ہے ___ جب تک کہ خدا اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اُس کی جو اِس کی بھوک کا مداوا اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے۔ یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اُس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اُس کی تعریف کرنا اِس کے پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! خدا کی تسبیح، خدا کی بندگی، خدا کی حمد اور خدا کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔ اس لئے کہ وہ آپ اپنی ذات میں قابل ستائش اور لائقِ حمد ہے اور یہ آپ اپنی ذات میں احسان مند اور اُس کا ثنا خوان! وہ دے تو اُس کے دینے پر اُس کی تعریف۔ وہ کسی وقت نہ بھی دے تو اُس کی حکمت پر پیشگی اعتماد اور اُس کی دانائی پر اُس کی تعریف اور اُس کے فیصلے پر کامل اطمینان اور اس سے بھی بہتر صلہ پانے کی آس۔ وہ دے کر کھانے سے روک دے تب بھی اُسی کی تعریف اور اُس کا حکم بسروچشم!

پس یہ ایک غیر مشروط بندگی ہے۔ ہر حال میں خدا کی تعریف اور خدا کی احسان مندی ہے اور خدا کی طلب میں سچا ہونے کی ایک عاجزانہ مگر ایک عملی تعبیر۔

ذکر

ذکر کی بہترین حالت گو نماز ہے مگر روزہ بھی ذکر ہی کی ایک صورت ہے۔

بھوک اور پیاس انسان کے محسوسات میں قوی ترین ہیں۔ جنسی خواہش ایک مضبوط ترین جبلت ہے۔ پھر یہ انسان کے اندرونی محسوسات ہیں نہ کہ خارجی عوامل۔ خارج سے انسان کو کرائی جانے والی یاددہانی ہرگز اس قدر موثر نہ ہوگی جس قدر ’یاد دہانی‘ کے یہ اندرونی اسباب۔ انتڑیاں خالی ہوں تو وہ بہرحال انسان سے کھانا مانگتی ہیں اور جب تک کھانا مل نہ جائے تب تک بولتی ہیں۔ بھوک کی ایک کھینچ ہے۔ پیاس اپنا آپ بتانے سے رکتی ہی نہیں۔ اس کے جواب میں آدمی جب آدمی اپنی ان انتڑیوں کو بتاتا ہے کہ یہ خدا کی بندگی پر مامور ہے اور یہ کہ مالک کے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اِس کے اپنے پاس ہے… تو یہ ایک سبق کی یاددہانی ہوتی ہے۔ یوں روزہ اور روزہ کا ہر ہر لمحہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور پورا دن اس بات کی مشق کرتا اور اس سبق کا اعادہ کرتا ہے: وَلَلْآخِرَةُ خَیرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى

سو یہ ایک ذکر ہے جو انسان لب ہلائے بغیر کرتا ہے اور پورا دن اس میں گزار دیتا ہے!

سبحان اللہ! بھوک اور پیاس کا ایسا استعمال کسی دین اور کسی اخلاق فلسفہ نے نہ کرایا ہوگا جیسا کہ شریعت اسلام نے کرایا: كُتِبَ عَلَیكُمُ الصِّیامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ بھوک اور پیاس اور جنسی تسکین کی خواہش جس انداز سے ایک قدرتی عمل ہے اور اس کی بابت انسان کو کسی کے ’یاد‘ کروانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ انسان کو آپ اپنی طرف متوجہ کرتی اور آپ اپنی یاد دلاتی ہے، اس کے اسی قدرتی زور کو اسلام اپنے رخ پر لے آتا ہے اور اس کی تمام تر شدت کو بہت خوبصورتی سے اپنے حق میں ا ستعمال کرتا ہے۔ جیسے ہی انسان کی حیوانی خواہشات نے زور مارا ویسے ہی انسان کی روحانی قوت اور فکری مزاحمت حرکت میں آگئی! جونہی جسم کی کسی جبلت نے اپنا قدرتی عمل کیا ویسے ہی دل ودماغ نے ایک شعوری عمل کا آغاز کردیا۔ جسم انسان کو اپنی وقتی ضرورت بتائے گا اور انسان اس کو اپنی ابدی ضرورت اور اپنی بندگانہ حیثیت بتا کر خاموش کرائے گا۔ نہ جسم اپنا کام کرنے اور اپنی خواہش بتانے سے رکے اور نہ قلب وذہن کو اپنے اس شعور اور روحانی عمل سے فراغت ہو۔ یوں دن کی طویل ساعتیں انسان کے ملکوتی خصائص اس کے بہیمی خصائص پر پوری طرح حاوی رہتے ہیں اور اسی کیفیت میں انسان صبح سے شام کر لیتا ہے…

تاآنکہ افطار کا وقت آتا ہے۔ افطار وہ منفرد ’کھانا‘ ہے جو انسان اپنی مرضی سے موخر نہیں کر سکتا۔ گویا اب یہ اس کی ضرورت نہیں! یہ بھی اس کو مالک ہی کا حکم ہے! یہ شخص جو پورا دن صبر اور استقامت اور عفت اور وقار کا نمونہ بنا رہا، افطار کےلیے اس کی رغبت اور عجلت بھی اب دیدنی ہے! پورے دن کے اس طویل تربیتی عمل کے بعد کم از کم اس وقت یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کا کھانا اور پینا محض جسم کے مطالبہ کی تنفیذ نہ ہو بلکہ اس بار یہ حکم اس کو اوپر سے ہی ملے! کیوں!؟

تاکہ واضح ہو کہ مسئلہ دراصل ’حکم‘ کا ہے…

تاکہ واضح ہو کہ یہ ایک بھرپور انسان ہے اور کھانا اس نے کسی بے دلی یا بے رغبتی یا دنیا بیزاری کے باعث نہیں چھوڑ رکھا تھا بلکہ معاملہ یہ ہے کہ اس کی رغبت ’دنیا‘ سے بڑی ہے اور وہ رغبت اب بھی کہیں نہیں گئی ہے…

تاکہ واضح ہو کہ یہ کوئی ترکِ دُنیا کا مظاہرہ نہ تھا بلکہ کسبِ آخرت کا عمل تھا…

اور تاکہ اس کو یا کسی اور کو یہ غلط فہمی نہ ہو جائے کہ ’بھوک‘ میں خود اپنے اندر کوئی خوبی ہے…

بھوکا رہنا فی نفسہ کوئی بہادری نہیں۔ پیاسا رہنے کی خود اپنے آپ میں کوئی فضیلت نہیں۔ وہ اخلاقی فلسفے جو بھوک اور پیاس کی کچھ فی ذاتہٖ فضیلت بتاتے ہیں وہ دراصل فضیلت کی کوئی بنیاد بھوک اور پیاس کے سوا اپنے پاس نہیں رکھتے۔ یہ مفلس ادیان ہیں۔ بھوک کو فضیلت بخش دینے والی کوئی چیز ہے تو وہ رب العالمین کی بندگی ہے۔ اور جب فضیلت کی اصل بنیاد یہ بندگی ہے تو پھر یہ جہاں بھی پائی جائے۔ یہ بھوک پر صادق آئے تو بھوک عبادت اور کھانے پینے پر صادق آئے تو کھانا پینا عبادت!

سبحان اللہ! ضرورت آدمی کی اپنی اور حکم خدا کا! تاکہ واضح ہو: مالک اپنے بندے کی ضرورت سے غافل نہیں بلکہ بندے کی ضرورت کا اُس کو بندے سے بڑھ کر پاس ہے… اور جو آج اپنے بندے کی ضرورت سے غافل نہیں وہ کل اپنے بندے کےلیے اپنے پاس کیا کچھ نہ رکھتا ہوگا جب بندہ محض ایک دن کا روزہ نہیں بلکہ عبادت کی پوری زندگی گزار کر اُس کے روبرو ہوگا اور جس کو کہ اُس نے نام ہی ’صلے کا دن‘ دیا ہے اور جو کہ ہمیشگی کا دن ہے! یہی وجہ ہے کہ ’روزہ کھلنے‘ اور ’خدا سے ملنے‘ کا ایک ساتھ ذکر ہوتا ہے:

للصائم فرحتان: فرحة عند فطرہ وفرحة عند لقاءربہ (صحیح بخاری: حدیث 1945)
”روزہ دار کے نصیب میں دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کی روزہ کھولنے کے وقت اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت“۔

چنانچہ افطار کی محض ’اجازت‘ نہیں بلکہ ’ہدایت‘ ہوتی ہے! تاکہ بندہ اپنی بندگی کو کسی ایک ہی صورت میں محصور نہ سمجھ لے… اور تاکہ بندگی کا ایک خوبصورت مضمون محض اپنے ایک پیرائے کی اوٹ میں نہ چلا جائے… اور تاکہ بندہ اپنے مالک کا صحیح تعارف بھی کر لے جو صرف ’پابندیاں‘ نہیں لگاتا بلکہ فضل بھی کرتا ہے۔ بلکہ اس کی عائد کردہ ’پابندیاں‘ سب کی سب اس کے لامتناہی فضل کا ہی پیش خیمہ ہیں… اور تاکہ اس پر ایمان اور بندگی کا ایک اور لطیف معنی بھی واضح ہو اور وہ یہ کہ خدا کو پانا ’عمل‘ کے زور پرنہیں بلکہ خدا کے آگے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے میں ہے اورمطلق اس کے فضل اور رحمت کا سہارا چاہنے میں:

واعلموا اَنہ لن ینجوا اَحدمنکم بعملہ۔ قالوا: یا رسول اللّٰہ ولا اَنت! قال: ولا اَنا الا اَن یتغمدن ¸ اللّٰہ برحمة منہ وفضل (4 صحیح مسلم: حدیث 5041)

”خوب جان لو! تم میں سے کوئی بھی محض اپنے عمل سے پار نہ لگے گا“ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں میں بھی۔ سوائے یہ کہ خدا ہی اپنی رحمت اور فضل سے مجھ کو اپنی لپیٹ میں لے لے“۔

پس روزہ عاجزی ہے اور ’بندگی‘ کی ایک منفرد یاد دہانی۔ سحری میں تاخیر اورافطار میں عجلت روزہ کے اندر بندگی کا رنگ بھر دینے اور بندگی کی اس تصویر کو مکمل کردینے میں بےحد اہمیت کی حامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک بات میں بندگی کے بے شمار مضامین پوشیدہ ہیں۔

وخیر الھَدۡیِ ھَدۡیُ محمد ﷺ

وشرُّ الامورِ مُحدَثاتُھا…

Comments

FB Login Required

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں
  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عمدہ تحریر ہے۔
    ایک لفظ لکھا ہے کہ: “نوکروں” کا فطرانہ بھی دینا ہے، یہ محل نظر ہے؛ کیونکہ آج کل کے نوکر اور ماضی کے غلاموں میں زمین آسمان کا فرق ہے جو محترم جناب عادل سہیل ظفر صاحب سے یقینا مخفی نہیں ہے، شاید یہ “سبقت ٹائپنگ” ہے، اسے درست فرما لیا جائے تو بہتر ہوگا۔

Protected by WP Anti Spam