مسیحا یا قصائی؟ عثمان حبیب ۔ کراچی

میں نام اگرچہ "لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی" کا لوں گا کیونکہ واقعہ اسی کا ہے، البتہ یہ کہانی کم وبیش ہر اس قصائی خانے کی ہے جسے "ہسپتال" کہاجاتاہے اور خصوصاً ہر اس مذبح خانے کی ہے جسے "پرائیویٹ ہسپتال" کہتے ہیں۔جہاں ڈاکٹروں کے روپ میں قصائی،انسانوں کو مریض سمجھنے کی بجائے بھیڑ بکری سمجھ کر کند چھری سے ذبح کرنے کی اپنی پوری کوشش کرتے ہیں۔

واضح رہے یہ کسی ایک ہاسپٹل یا کسی ایک ڈاکٹر کی بات نہیں ، ان ظالموں کے ہاتھوں لٹنے والوں کی لمبی داستان ہے۔ ہمارے نہایت ہی محترم اور بے پناہ محبت فرمانے والے مولانا فدا حسین صاحب نہایت سخت بیمار ہیں۔

ہوا کچھ یوں کہ اسے پیٹ درد کی شکایت ہوئی جو دراصل اپینڈکس کا درد تھا، مگر ڈاکٹرز نے بجائےمرض کی تشخیص کےمعمول کا پیٹ درد سمجھ کر ڈرپس لگانی شروع کردیں۔ تقریبا دو دن تک پیسوں کی لالچ میں ڈاکٹرز ان کی صحت سے کھیلتے رہیں۔اس دوران مولانا فدا حسین صاحب عجیب کیفیت میں رہیں ، بار باربے ہوش ہوتے رہیں ۔جب بھی ہوش میں آتے تو الٹیاں کرنی شروع کردیتے۔پھر جب معاملہ سیریس ہوگیاتو ڈاکٹروں نے اپینڈکس کا بولا اور آپریشن کیا ۔ آپریشن چونکہ لیٹ کیا گیا تو وہ پیچیدہ ہوگیا ، لہٰذا آپریشن کے بعد بھی طبیعت سنبھلی نہیں۔ پھر انہیں کراچی لایا گیا اور لیاقت نیشنل کے قصائیوں کے حوالے کیا گیا جنہوں نے محض چند حقیر سے ٹکوں کے خاطر پہلے سے کئے ہوئے سارے ٹیسٹ مسترد کردیے اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے مختلف بہانوں سے طرح طرح کے ٹیسٹوں کا کہہ کرہتھیا لیے۔ لیکن ان سب کے باوجود بھی مزید پیسے ہڑپنے کے لیے ڈاکٹر نما قصائی کوئی حتمی بات بتانہیں رہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ بس تھوڑا سا انفیکشن ہے،کبھی کہتے ہیں سرجری ٹھیک نہیں ہوئی پھر سے کرنی پڑے گی۔ایک نے تو کہا کہ انہیں ہارٹ اٹیک کامسئلہ ہے، دل میں پانی اور کسی رگ میں خون جم گیا ہےحالانکہ الحمدللہ مولانا فدا صاحب کو ایسی کوئی بیماری نہیں ہے۔ اب تک ڈیڑھ سے دو دن میں تقریباً دولاکھ سے زائد روپے خرچ ہوچکے ہیں جس کا بظاہر کوئی مصرف نظر نہیں آرہا کہ کس مد میں اور کہاں خرچ کیے گئے،حالانکہ آپریشن تو پہلے سے ہوچکا ہے۔

آج رات جب طبعیت تھوڑی سنبھلی اور ساتھی عیادت کرنے گئے تو ملاقات پر بتایا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے تین ڈاکٹرزمیرے سرہانے کھڑے آپس میں انگلش میں گفتگو کرنے لگے (انگلش میں اس لیے کہ مولوی ہے سمجھے گا نہیں) گفتگو میں ایک نے دوسرے کو کہا کہ اس کو کیا ہوا ہے ؟

دوسرا بولا: ٹھیک ہے، معاملہ نارمل ہے اب۔

پہلے نے کہا: جب ٹھیک ہے اور کوئی مسئلہ نہیں تو چھٹی نہ دے دی جائے اسے؟

تیسرا بولا: کہ نہیں ابھی نہیں بلکہ پیر کو چھٹی دیں گے اسے ۔ "مریض اتنی آسانی سے تو ہاتھ آتے نہیں، اس لیے دو تین دن اور رہنے دیں۔"

ملاحظہ فرمائیں :"مریض اتنی آسانی سے تو ہاتھ آتے نہیں"۔ یہ الفاظ ان صاحب کے ہیں جو قوم کا مسیحا کہلاتاہے، جنہیں ان کے شعبے والوں نے "ڈاکٹر" کے محترم نام سے نوازا ہے، جنہیں لوگ ہمددرد سمجھتے ہیں ، جن سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ لیکن وہ آج پیسوں کی لالچ میں اندھا ہوکر قارون بنا بیٹھاہے۔ شرم وحیا جن سے دور بھاگتے ہیں۔ انسانیت کے نام پر جو داغ بن چکا ہے۔ جن کی عقل پر شیطان غالب آ گیا ہے۔ کیا پیسہ اتنا قیمتی ہوگیا جس کے لیے خوفِ خدا بھی نہ رہا؟ مال کی لالچ میں مسلمان کی بھی کوئی حیثیت نہ رہی؟ چند ٹکوں کی خاطر انسانیت کو بھی خیر باد کہہ دیا؟کیا فائدہ ایسی "تعلیم" کا جو آپ کو انسان تک نہ بناسکی۔ایسی ڈگری کا کیا کرنا جو آپ میں شعور تک نہ لاسکی۔ ایسی "ڈاکٹری" کا بھی کیا فائدہ جو آپ کو ہمدرد کے بجائے لالچی بنادے۔

مانا کہ میڈیکلی تعلیم کے دوران آپ سے لاکھوں خرچ ہوئیں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ ان کا بدلہ بے چاری غریب عوام سے لیں۔ اگر آپ بھی یہ سب کرنے لگے جو آپ کے ساتھ ہوا تو آپ میں اور ان میں فرق کیا رہ جائے گا؟ جائیے ان کا گریبان پکڑیے ، غریب عوام سے کیا بدلہ لینا؟؟؟

آخر کب تک آپ رہبر کے روپ میں رہزن بن کر لوگوں کو لوٹتے رہیں گے؟ کب تک مسیحا کی شکل میں قصائی بن کر انسانیت کو ذبح کرتے پھریں گے؟ کب تک مریض کو "کسٹمر" سمجھ کر اس کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے رہیں گے؟

آج کسی غریب کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں کیا آپ کبھی مجبور نہیں ہوسکتے؟ کوئی آج آپ کا محتاج ہے کیا آپ کل کسی کے محتاج نہیں ہوسکتے؟ کیا یہ سب حالات آپ نہیں آسکتے؟ دل میں ذرا بھی اللہ کا خوف نہ رہا؟ قبر میں نہیں جانا ؟روزِ محشر کو بالکل ہی بھلا بیٹھے؟ قیامت کے دن اللہ کے آگے پیش نہیں ہونا؟ اللہ تعالیٰ کو حساب کتاب نہیں دینا؟

خدارا! کسی غریب سے نہ کھیلیں۔ کسی کی جیب پر نظر رکھنے کی بجائے اس کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں۔مریض کو کسٹمر سمجھ کر اسے لوٹنے کی بجائے اس کی مدد کریں۔ غریبوں ، لاچاروں کی دعائیں لیں۔خود کو حقیقی اور سچا مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش کریں دنیا نے تو رہ جانا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */